’حملہ ہوا تو منھ توڑ جواب دیں گے‘، ایرانی صدر کا امریکہ اور اسرائیل کو سخت انتباہ
ایرانی صدر پزشیکیان نے ایک ٹی وی انٹرویو میں کہا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل ہمیں تقسیم اور برباد کرنا چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی ایرانی نہیں چاہتا کہ ملک کے لوگ تقسیم ہوں۔

مشرق وسطیٰ میں کشیدگی عروج پر ہے۔ ایرانی صدر مسعود پزشیکیان نے واضح کر دیا ہے کہ ان کا ملک جنگ نہیں چاہتا لیکن اگرامریکہ اور اسرائیل نے حملہ کیا تو ایران اس کا منھ توڑ جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ اور اسرائیل ہمیں تقسیم اور برباد کرنا چاہتا ہے، لیکن کوئی بھی ایرانی نہیں چاہتا کہ ملک کے لوگ تقسیم ہوں۔ صدر پزشیکیان کا یہ بیان ایک ریکارڈ کیے گئے ٹی وی انٹرویو کے ذریعہ سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے ملک کے اتحاد اور خود انحصاری کو سب سے اوپر بتایا۔
اسرائیل نے پھر سے حملہ کیا تو ایران جوابی حملے کے لیے تیار ہے۔ ایرانی بحریہ خلیج عمان اور بحر ہند میں جنگی مشق کر چکی ہے۔ ایران اسرائیل پر سمندری حملہ کرنے کے لیے بھی مکمل تیاری کر چکا ہے۔ اس مرتبہ ایران نے جنگ سے متعلق اپنی کئی خامیوں کو دور کر لیا ہے اور اپنے اہم ٹھکانوں کی سیکوریٹی چاک و چوبند کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق ایران روس اور چین کی مدد سے اپنے جوہری پروگرام کو آگے بڑھا رہا ہے۔ اپنے جوہری پروگرام کو کامیاب بنانے کے لیے ایران نے اپنی سفارتی حکمت عملی تیز کر دی ہے۔ خامنہ ای کی ایٹمی سرگرمی سے نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ پریشان ہیں۔ ایسے میں مانا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کسی بھی وقت اسرائیل کو حملے کی اجازت دے سکتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اسرائیل اور ایران میں دوسری جنگ کا خدشہ بہت بڑھ گیا ہے۔
واضح رہے کہ 13 جون کو اسرائیل نے ایرانی جوہری ٹھکانوں اور فوجی اڈے پر فضائی حملے کیے تھے جس میں ایرانی فوج کے ٹاپ کمانڈر اور جوہری سائنس دانوں سمیت 1000 سے زیادہ لوگ جاں بحق ہوئے تھے۔ ایران نے میزائل اور ڈرون حملوں کا جواب دیا جس میں درجنوں اسرائیلی لوگوں کی جان چلی گئی۔ اس کے بعد امریکہ نے ایران کے تین جوہری ٹھکانوں پر بمباری کی۔
24 جون کو اسرائیل-ایران کے درمیان جنگ بندی ہوئی۔ حالانکہ جنگ بندی ختم ہونے سے پہلے ایران نے قطر میں امریکی ملٹری بیس پرحملہ کیا۔ ایران میں 600 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی جبکہ 5000 سے زیادہ زخمی ہوئے وہیں اسرائیل میں 28 لوگ مارے گئے اور 3000 سے زیادہ زخمی ہوئے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔