ڈونالڈ ٹرمپ کی وارننگ، امریکہ کو لوٹنے والے رہیں تیار، ٹیرف کے لیے کانگریس کی منظوری کی ضرورت نہیں
ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’بطور صدر مجھے ٹیرف کے لیے کانگریس کے پاس واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی منظوری پہلے ہی کئی شکلوں میں دی جا چکی ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے پیر (23 فروری) کو خریداروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ٹیرف عائد کرنے کے لیے انہیں کانگریس سے نئی منظوری کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ ممالک جنہوں نے دہائیوں تک امریکہ کو لوٹا ہے، اب وہ کہیں زیادہ ٹریف برداشت کرنے لیے تیار رہیں۔ امریکی صدر کا یہ بیان ایسے وقت میں آیا ہے جب سپریم کورٹ کی جانب سے ان کی انتظامیہ کے دوران عائد کیے گئے ٹیرف کو منسوخ کیے جانے کے بعد پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے درمیان ہندوستان نے اپنے مجوزہ تجارتی وفد کا واشنگٹن دورہ ملتوی کر دیا ہے۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل‘ پر لکھا کہ ’’بطور صدر مجھے ٹیرف کے لیے کانگریس کے پاس واپس جانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اس کی منظوری پہلے ہی کئی شکلوں میں دی جا چکی ہے۔ حال ہی میں سپریم کورٹ کے مضحکہ خیز اور خراب طریقے سے تیار کیے گئے فیصلے سے بھی اس کی تصدیق ہو گئی ہے۔‘‘ ساتھ ہی ٹرمپ نے تجارتی شراکت داروں کو وارننگ دیتے ہوئے کہا کہ ’’کوئی بھی ملک جو اس مضحکہ خیز سپریم کورٹ کے فیصلے کے ساتھ کھیل کھیلنے کی کوشش کرے گا، خاص طور پر وہ ممالک جنہوں نے برسوں اور دہائیوں تک امریکہ کو لوٹا ہے، انہیں حال ہی میں طے شدہ ٹیرف سے کہیں زیادہ اور سخت ٹیرف کا سامنا کرنا پڑے گا۔‘‘
وائٹ ہاؤس کی جانب سے اس پر کوئی آفیشل بیان نہیں آیا ہے۔ انتظامیہ کے ایک سینئر افسر نے ’آئی اے این ایس‘ سے کہا کہ ’’ہم اپنے تمام تجارتی شراکت داروں کے ساتھ پردے کے پیچھے کام کرنا جاری رکھے ہوئے ہیں۔‘‘ یہ بات اس وقت سامنے آئی جب ہندوستان نے اپنے تجارتی وفد کا امریکی دورہ ملتوی کر دیا ہے۔ یہ فیصلہ امریکی سپریم کورٹ کی جانب سے ٹیرف کو منسوخ کیے جانے کے بعد لیا گیا تھا، کیونکہ اس فیصلے سے ٹیرف کے نظام پر غیر یقینی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
منصوبے سے واقف ذرائع کے مطابق ہندوستان اور امریکی افسران کے درمیان مشاورت کے بعد دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ فی الحال وفد کے دورے کی نئی تاریخ طے نہیں کی گئی ہے، کیونکہ عدالتی فیصلے کے بعد ٹیرف کی صورتحال واضح نہیں ہے۔ قابل ذکر ہے کہ ہندوستانی وفد کو واشنگٹن میں ایک عبوری تجارتی معاہدے پر بات چیت کرنی تھی۔ اس مجوزہ معاہدے ہندوستانی برآمدات پر عائد کیے گئے تعزیری ٹیرف میں کمی اور امریکی درآمدات میں نمایاں اضافے کی امید تھی۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔