برازیل صدارتی انتخاب: ٹرمپ کے حامی بولسونارو کو 44 لاکھ ووٹوں سے ملی شکست، لولا پھر بنے صدر
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ انتخاب کے پہلے مرحلے میں بولسونارو کو 47 فیصد اور لولا کو 45 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد لولا نے نوجوانوں سے رابطہ بڑھایا، جس کا اثر دوسرے مرحلہ میں دیکھنے کو ملا۔

برازیل کے صدر لوئز اناسیو لولا دا سلوا نے ایک بار پھر صدارتی انتخاب جیت لیا ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے ناقد لولا اب چوتھی بار ملک کے صدر بنیں گے۔ لولا نے اپنے حریف اور ٹرمپ حامی فلاویو بولسونارو کو تقریباً 44 لاکھ ووٹوں سے شکست دی۔ ان کی نئی مدت صدارت 5 جنوری 2027 سے شروع ہوگی۔ لولا کی جیت ایسے وقت میں ہوئی ہے، جب لاطینی امریکہ کے کئی ممالک میں ٹرمپ کے قریبی دائیں بازو کے لیڈران انتخابات جیت رہے ہیں۔ انتخاب میں کامیابی کے بعد لولا دا سلوا نے کہا کہ ’’لوگوں نے جمہوریت کو بچانے کے لیے ووٹ دیا ہے۔ انہوں نے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کے ذریعہ غیر ملکی مداخلت کو روکا۔‘‘ انھوں نے یہ بھی کہا کہ برازیل کسی دوسرے ملک کے اشارے پر نہیں چلے گا۔ حکومت کے فیصلوں میں لوگوں کی شرکت بڑھائی جائے گی۔
اس کامیابی سے امریکہ کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کی مخالفت کرنے والے لیڈران کو راحت ملی ہے۔ برازیل اور میکسیکو لاطینی امریکہ کے سب سے زیادہ آبادی والے ممالک ہیں۔ اب دونوں ممالک میں بائیں بازو کے نظریے کی حامل حکومتیں برقرار رہیں گی۔ لولا نے انتخابی مہم کے دوران کہا تھا کہ برازیل کو اپنے فیصلے خود کرنے چاہئیں اور اسے امریکہ کے دباؤ میں نہیں آنا چاہیے۔ ٹرمپ کی جانب سے برازیل پر عائد کیے گئے بھاری محصولات بھی دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ بنے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ برازیل میں ووٹنگ ختم ہونے سے 3 منٹ پہلے سپریم کورٹ کے جج کرسٹیانو زانین نے ووٹ ڈالنے کا وقت 2 گھنٹے بڑھانے کا حکم دیا تھا۔ یہ فیصلہ دونوں امیدواروں کے مطالبے کے بعد کیا گیا تھا۔ لولا نے ساؤ پاؤلو اور سالواڈور میں ووٹرز کو پولنگ بوتھ تک پہنچانے والی بسوں کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا تھا۔ وہیں، بولسونارو نے جنوبی برازیل میں شدید بارش کا حوالہ دیا تھا۔ بہرحال، بولسونارو نے ووٹنگ کا وقت 2 گھنٹے بڑھانے کے فیصلے کو ناقابل قبول قرار دیا۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ انتخاب کے دوسرے مرحلے کے نتائج منسوخ کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ اس فیصلے کی وجہ سے ووٹوں کی گنتی 2 گھنٹے تاخیر سے شروع ہوئی۔ کچھ پولنگ مراکز پر ووٹنگ مشینیں بند ہو چکی تھیں اور انہیں دوبارہ شروع نہیں کیا جا سکا۔ کتنے مراکز پر اضافی وقت کے دوران ووٹ ڈالے گئے، یہ واضح نہیں ہو سکا۔ بولسونارو کے معاون نکولس فریرا نے اس فیصلے پر سوال اٹھایا، کیونکہ زانین پہلے لولا کے وکیل رہ چکے ہیں۔ بولسونارو اس معاملے میں قانونی کارروائی کی اپیل کر سکتے ہیں۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ انتخاب کے پہلے مرحلے میں بولسونارو کو 47 فیصد اور لولا کو 45 فیصد ووٹ ملے تھے۔ اس کے بعد لولا نے نوجوانوں سے رابطہ بڑھایا۔ انتخاب میں مہنگائی، کھانے پینے کی اشیا کی قیمتیں اور جرائم اہم مسائل رہے۔ دونوں لیڈران کے خاندانوں اور معاونین پر بدعنوانی کے الزامات بھی لگے۔ بولسونارو بدعنوانی کے ایک بڑے تنازعہ میں گھرے رہے، جبکہ لولا کو اس سے پہلے بدعنوانی کے معاملات میں جیل بھیج دیا گیا تھا۔ بعد میں ان کی سزا منسوخ کر دی گئی۔
