مجھے اچھا لگتا ہے جب پوپ لیو عالمی مسائل پر کھل کر بولتے ہیں، خواہ اس سے عدم اتفاق ہی کیوں نہ ہو: جے ڈی وینس
جے ڈی وینس نے کہا کہ ’’ایک طرف مجھے یہ بات پسند ہے کہ پوپ امن کے حامی ہیں، یقینی طور پر یہ ان کے فرائض میں سے ایک ہے۔ دوسری طرف آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں خدا کبھی تلوار چلانے والوں کا ساتھ نہیں دیتا؟‘‘

امریکی سیاست اور مذہب کے درمیان بحث تیز ہو گئی ہے۔ اسی دوران نائب امریکی صدر جے ڈی وینس کا بیان سامنے آیا ہے۔ انہوں نے پوپ لیو چودہویں کو امن کے پرجوش حامی کے طور پر سراہا ہے۔ حالانکہ انہوں نے پوپ کے حالیہ بیانوں سے عدم اتفاق بھی کیا۔ خاص طور پر ایران تنازعہ اور مغربی ممالک کی فوجی کارروائیوں سے متعلق پوپ کے تبصروں پر جے ڈی وینس نے سوال اٹھائے۔
ایک انٹرویو کے دوران جے ڈی وینس نے کہا کہ انہیں اچھا لگتا ہے جب پوپ عالمی مسائل پر کھل کر بولتے ہیں، خواہ اس سے عدم اتفاق ہی کیوں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ پوپ کے بیانات دنیا میں مکالمے کو فروغ دیتے ہیں۔ جارجیا میں ٹرننگ پوائنٹ یو ایس اے کے ساتھ ایک انٹرویو کے دوران وینس نے کہا کہ ’’مجھے اختلاف ہونے پر بھی اچھا لگتا ہے۔ مجھے لگتا ہے جب پوپ تارکین وطن کے مسائل پر تبصرہ کرتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ جب پوپ اسقاط حمل کے بارے میں بات کرتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے۔ جنگ اور امن کے معاملات پر جب پوپ بات کرتے ہیں تو مجھے اچھا لگتا ہے کیونکہ کم از کم یہ ایک مکالمے کی تو دعوت دیتا ہے۔‘‘
حالانکہ نائب امریکی صدر نے یہ بھی تسلیم کیا کہ گزشتہ کچھ ماہ میں پوپ کے کئی خیالات سے وہ متفق نہیں ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ’’گزشتہ کچھ ماہ میں پوپ نے یقینی طور پر کچھ ایسی باتیں کہی ہیں جن سے میں اتفاق نہیں کرتا۔‘‘ ان کا ماننا ہے کہ مذہبی نقطہ نظر سے جنگ اور امن کے مسائل کو دیکھنے کا طریقہ مختلف ہو سکتا ہے۔ جے ڈی وینس نے پوپ لیو کے گزشتہ ہفتہ کی سوشل میڈیا پوسٹ کا بھی حوالہ دیا۔ اس پوسٹ میں پوپ نے ایران تنازعہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’جو کوئی بھی مسیح کا پیروکار ہے، وہ کبھی بھی ان لوگوں کے حق میں نہیں ہوتا جنہوں نے کبھی تلوار چلائی اور آج بم گراتے ہیں۔‘‘
جے ڈی وینس نے کہا کہ وہ امن کے لیے عالمی آواز کے طور پر پوپ کے کردار کا احترام کرتے ہیں، لیکن انہوں نے بیان کے مذہبی ڈھانچے پر سوال اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’ایک طرف مجھے یہ بات پسند ہے کہ پوپ امن کے حامی ہیں، یقینی طور پر یہ ان کے فرائض میں سے ایک ہے۔ دوسری طرف آپ یہ کیسے کہہ سکتے ہیں خدا کبھی تلوار چلانے والوں کا ساتھ نہیں دیتا؟ کیا خدا ان امریکیوں کے ساتھ تھا جنہوں نے ہولوکاسٹ کیمپوں کو آزاد کرایا اور ہولوکاسٹ سے بچ جانے والے ان بے قصور لوگوں کو چھڑایا؟ مجھے لگتا ہے کہ اس کا جواب ہاں ہے۔‘‘
انٹرویو کے دوران سامعین میں سے ایک شخص نے درمیان میں ہی ٹوکتے ہوئے بلند آواز سے کہا کہ یسوع نسل کشی کی حمایت نہیں کرتے۔ اس پر جے ڈی وینس نے کہا کہ ’’موجودہ انتظامیہ اقتدار میں آئی تھی تو غزہ میں انسانی صورتحال ایک ہولناک تباہی تھی۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے سوال کیا کہ ’’آپ جانتے ہیں، غزہ میں امن معاہدہ کرانے والا شخص کون ہے؟ ڈونالڈ جے ٹرمپ۔‘‘
قابل ذکر ہے کہ پیر (13 اپریل) کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران اور دیگر عالمی مسائل پر اپنے موقف پر تنقید کا سامنا کرنے کے بعد پوپ لیو چودہویں جو پہلے امریکی نژاد پوپ ہیں، سے معافی مانگنے سے انکار کر دیا۔ ٹرمپ نے کہا کہ وہ پوپ کے موقف سے متفق نہیں ہیں اور اسے ایک کمزور نقطہ نظر قرار دیا۔ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’میں پوپ لیو سے معافی نہیں مانگوں گا، مجھے لگتا ہے کہ جرائم اور دیگر معاملات میں ان کی پوزیشن بہت کمزور ہے۔‘‘
دوسری جانب پوپ لیو چودہویں نے اس پورے تنازعہ سے دوری اختیار کرتے ہوئے واضح کیا کہ ان کا مقصد سیاست میں مداخلت کرنا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صرف امن، ہم آہنگی اور مکالمے کو فروغ دینا چاہتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’میں سیاست داں نہیں ہوں اور نہ ہی ڈونالڈ ٹرمپ کے ساتھ کسی سیاسی بحث میں شامل ہونا چاہتا ہوں۔ دنیا میں بہت سے لوگ تکالیف میں مبتلا ہیں، اس لیے ہمیں جنگ ختم کرنے اور امن کی سمت میں کام کرنا چاہیے۔‘‘
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔