وزیر دفاع ہیگسیتھ سمیت 15 کروڑ امریکیوں کا ڈیٹا لیک، ڈارک ویب سروس پر فروخت کر رہے ہیں ہیکرس

ڈارک ویب سروس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا ڈیٹا بھی فروخت کے لیے درج پایا گیا۔ اسے کس نے خریدا اور کیوں خریدا اس کے متعلق جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر، آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکہ کے 15 کروڑ شہریوں کا ڈیٹا ڈارک ویب پر فروخت کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے۔ اس میں ڈرائیونگ لائسنس، ٹریول ڈاکیومنٹس اور شناختی کارڈ سے متعلق معلومات شامل ہیں۔ تحقیقاتی ایجسنی ایف بی آئی نے معاملے کی تحقیقات شروع کر دی ہے۔ صحافی برائن کریبس نے اس ڈیٹا کی فروخت کا انکشاف کیا ہے۔ ان کے مطابق ان کا اپنا ڈیٹا بھی ویب سائٹ پر فروخت کرنے کے لیے لسٹ کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ ڈارک ویب سروس پر امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ اور ایف بی آئی کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کا ڈیٹا بھی فروخت کے لیے درج پایا گیا۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ ڈیٹا روس سے منسلک ویب سائٹس پر فروخت کیا گیا۔ اسے کس نے خریدا اور کیوں خریدا اس کے متعلق معلومات سامنے نہیں آئی ہے۔ روسی سائبر کرائم فورم ’ایکسپلائٹ‘ پر ’نیکسس‘ کی جانب سے ایک اشتہار جاری کیا گیا۔ اس میں 15 کروڑ امریکیوں کا ڈیٹا فروخت کے لیے پیش کیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں نے اسے خریدا بھی، لیکن کتنا ڈیٹا فروخت ہوا اس کی جانکاری نہیں ہے۔


صحافی برائن کریبس کے مطابق کناڈا کے بھی 11 لاکھ لوگوں کا ڈیٹا لیک ہوا ہے۔ ایف بی آئی نے فی الحال اس پر کوئی بیان نہیں دیا ہے۔ ایجنسی کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد جانکاری دی جائے گی۔ رپورٹس کے مطابق ’ایکسپلائٹ‘ پر ڈرائیونگ لائسنس کے علاوہ ایک کروڑ سے زائد شناختی کارڈ، 30 لاکھ سے زائد سفر سے متعلق دستاویز اور کم از کم 579000 میڈیکل کارڈ فروخت کرنے کے لیے لسٹ کیے گئے تھے۔ ڈیٹا فروخت کرنے والوں کا دعویٰ ہے کہ یہ تازہ ترین ڈیٹا ہے، جسے انہوں نے گزشتہ ایک سال میں چوری کر کے جمع کیا ہے۔ حالانکہ معاملے کا انکشاف ہونے کے بعد ڈارک ویب سروس سے اسے ہٹا دیا گیا ہے۔

سیکورٹی اور خفیہ موضوعات پر تحقیق کرنے والے محقق جیک ایڈورڈس کا بھی ڈیٹا لیک ہوا ہے۔ ایڈورڈس کا کہنا ہے کہ انہوں نے کار خریدنے کے لیے ایک کار کمپنی کو اپنا ڈیٹا دیا تھا۔ وہاں سے انہوں نے کار تو نہیں خریدی لیکن ان کا ڈیٹا لیک ہو گیا۔ اسی طرح ایک اور معاملہ سامنے آیا۔ امریکہ کی ایک کمپنی idscan.net ڈاکیومنٹ اسکیننگ کا کام کرتی ہے۔ یہاں سے کافی ڈیٹا لیک ہوا ہے۔ کمپنی نے جانچ کرنے کی بات کہی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔