’میں ایرانیوں کی لسٹ میں پہلے نمبر پر ہوں‘، امریکی صدر ٹرمپ نے سیکورٹی سے متعلق اپنی تشویش کا کیا اظہار

ٹرمپ نے میڈیا اہلکاروں سے کہا کہ ’’آپ اس وقت سب سے خطرناک طیارے میں سوار ہیں۔ یہ ایرانی پاگل لوگ ہیں۔ یہ ہمیشہ دھمکیاں دیتے رہتے ہیں اور میں ان کی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر ہوں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ کی فائل تصویر</p></div>
i

امریکہ اور ایران کے درمیان جاری جنگ بندی ٹوٹ گئی ہے اور دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر فضائی حملے شروع کر دیے ہیں۔ جب امریکہ نے ایران پر فضائی حملے کیے تو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے ترکیہ میں موجود تھے۔ بدھ کے روز جب وہ واپس امریکہ لوٹ رہے تھے تو انہیں بھی اپنی سیکورٹی کے حوالے سے تشویش لاحق ہوئی۔ یہی وجہ تھی کہ انہوں نے اپنے ایئر فورس ون طیارے میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے صحافیوں کو اپنی کھڑکیوں کے پردے بند رکھنے کا مشورہ دیا۔ جب ٹرمپ سے کھڑکیوں کے پردے بند کرانے کی وجہ پوچھی گئی تو انہوں نے کہا کہ ’’آپ اس وقت سب سے خطرناک طیارے میں سوار ہیں۔ یہ ایرانی پاگل لوگ ہیں۔ یہ ہمیشہ دھمکیاں دیتے رہتے ہیں اور میں ان کی ہٹ لسٹ میں پہلے نمبر پر ہوں۔ ایسے میں اگر مجھے کچھ ہو گیا تو آپ بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ ممکن ہے پھر آپ کسی دن اس پیشے (صحافت) کو ہی تبدیل کرنے پر غور کرنے لگیں۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ ایران کی سرحد ترکیہ سے ملتی ہے۔ ایران کے پاس ایسے کئی میزائل اور ڈرون موجود ہیں، جن کی مار کرنے کی صلاحیت ترکیہ کی سرحد تک پہنچنے کے لیے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ٹرمپ کے طیارے نے ترکیہ سے پرواز بھری تو امریکی صدر ٹرمپ کو سیکورٹی کے حوالے سے تشویش لاحق ہوئی۔ ترکیہ سے پرواز بھرنے کے کچھ ہی دیر بعد عام شہریوں کے فلائٹ ٹریکنگ پلیٹ فارمز امریکی صدر کے سرکاری طیارے ’ایئر فورس ون‘ کے ٹرانسپونڈر سگنل کو ٹریک نہیں کر پا رہے تھے، جس سے یہ اشارہ ملا کہ عملے نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر اسے عارضی طور پر بند کر دیا تھا۔ عام طور پر یہ انتظام جنگی علاقوں یا ایسے مقامات پر کیا جاتا ہے، جہاں خطرات زیادہ ہوں اور صدر کی آمد و رفت ہو رہی ہو۔ اس سے واضح ہوتا ہے کہ امریکہ کو کسی نہ کسی حد تک یہ خدشہ تھا کہ صدر ٹرمپ کی واپسی کے دوران ایران ان کے طیارے کو نشانہ بنا سکتا ہے۔


ایران کے ساتھ جاری جنگ کے سبب امریکہ کو صدر ٹرمپ کی سیکورٹی کے حوالے سے اس قدر تشویش تھی کہ صدر ٹرمپ ترکیہ سے قطر کی جانب سے تحفے میں دیے گئے نئے ایئر فورس ون طیارے کے بجائے اپنے پرانے ایئر فورس ون طیارے کے ذریعے امریکہ روانہ ہوئے۔ حالانکہ امریکہ نے یہ تسلیم نہیں کیا ہے کہ صدر ٹرمپ نے سیکورٹی وجوہات کی بنا پر پرانے طیارے کا استعمال کیا۔ لیکن کہا جا رہا ہے کہ نئے طیارے میں میزائلوں کی نشاندہی کرنے اور میزائل حملوں سے دفاع کرنے والا بعض حفاظتی سسٹم موجود نہیں ہے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان اسٹیون چیونگ نے اس حوالے سے جاری اپنے بیان میں کہا کہ ’’نیا ایئر فورس ون ایک جدید ترین طیارہ ہے، جس میں صدر اور ان کے عملے کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اعلیٰ سطح کے سیکورٹی پروٹوکول لگائے گئے ہیں۔ جیسا کہ صدر حال ہی میں کہہ چکے ہیں۔ امریکہ کے کئی دشمنوں کی نظریں ان پر ہیں، اور ان خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم مختلف تدابیر اختیار کرتے ہیں، جن میں توجہ ہٹانے اور دشمن کو الجھن میں ڈالنے جیسی حکمت عملیاں بھی شامل ہیں۔‘‘

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔