’تابکاری کا اخراج ہوا تو صرف تہران نہیں، خلیجی ممالک بھی ہوں گے تباہ‘، ’بوشہر‘ پر حملے کے بعد ایران کا انتباہ
ایران کے مطابق اگر اس کے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ ہوتا ہے تو خلیجی ممالک کو بھی اس کی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تابکاری کا اخراج ہوا تو یہ کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں رہے گا۔

مشرق وسطیٰ میں چھڑی جنگ کو ایک ماہ سے زیادہ ہو چکا ہے، لیکن اب بھی جنگے کے خاتمے کے کوئی آثار نظر نہیں آ رہے ہیں۔ امریکہ-اسرائیل نے ہفتہ (4 اپریل) کو ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ اس میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور پلانٹ سے منسلک عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ اس حملے کے بعد ایران نے امریکہ-اسرائیل کو وارننگ دی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ امریکہ-اسرائیل کی جانب سے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ پر 4 بار حملہ کیا جا چکا ہے۔ اگر یہاں مسلسل حملے ہوتے ہیں تو یہاں سے نکلنے والی تابکاری تہران تک ہی محدود نہیں رہے گی بلکہ خلیج کے دیگر ممالک بھی اس کی زد میں آ جائیں گے۔ یعنی بحرین سے لے کر کویت اور سعودی عرب جیسے ممالک کے شہر اس کی وجہ سے تباہ ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہوا کا رخ ایسا ہے کہ خطرہ ایران کے بجائے خلیجی ممالک کو زیادہ ہوگا۔
واضح رہے کہ ایرانی وزیر خارجہ کے اس بیان کو امریکہ-اسرائیل کے ساتھ ساتھ خلیجی ممالک کے لیے بھی ایک انتباہ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ایران کے مطابق اگر اس کے نیوکلیئر پاور پلانٹ پر حملہ ہوتا ہے تو خلیجی ممالک کو بھی اس کی تباہی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ تابکاری پھیلی تو یہ کسی ایک ملک کی سرحد تک محدود نہیں رہے گی، بلکہ ہوا کے ساتھ آگے بڑھ جائے گی۔ یعنی یہ پورے مغربی ایشیا کے لیے خطرے کی گھنٹی سے کم نہیں ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے پٹروکیمیکل (تیل سے متعلق کارخانوں) پر حملوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن ممالک کی کوشش ایران کے ہتھیاروں کو تباہ کرنا نہیں ہے، بلکہ وہ ایران کی معیشت کو بھی تباہ کرنا چاہتے ہیں۔ عراقچی نے اس دوران مغربی ممالک کو بھی ہدف تنقید بنایا۔ انہوں نے کہا کہ یورپ ان حملوں پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں، جو انتہائی خطرناک ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انٹونیو گٹیرس کو خط لکھ کر ایران کی جوہری تنصیبات پر امریکہ-اسرائیل کے حملوں کی مذمت کی۔
قابل ذکر ہے کہ ایرانی نیوز ایجنسی ’تسنیم‘ کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ہفتہ (4 اپریل) کی صبح ایران کے بوشہر نیوکلیئر پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا گیا، جس میں ایک پروجیکٹائل پلانٹ کے قریب واقع زمین پر گرا۔ پٹرو کیمیکلس ہَب ’مشہر‘ پر بھی حملہ ہوا، جس میں 5 لوگ زخمی ہو گئے۔ نیوز ایجنسی نے بتایا کہ اس واقعے میں ایک شخص کی موت ہو گئی اور پلانٹ سے متصل عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ حالانکہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے اس واقعہ پر اب تک کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔