جیل میں عمران خان کے ساتھ ہو رہے سلوک پر برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن فکر مند

بورس جانسن نے الزام عائد کیا کہ عمران خان سیاسی فیصلوں میں فوج کے اثر و رسوخ کے خلاف تھے۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف کئی قانونی مقدمات سامنے آئے۔

بورس جانسن، تصویر آئی اے این ایس
i

پاکستان کے سابق وزیر اعظم عمران خان کی حمایت میں برطانیہ کے سابق وزیر اعظم بورس جانسن سامنے آئے ہیں۔ انہوں نے برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ میں ایک مضمون لکھا ہے۔ اس میں جانسن نے کہا کہ عمران خان پاکستان کی ایک چھوٹی سی جیل کوٹھری میں قید ہیں۔ وہاں انہیں ورزش، مطالعہ کے لیے مواد سمیت دیگر سرگرمیوں کے لیے محدود سہولتیں حاصل ہیں۔ اس مضمون میں جانسن نے برطانیہ سے اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی میں مدد کرنے کی اپیل کی ہے۔

بورس نے عمران خان کے خلاف چل رہے قانونی مقدمات کے حوالے سے بھی اپنی رائے پیش کی۔ ان کے مطابق کئی مقدمات سیاسی محرکات پر مبنی ہیں۔ جانسن کا کہنا ہے کہ ان مقدمات کی بڑی وجہ بدعنوانی نہیں، بلکہ پاکستانی فوج کی مخالفت ہے۔ ان کے مطابق عمران خان سیاسی فیصلوں میں فوج کے اثر و رسوخ کے خلاف تھے۔ اسی وجہ سے ان کے خلاف کئی قانونی مقدمات سامنے آئے۔


جانسن کے مضمون میں پاکستان کی فوج کے حوالے سے بھی کچھ اہم دعوے کیے گئے ہیں۔ اس میں کہا گیا ہے کہ فوج کو خوف ہے کہ اگر عمران خان جیل سے باہر آتے ہیں تو وہ دوبارہ اقتدار میں واپس آ سکتے ہیں۔ اسی وجہ سے جانسن نے برطانیہ کے کردار کی بات کی۔ انہوں نے کہا کہ برطانیہ کو اپنے اثر و رسوخ کا استعمال کرتے ہوئے عمران خان کی رہائی میں مدد کرنی چاہیے۔ بورس نے مضمون میں یہ بھی کہا کہ وہ عمران خان کو پسند کرتے ہیں۔ تاہم، دونوں کے خیالات ہر معاملے پر یکساں نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ روس، طالبان اور امریکہ کے حوالے سے عمران خان کے موقف سے متفق نہیں تھے۔ یعنی انہوں نے عمران خان کے لیے حمایت کا اظہار کیا، لیکن ان کی کچھ پالیسیوں سے اپنے عدم اتفاق کو بھی سامنے رکھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔