عطیات کے پیسے سے ہوگا وائٹ ہاؤس کے احاطے میں مجوزہ تعمیراتی پروجیکٹ کا کام! 900 ملین ڈالر سے زائد خرچ کرنے کا منصوبہ

’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کے مطابق خفیہ معاہدوں اور منصوبہ بندی سے متعلق دستاویزات کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے احاطے میں مجوزہ تعمیراتی منصوبوں پر کل خرچ کم از کم 927 ملین ڈالر ہو سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے وائٹ ہاؤس کو جدید شکل دینے والے منصوبے کی تخمینی لاگت ایک بار پھر بڑھ گئی ہے۔ ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق خفیہ معاہدوں اور منصوبہ بندی سے متعلق دستاویزات کے جائزے سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وائٹ ہاؤس کے احاطے میں مجوزہ تعمیراتی منصوبوں پر مجموعی خرچ کم از کم 927 ملین ڈالر ہو سکتا ہے۔ ان منصوبوں میں سب سے زیادہ زیر بحث ایسٹ ونگ کی جگہ مجوزہ ایک بہت بڑا ’بال روم‘ ہے۔ اس کے علاوہ لافائیٹ اسکوائر میں اپ گریڈ، ہیلی پیڈ، نیا وزیٹر اسکریننگ سنٹر اور سیکورٹی سے متعلق دیگر سہولیات کی تعمیر بھی اس منصوبے کا حصہ ہے۔

رپورٹ کے مطابق انتظامیہ نے ان مقاصد کے لیے براہ راست کانگریس سے پوری رقم منظور کرانے کے بجائے مختلف سرکاری ایجنسیوں اور ذاتی عطیہ دہندگان سے ملے پیسوں کو ایک اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کیا ہے۔ اس اکاؤنٹ کا استعمال عام طور پر وائٹ ہاؤس کی معمول کی دیکھ بھال اور مرمت کے لیے کیا جاتا ہے۔ اس اکاؤنٹ کو ’وائٹ ہاؤس ریپیئر ایند ریسٹوریشن‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ کانگریس اس اکاؤنٹ کے لیے گزشتہ کئی سالوں سے سالانہ تقریباً 2.5 ملین ڈالر کی رقم منظور کرتی آ رہی ہے۔ لیکن ٹرمپ کے دور اقتدار میں اس میں اب تک تقریباً 875 ملین ڈالر منتقل کیے جانے کی بات سامنے آئی ہے۔ دستاویزات کے مطابق اس میں تقریباً 500 ملین ڈالر سرکاری ایجنسیوں سے، 305 ملین ڈالر ذاتی عطیات سے اور تقریباً 70 ملین ڈالر ایسے ذرائع سے آئے ہیں جن کی شناخت سامنے نہیں آ سکی ہے۔


رپورٹ کے مطابق اس فنڈ میں سب سے بڑا سرکاری ٹرانسفر امریکی سیکریٹ سروس اور وائٹ ہاؤس ملٹری آفس کی طرف سے آیا۔ سیکریٹ سروس سے تقریباً 415 ملین ڈالر جون میں منتقل کیے گئے۔ یہ اس وقت ہوا جب کانگریس میں ایسٹ ونگ اور وزیٹر اسکریننگ کی سہولت کے لیے 400 ملین ڈالر کی الگ فنڈنگ پر اتفاق رائے نہیں بن پایا تھا۔ ٹرمپ انتظامیہ کی دلیل ہے کہ ان پیسوں کا استعمال سیکورٹی کی ضروریات کے لیے کیا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کے مطابق ’ایسٹ ونگ ماڈرنائزیشن پروجیکٹ‘ میں سیکورٹی کے ڈھانچے کو مضبوط کرنا، ڈرون سے تحفظ اور دیگر سیکورٹی سہولیات شامل ہیں، جن میں اس فنڈ کا استعمال کیا جائے گا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پہلے سے کسی منظور شدہ سرکاری فنڈ کو اس طرح دوسرے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کر کے بڑے تعمیراتی پروجیکٹ پر خرچ کرنا معمول کی بات نہیں ہے۔ یہ ایک طرح سے عطیے کے پیسے سے وائٹ ہاؤس کے تعمیراتی پروجیکٹ کو پورا کرنے جیسا ہے۔ امریکی تاریخ میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے۔ واضح رہے کہ امریکی آئین کے تحت سرکاری رقم خرچ کرنے کا اختیار بنیادی طور پر کانگریس کے پاس ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔