’معاہدہ نہیں کیا تو اگلے ہفتہ پاور پلانٹس اور پلوں پر ہوگا حملہ‘، امریکی صدر ٹرمپ کی ایران کو نئی دھمکی

مارچ میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران جلد امن معاہدہ کے لیے تیار نہیں ہوا تو امریکہ اس کے پاور پلانٹس اور پانی کے پلانٹ کو نشانہ بنا سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ کی فائل تصویر</p></div>
i

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر ایران کو دھمکی آمیز لہجہ میں کہا ہے کہ اسے بات چیت کی میز پر جلد آنا چاہیے۔ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر ایران بات چیت کی میز پر نہیں آتا تو اگلے ہفتہ امریکہ اس کے پاور پلانٹ اور پلوں پر حملہ کرے گا۔ ’فاکس نیوز‘ کو دیے انٹرویو میں ٹرمپ نے یہ بیان دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ ’’اگلے ہفتے ایران کے لیے حالات مزید خراب ہوں گے۔ ہم ان کے پاور پلانٹس اور پل تباہ کر دیں گے۔ اگر وہ بات چیت نہیں کریں گے تو ہم کارروائی جاری رکھیں گے۔‘‘

یہ پہلی بار نہیں ہے جب ٹرمپ نے ایسی دھمکی دی ہے۔ مارچ میں بھی انھوں نے کہا تھا کہ اگر ایران جلد امن معاہدہ کے لیے تیار نہیں ہوا تو امریکہ اس کے پاور پلانٹس اور پانی کے پلانٹس کو بھی نشانہ بنا سکتا ہے۔ حالانکہ بین الاقوامی قوانین کے مطابق بجلی و پانی جیسی عوامی سہولیات پر حملہ کرنا غیر قانونی مانا جاتا ہے، اور اسے جنگی جرم بھی تصور کیا جا سکتا ہے۔


ٹرمپ کا بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب امریکی فوج لگاتار چوتھے دن ایران پر حملے کر رہی ہے۔ اس کے ساتھ ہی امریکہ نے آبنائے ہرمز کے پاس موجود ایران کے بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی بھی پھر سے شروع کر دی ہے۔ امریکی سنٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے کہا کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی ان فوجی صلاحیتوں کو ختم کرنا ہے، جن کا استعمال وہ آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تجارتی جہازوں پر حملہ کرنے کے لیے کرتا ہے۔

موجودہ حالات یہی ظاہر کر رہے ہیں کہ امریکہ و ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ پوری طرح ٹوٹ چکا ہے۔ امریکی فوج نے ایک بار پھر ایران کے سبھی بندرگاہوں کی ناکہ بندی بھی کر دی ہے۔ شمالی بحر عرب میں ناکہ بندی نافذ کرنے کے لیے کم از کم 19 امریکی جنگی جہاز موجود ہیں، جن میں 2 ایئرکرافٹ کیریئر اور ایک ایمفیبیس اسالٹ شپ شامل ہے، جس پر 1000 سے زیادہ مرین سوار ہیں۔ امریکی سنٹرل کمانڈ نے منگل کو ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ لکھا بھی ہے کہ ’’پورے مشرق وسطیٰ میں سینکڑوں ملٹری ایئرکرافٹ کام کر رہے ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔