یورپ کو شدید گرمی کا سامنا، فرانس میں 2 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک، برطانیہ میں ریڈ الرٹ جاری

ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے 6 علاقوں ویسٹ مڈلینڈز، ایسٹ مڈلینڈز، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ، لندن اور ایسٹ آف انگلینڈ کے لیے بدھ کی صبح 1 بجے سے جمعرات کی شب 11 بجے تک ریڈ ہیلتھ وارننگ جاری کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>گرمی کی علامتی تصویر / آئی اے این ایس</p></div>
i

یورپ کے کئی حصوں میں شدید گرمی کی لہر مسلسل شدت اختیار کر رہی ہے، جس کے باعث معمولات زندگی، صحت کی خدمات اور بنیادی ڈھانچے پر سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ فرانس میں 2 بچوں سمیت 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جبکہ اسپین کے نسبتاً ٹھنڈے سمجھے جانے والے علاقے سان سیباسٹیان میں درجۂ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچ گیا ہے۔

برطانیہ کی ہیلتھ سیکورٹی ایجنسی نے انگلینڈ کے 6 علاقوں ویسٹ مڈلینڈز، ایسٹ مڈلینڈز، ساؤتھ ایسٹ، ساؤتھ ویسٹ، لندن اور ایسٹ آف انگلینڈ کے لیے بدھ کی صبح ایک بجے سے جمعرات کی شب 11 بجے تک ریڈ ہیلتھ وارننگ جاری کی ہے۔ یہ انتباہ ظاہر کرتا ہے کہ صورتحال اس قدر سنگین ہے کہ صحت مند افراد کی جان کو بھی خطرہ لاحق ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات نقل و حمل، خوراک، پانی، توانائی کی فراہمی اور کاروباری سرگرمیوں پر بھی پڑ سکتے ہیں۔


برطانیہ میں اس نوعیت کی یہ دوسری ریڈ وارننگ ہے۔ اس سے قبل جولائی 2022 میں پہلی بار یہ انتباہ جاری کیا گیا تھا، جب درجۂ حرارت 40 ڈگری سیلسیس سے تجاوز کر گیا تھا۔ ’دی گارڈین‘ نے ماہرین موسمیات کے حوالے سے بتایا ہے کہ اس ہفتہ انگلینڈ اور ویلز میں درجۂ حرارت 38 سے 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں جون 1976 کا ریکارڈ بھی ٹوٹ سکتا ہے۔ سائنسدانوں کے مطابق یہ صورتحال ایک ’ہیٹ ڈوم‘ کے باعث پیدا ہوئی ہے، جو مغربی یورپ کے اوپر گرم ہوا کو قید کر لیتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی اس طرح کے انتہائی موسمی واقعات کو مزید شدید بنا رہی ہے۔

فرانس میں صورتحال مزید تشویش ناک ہے، جہاں نصف سے زائد علاقوں میں ریڈ الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ تقریباً 3 کروڑ 90 لاکھ افراد اس انتباہ کے دائرے میں ہیں۔ گزشتہ ہفتہ کے اختتام سے اب تک کم از کم 18 افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں 2 کم سن بچے بھی شامل ہیں جو ایک گاڑی کے اندر بے ہوش حالت میں پائے گئے تھے۔ فرانس کے وزیر اعظم سیباستیاں لیکورنو نے حالات کا جائزہ لینے کے لیے ہنگامی اجلاس طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملک بھر میں 1,350 سے زائد اسکول بند کرنے پڑے ہیں۔


اٹلی نے بھی 12 شہروں کے لیے ریڈ ہیٹ الرٹ جاری کیا ہے، جبکہ جنوب مغربی فرانس میں ایک جوہری بجلی گھر نے دریا کے پانی کے غیر معمولی حد تک گرم ہو جانے کے باعث اپنے ایک ری ایکٹر کو بند کر دیا ہے۔ جرمنی میں ہفتہ کے اختتام پر تیراکی سے متعلق حادثات میں 5 افراد ہلاک ہو گئے۔ ادھر فرینکفرٹ ایئرپورٹ پر طیاروں کے طویل وقت تک رنوے پر کھڑے رہنے کے باعث متعدد مسافر شدید گرمی سے متاثر ہوئے۔

اسپین میں موسمیاتی ادارے اے ای ایم ای ٹی کے مطابق درجۂ حرارت معمول سے 5 سے 10 ڈگری سیلسیس زیادہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ شمالی علاقوں میں یہ فرق 10 ڈگری سے بھی زیادہ ہے۔ سان سیباسٹیان جیسے نسبتاً ٹھنڈے علاقوں میں بھی درجۂ حرارت 40 ڈگری سیلسیس تک پہنچنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ بیلجیم کے محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا ہے کہ یہ گرمی کی لہر ایک ہفتہ تک برقرار رہ سکتی ہے اور درجۂ حرارت ریکارڈ سطح تک پہنچ سکتا ہے۔ پیرس میں جون کے مہینے کا اب تک کا سب سے زیادہ درجۂ حرارت 38.4 ڈگری سیلسیس ریکارڈ ہونے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔