گلوبل ٹریڈ وار کی سرگوشی! ’سیکشن 301‘ کے تحت ہندوستان سمیت کئی ممالک پر اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تیاری میں امریکہ

سیکشن 301، جو یو ایس ٹریڈ ایکٹ 1974 کا حصہ ہے، ایک ٹریڈ انفورسمنٹ ٹول ہے۔ یہ یو ایس ٹی آر کو غیر ملکی حکومتوں کے کاموں، پالیسیوں اور طور طریقوں کی جانچ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ڈونالڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

یونائیٹڈ اسٹیٹس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو (یو ایس ٹی آر) نے بدھ (3 جون) کو سیکشن 301 کی 60 فائنڈنگز جاری کیں۔ اس میں ہندوستان کے ساتھ ساتھ 53 ایسے ممالک پر 12.5 فیصد اضافی ٹیرف عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جو جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد پر روک لگانے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہے ہیں۔ یہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب امریکہ کے اہم مذاکرات کار نئی دہلی میں اپنے ہندوستانی ہم منصبوں کے ساتھ دو طرفہ تجارتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے 3 روزہ بات چیت کر رہے ہیں۔

میڈیا رپورٹ میں ایک افسر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ نئی دہلی مذاکرات کا بنیادی زور ’سیکشن 301‘ کے فائنڈنگز سے راحت پانے اور اپنے حریفوں کے مقابلے میں کم ٹیرف حاصل کرنے پر رکھے گا۔ افسر نے کہا کہ ہندوستان اس ڈیل کو حتمی شکل دینے کی کوشش کرے گا، بشرطیکہ اسے ’منصفانہ، مساوی اور متوازن شرائط‘ ملیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایک بار معاہدے کا بنیادی ڈھانچہ طے ہو جانے کے بعد یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گریر ہندوستان کا دورہ کر سکتے ہیں۔


’بلومبرگ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ہندوستان نے جبریہ مزدوری والے التزام کے تحت عائد کیے گئے الزامات سے انکار کیا ہے اور واشنگٹن سے ان تحقیقات کو ختم کرنے کو کہا ہے۔ ہندوستان کا کہنا ہے کہ ان مسائل کو یکطرفہ اقدامات کے بجائے، جاری تجارتی مذاکرات کے دائرہ کار میں ہی حل کیا جانا چاہیے۔

یو ایس ٹی آر نے ایک نوٹس میں کہا کہ جن ممالک نے جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد پر روک لگائی ہے، یا جنہوں نے ’باہمی تجارتی معاہدے‘ کے ذریعہ ایسی روک لگانے اور اسے نافذ کرنے کا وعدہ کیا ہے، یا پھر جن معیشتوں نے ایک ایسا جزوی انتظام نافذ کیا ہے جس سے جبریہ مزدوری سے بنے کچھ خاص سامان کی درآمد رک جاتی ہے، ان کے لیے یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو نے اضافی ڈیوٹی کی شرح 10 فیصد رکھنے کی تجویز دی ہے۔


دوسرے ممالک کے لیے یو ایس ٹی آر نے اضافی ڈیوٹی کی شرح 12.5 فیصد رکھنے کی تجویز دی ہے۔ اس کے ساتھ ہی ایک ’ٹیکسٹائل میکانزم‘ کی بھی تجویز ہے، جس کے تحت کچھ مخصوص معیشتوں سے امریکہ میں آنے والے کپڑوں اور ٹیکسٹائل کی ایک مقررہ مقدار پر سیکشن 301 کے تحت لگنے والا ٹیرف کم شرح پر لگایا جائے گا۔ اس تجارتی ادارے نے ان تحقیقات کے سلسلے میں جوابی کارروائی کی تجاویز دینے کا بھی فیصلہ کیا ہے۔

سیکشن 301، جو یو ایس ٹریڈ ایکٹ 1974 کا حصہ ہے، ایک ٹریڈ انفورسمنٹ ٹول ہے۔ یہ یو ایس ٹی آر کو غیر ملکی حکومتوں کے کاموں، پالیسیوں اور طور طریقوں کی جانچ کرنے کا اختیار دیتا ہے۔ ساتھ ہی یہ طے کرتا ہے کہ کیا وہ کام، پالیسیاں اور طریقے غیر منصفانہ یا امتیازی ہیں، اور کیا وہ امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتے ہیں یا محدود کرتے ہیں۔ اگر حکومتی تحقیقات میں یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ غیر منصفانہ تجارتی طریقے موجود ہیں، تو یہ دفعہ یو ایس کو متعلقہ ملک پر اضافی ٹیرف یا دیگر تجارت سے متعلق اقدامات کے ذریعہ جوابی کارروائی کی اجازت دیتی ہے۔ بدھ کو اعلان کردہ یہ قدم امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی اس کوشش میں ایک بڑا قدم ہے، جس کے تحت وہ ان ملک وار ٹیرف کو پھر سے نافذ کرنا چاہتے ہیں، جنہیں انہوں نے اپنے دور اقتدار کے پہلے سال میں لگایا تھا، لیکن بعد میں سپریم کورٹ نے انہیں غیر آئینی قرار دے دیا تھا۔


امریکی سرکاری ایجنسی نے مطلع کیا کہ یہ نئے ٹیکس فوری طور پر نافذ نہیں ہوں گے۔ انہیں نافذ کرنے سے قبل ان پر عوام کی آراء لی جائیں گی اور ان کا جائزہ لیا جائے گا۔ اس کے نتیجے میں کوئی بھی ٹیکس باقاعدہ طور پر نافذ ہونے سے قبل ان میں تبدیلی ہو سکتی ہے۔ نوٹس کے مطابق تحریری آراء 6 جولائی تک جمع کی جانی ہیں اور سیکشن 301 پینل کی جانب سے 7 جولائی سے عوامی سماعت شروع کرنے کی امید ہے۔

یو ایس ٹریڈ ریپریزنٹیٹو جیمیسن گریر نے ایک بیان میں کہا کہ ہمارے سب سے اہم تجارتی شراکت داروں کی جانب سے جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد روکنے میں ناکامی ناقابل قبول ہے۔ اس سے ایسی صورتحال پیدا ہوتی ہے جہاں امریکی مزدوروں کو عالمی سطح پر ایک غیر مساوی مقابلے کے ماحول میں مقابلہ کرنے کے لیے مجبور ہونا پڑتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم اب اس عدم مساوت کو برداشت نہیں کریں گے۔ گریر نے یہ بھی کہا کہ اس کا مقصد تجارت سے متعلق تحقیقات کے ایک سلسلے کو مکمل کرنا ہے، تاکہ ٹرمپ، موجودہ اقدامات کی مدت ختم ہونے کے بعد جلد از جلد نئے ٹیرف نافذ کر سکیں۔


یو ایس ٹی آر کی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ نئی دہلی جبریہ مزدوری سے بنے سامان کی درآمد پر پابندی عائد کرنے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکام رہی ہے۔ ایجنسی نے یہ بھی الزام عائد کیا کہ اس پابندی کو عائد کرنے اور اسے مؤثر طریقے سے نافذ کرنے میں ناکامی ’غیر مناسب‘ ہے اور یہ امریکی تجارت پر بوجھ ڈالتی ہے یا اسے محدود کرتی ہے۔ گریر نے تمام تجارتی شراکت داروں سے اپیل کی کہ وہ یہ یقینی بنائیں کہ تجارت، عالمی سطح پر جبریہ مزدودی کو غلط طریقے سے فروغ نہ دے اور نہ ہی اسے مزید مضبوط کرے۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔