مصر حکومت نے فلسطینیوں کے لئے رفح بارڈر کھولا

قاہرہ میں مصالحتی کوشش کے نتیجے میں حماس نے ان دونوں بارڈر کراسنگ کا کنٹرول اپنی حریف فلسطینی اتھارٹی کو سونپ دیا تھا۔

قاہرہ: مصرکے صدر عبد الفتاح السیسی نے آج حکم دیا کہ غزہ پٹی سے متصل رفح بارڈر کراسنگ کو پورے ماہ رمضان کے لئے کھول دیا جائے۔ انہوں نے یہ ہدایت آج ہی اپنے سرکاری ٹوئٹر اکاؤنٹ پر دی ہے۔

مصر سے فلسطینی خطے کو ملانے والی رفح بارڈر کراسنگ اکثر بند رکھی جاتی ہے، لیکن وقفے وقفے سے اسے ضرورت مندوں کے لئے کھول دیا جاتا ہے۔ مصری صدر کی ہدایت پر رفح بارڈ کراسنگ کو برسوں بعد پورے ماہ رمضان کے طویل وقفے کے لئے کھولا جائے گا۔ غزہ پٹی پر اسلامی تحریک مزاحمت حماس کا کنٹرول ہے، لیکن مصر کے ساتھ متصل رفح بارڈ کراسنگ اور اسرائیل سے ملحق ایریز بارڈ رپر اس کا کنٹرول نہیں ہے۔ گزشتہ سال قاہرہ میں مصالحتی کوشش کے نتیجے میں حماس نے ان دونوں بارڈر کراسنگ کا کنٹرول اپنی حریف فلسطینی اتھارٹی کو سونپ دیا تھا۔

مسٹر عبد الفتاح السیسی نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر کہا کہ رفح بارڈر کھلنے سے فلسطینی بھائیوں کو راحت ملے گی۔

واضح رہے کہ ماہ رمضان کے آغاز سے عین قبل پیر کےروز یروشلم میں امریکی سفارتی مشن کے باقاعدہ افتتاح کے موقع پر غزہ بارڈر پر فلسطینیوں کے پرتشدد مظاہرے کے دوران اسرائیلی فوج نے گولی باری کی تھی ، جس میں درجنوں فلسطینی مظاہرین جاں بحق ہوگئے تھے، جبکہ اسرائیلی فوج کی وحشیانہ کارروائی میں متعدد مقامی اور بیرونی صحافیوں پر بھی حملے ہوئے تھے، جن میں متعدد صحافی زخمی ہوگئے تھے۔

سب سے زیادہ مقبول