کیا جنگ میں ایران کے نو منتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے ہیں؟ ایرانی صدر کے بیٹے نے دی اہم اطلاع
میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے دوران مجتبیٰ خامنہ ای زخمی ہو گئے ہیں۔ ایرانی صدر کے بیٹے یوسف پیزشکیان نے بتایا کہ وہ مکمل طور سے محفوظ ہیں۔

ایران کے نومنتخب سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای محفوظ اور صحت مند ہیں۔ بدھ (11 جمعرات) کو ایرانی صدر کے بیٹے نے یہ اطلاع دی ہے۔ میڈیا رپورٹس میں یہ دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ اسرائیل اور امریکہ کے ساتھ جاری جنگ کے دوران مجتبیٰ زخمی ہو گئے ہیں۔ حالانکہ اب ایرانی صدر کے بیٹے اور سرکاری مشیر یوسف پیزشکیان نے واضح کیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای مکمل طور سے محفوظ ہیں۔ انہوں نے اپنے ’ٹیلی گرام‘ چینل پر لکھا کہ مجتبیٰ کے زخمی ہونے کی خبریں انہوں نے بھی سنی تھیں۔ اس کے بعد انہوں نے کچھ ایسے لوگوں سے بات کی جن کے مجتبیٰ خامنہ ای سے براہ راست روابط ہیں۔ ان لوگوں نے تصدیق کی ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای بالکل ٹھیک ہیں اور انہیں کوئی چوٹ نہیں آئی ہے۔
واضح رہے کہ اس سے قبل ایران کے سرکاری ٹیلی ویژن نے مجتبیٰ خامنہ ای کو ’رمضان جنگ‘ کا ایک زخمی مجاہد قرار دیا تھا۔ حالانکہ ٹی وی رپورٹ میں اس بارے میں کوئی جانکاری نہیں دی گئی تھی کہ انہیں کس طرح کی چوٹ لگی ہے یا ان کی حالت کیسی ہے۔ رپورٹس کے مطابق ایران کے پاسداران انقلاب (آئی آر جی سی) نے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
آئی آر جی سی کا ماننا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای ان کی پالیسی کی حمایت کریں گے۔ بتایا جا رہا ہے کہ کچھ بڑے لیڈران اور مذہبی رہنماؤں نے اس فیصلے کی مخالفت کی تھی لیکن آئی آر جی سی نے ان کی مخالفت کو نظر انداز کر دیا۔ اسی وجہ سے ان کی تقرری کے باضابطہ اعلان میں چند گھنٹوں کی تاخیر بھی ہوئی تھی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای کے آنے سے ایران میں فوج کی مداخلت مزید بڑھ سکتی ہے۔ کچھ سابق افسران نے وارننگ دی ہے کہ آئی آر جی سی کی بڑھتی گرفت سے ایران ایک فوجی ملک میں تبدیل ہو سکتا ہے۔ اس سے حکومت کی مذہبی شناخت کم ہو سکتی ہے اور عوام کے درمیان اس کی حمایت کم ہو سکتی ہے۔ آنے والے دنوں میں ایران کی خارجہ پالیسی مزید جارحانہ ہو سکتی ہے، اس تبدیلی سے حکومت کے سامنے ملکی اور بیرونی چیلنجز میں اضافہ ہو سکتا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔