ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے روکنے سے متعلق رضامندی ظاہر کی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا حوالہ دیا
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ’’امریکہ فوجی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کے لیے منصوبہ بند حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو کہا کہ تہران اور مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک کی جانب سے حملے روکنے کی اپیل کے بعد، امریکہ ایران کے خلاف منصوبہ بند فوجی کارروائی کو روکنے پر راضی ہو گیا ہے۔ امریکی صدر نے دعویٰ کیا کہ ایک ممکنہ معاہدے کا فریم ورک تیار ہو گیا ہے۔ ’ٹروتھ سوشل‘ پر ایک پوسٹ میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ فوجی کارروائی کے لیے پوری طرح تیار ہے، لیکن سفارت کاری کو آگے بڑھنے کا موقع دینے کے لیے منصوبہ بند حملوں کو روکنے کا فیصلہ کیا ہے۔
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اپنی پوسٹ میں مزید لکھا کہ ’’امریکہ پوری طرح تیار اور حملہ کرنے کی پوزیشن میں ہے، اور پوری طاقت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف جانے کے لیے تیار ہے۔‘‘ ساتھ ہی انہوںے کہا کہ تاہم ایران اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک نے واشنگٹن سے فوجی کارروائی مؤخر کرنے کی اپیل کی ہے۔ ٹرمپ کے مطابق مجوزہ معاہدے میں آبنائے ہرمز کو فوری اور مکمل طور پر کھولنا اور ایران کے جوہری خطرے کو ختم کرنا شامل ہوگا۔
امریکی صدر نے کہا کہ ’’اس اپیل کی بنیاد پر میں دنیا کے مستقبل کے لیے اور اسی طرح ایک کامیاب اور خوشحال ایران کے برقرار رہنے کے لیے حملہ روکنے پر راضی ہو گیا ہوں، بشرطیکہ ہم جلدی سے کوئی معاہدہ کر سکیں۔‘‘ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اسرائیل نے سفارتی راستہ اپنانے کے فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ ’’اسرائیل اس عزم میں میرے ساتھ ہے۔ سب لوگ کام پر لگ جاؤ اور اسے پورا کرو۔“ ٹرمپ نے مجوزہ معاہدے، اس کی ٹائم لائن یا ایران یا اسرائیل نے ان کی پوسٹ میں کیے گئے دعووں کی باضابطہ تصدیق کی ہے یا نہیں، اس بارے میں مزید معلومات فراہم نہیں کیں۔
اس سے قبل ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جب تک ایران امریکی فوج کو دھمکیاں دینا بند نہیں کرتا اور جوہری ہتھیار بنانے کی کوششیں نہیں روکتا، تب تک امریکہ اس کے خلاف فوجی کارروائی جاری رکھے گا۔ انہوں نے ایرانی قیادت کے ساتھ بات چیت کے کامیاب ہونے کے امکان پر بھی شک کا اظہار کیا تھا۔ کیمپ ڈیوڈ میں منعقدہ پہلی لائیو ٹیلی ویژن کابینہ میٹنگ کی صدارت کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ حکومت ایران پر دباؤ برقرار رکھے گی اگرچہ سفارتی بات چیت چل رہی ہو۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر شدید حملے کی تیاری میں ڈونالڈ ٹرمپ
جب امریکی صدر سے پوچھا گیا تھا کہ آنے والے ہفتوں میں کیا امید کی جائے تو انہوں نے کہا تھا کہ ’’ہم ان پر حملہ کریں گے اور آپ جانتے ہیں کہ کسی وقت وہ کہیں گے کہ ہم اب اور برداشت نہیں کر سکتے۔‘‘ انہوں نے دوہرایا کہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا واشنگٹن کا بنیادی مقصد ہے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا تھا کہ ’’ان کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتا۔ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوگا۔ اگر ان کے پاس ہوتا، تو مشرق وسطیٰ اب تک ختم ہو چکا ہوتا۔“ ان کے مطابق ایران کو بہت زیادہ فوجی نقصان پہنچا ہے، لیکن انہوں نے زور دیا کہ ابھی بھی اس کی محدود صلاحیتیں باقی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
