’محفوظ رہنا چاہتے ہو تو خلیج فارس سے نکل جاؤ‘، ایران کے وزیر خارجہ کی امریکہ کو وارننگ

عباس عراقچی نے کہا کہ ایران کی طاقتور افواج کسی بھی حملے کو بغیر جواب دیئے نہیں چھوڑیں گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں وارننگ دی کہ خلیج فارس کی تاریخ میں باہری طاقتوں کے بُرے انجام کی کئی مثالیں ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

مغربی ایشیا میں تقریباً ہر روز کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔ اسی دوران ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے امریکہ کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ محفوظ رہنا چاہتا ہے تو اسے خلیج فارس کو چھوڑ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج کسی بھی حملے یا دھمکی کا جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہیں۔

عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر پوسٹ کر کے کہا کہ جنگ کے میدان میں ناکام رہنے کے بعد امریکہ نے ایران کے عزائم کو سمجھنے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران کی طاقتور افواج کسی بھی حملے کو بغیر جواب دیئے نہیں چھوڑیں گی۔ اس کے ساتھ ہی انہوں وارننگ دی کہ خلیج فارس کی تاریخ میں باہری طاقتوں کے بُرے انجام کی کئی مثالیں ہیں۔


ایرانی وزیر خارجہ کا بیان ایسے وقت آیا ہے جب امریکی فوج نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی شروع کی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) کے مطابق امریکی فورسیز نے ایران کے خلاف اپنے دفاع میں حملے شروع کئے ہیں۔ سینٹ کام کا کہنا ہے کہ یہ کارروائی اس واقعہ کے جواب میں کی گئی ہے جس میں ایران نے امریکی فوج کے اپاچے ہیلی کاپٹر کو مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔ سینٹ کام نے بتایا کہ صدر کے حکم پر منگل کی شام یہ حملے شروع کئے گئے۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ یہ ایران کی بلا جواز جارحیت کے خلاف متوازن اور محدود جوابی کارروائی ہے۔

اس سے پہلے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران نے آبنائے ہرمز کے اوپر گشت کر رہے ایک امریکی اپاچے ہیلی کاپٹر کو نشانہ بنایا ہے۔ حالانکہ انہوں نے کہا کہ ہیلی کاپٹر میں موجود دونوں پائلٹ محفوظ ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی ہے۔ اس کے باوجود ٹرمپ نے واضح کیا کہ امریکہ اس حملے کا جواب دے گا۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ انہیں فوج سے پتہ چلا ہے کہ ایران نے ایک جدید ترین اپاچے ہیلی کاپٹر کو مار گرایا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ پائلٹ محفوظ ہیں، لیکن امریکہ کے لیے اس حملے کا جواب دینا ضروری ہے۔


غور طلب ہے کہ حالیہ دنوں میں ایران اور اسرائیل کے درمیان بھی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان لگاتار حملے اور جوابی حملے ہو رہے ہیں۔ رپورٹوں کے مطابق اسرائیل نے ایران کے پیٹرو کیمیکل پلانٹ کو نشانہ بنایا جبکہ ایران کی جانب سے اسرائیلی فوجی ٹھکانوں پر حملے کئے گئے۔ ایسے میں امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتا ٹکراؤ پورے مغربی ایشیا میں حالات کو مزید سنگین بنا سکتا ہے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔