’اگر نیتن یاہو ہنگری آتے ہیں تو انہیں گرفتار کر لیا جائے گا‘، نو منتخب وزیر اعظم پیٹر میگیار نے دی وارننگ

آئی سی سی نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ وارنٹ غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے وابستہ ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نیتن یاہو کی فائل تصویر / تصویر بشکریہ ڈی ڈبلیو</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہنگری کے نو منتخب وزیر اعظم پیٹر میگیار نے کہا کہ اگر انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب سے وانٹیڈ (مطلوبہ) کوئی بھی لیڈر ہنگری آتا ہے تو اسے قانون کے مطابق گرفتار کیا جائے گا۔ انہوں نے خاص طور پر اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کا نام لیتے ہوئے کہا کہ یہ قانون ان پر بھی نافذ ہوگا۔ واضح رہے کہ پیٹر میگیار نے 12 اپریل کو ہوئے انتخاب میں وزیر اعظم وکٹر اوربن کو ہرایا تھا، وہ 9 مئی کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے۔

ہنگری کے نو منتخب وزیر اعظم کا یہ سخت موقف سابق وزیر اعظم اوربن کی پالیسی سے الگ ہے۔ اوربن نے پہلے آئی سی سی کے وارنٹ کو ماننے سے انکار کر دیا تھا اور 2025 میں نیتن یاہو کے دورے کے دوران ہنگری کو آئی سی سی سے باہر نکالنے کا عمل بھی شروع کر دیا تھا۔ لیکن یورپ کے حامی رہنما میگیار نے کہا کہ ان کی حکومت اس عمل کو روک سکتی ہے، جس سے ہنگری آئی سی سی کا ممبر بنا رہے گا اور اس کے قوانین پر عمل کرے گا۔ میگیار نے کہا کہ آئی سی سی کے رکن ممالک پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ وانٹیڈ شخص کو حراست میں لیں۔


پیٹر میگیار کے اس بیان کے بعد نیتن یاہو کے ہنگری دورے پر سوال کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہیں 23 اکتوبر کو 1956 کے ہنگری انقلاب کی 70 ویں سالگرہ کی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا اور نیتن یاہو آنے کے لیے راضی بھی ہو گئے تھے۔ لیکن اب گرفتاری کی وارننگ کی وجہ سے ان کا دورہ منسوخ ہو سکتا ہے۔ اس سے اسرائیل اور ہنگری کے درمیان تعلقات کشیدہ ہو سکتے ہیں، کیونکہ ہنگری یورپ میں اسرائیل کا قریبی مانا جاتا ہے۔

واضح رہے کہ آئی سی سی نے نومبر 2024 میں نیتن یاہو اور اسرائیل کے سابق وزیر دفاع یوو گیلنٹ کے خلاف گرفتاری وارنٹ جاری کیا تھا۔ یہ وارنٹ غزہ جنگ کے دوران مبینہ جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم سے وابستہ ہے۔ یہ معاملہ 7 اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد شروع ہوئی اسرائیلی فوجی کارروائی سے منسلک ہے۔ آئی سی سی کا الزام ہے کہ جنگ کے دوران بھوک کو ہتھیار کی طرح استعمال کیا گیا۔ دونوں لیڈران پر کرمنل کیس درج ہے۔ حالانکہ اسرائیل ان الزامات کو غلط قرار دیتا ہے اور کہتا ہے کہ اس نے بین الاقوامی قانون پر عمل کیا۔


قابل ذکر ہے کہ دنیا بھر کے ممالک میں اس معاملہ پر اختلاف ہے۔ بیلجیم، کناڈا اور جنوبی افریقہ جیسے ممالک آئی سی سی کے حکم کو ماننے کی بات کر چکے ہیں، جبکہ ارجنٹائن اور پولینڈ جیسے ممالک اسے نافذ نہیں کرنا چاہتے۔ فرانس اور اٹلی کا کہنا ہے کہ غیر رکن ممالک کے رہنماؤں کو کچھ چھوٹ ملتی ہے، جس کی بنیاد آئی سی سی کی دفعہ 98 ہے۔ یعنی نیتن یاہو کی گرفتاری کا فیصلہ ہر ملک اپنے قانون اور سیاست کے مطابق کرے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔