آیت اللہ علی خامنہ ای سپردِ خاک، مشہد میں جمع ہوئی لاکھوں کی بھیڑ نے امریکہ-اسرائیل کے خلاف نعرے کیے بلند
اسلامی جمہوریہ ایران کے مذہبی رہنماؤں نے اپنے مذہبی ملک کی طاقت اور نظریاتی جوش و جذبے کا مظاہرہ کرنے کے لیے عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی تھی۔

ایران کے ہلاک شدہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو کئی ماہ انتظار کرنے کے بعد ملک کے مقدس ترین شہر مشہد میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔ ایرانی سرکاری میڈیا نے جمعہ کی صبح اس بارے میں تفصیلی جانکاری دی اور بتایا کہ سب کچھ سخت حفاظتی انتظامات کے درمیان ہوا۔ خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے بڑی تعداد میں لوگ جمع ہوئے تھے۔ تاہم ان کے بیٹے اور جانشیں مجتبیٰ خامنہ ای اب تک عوام کے سامنے نہیں آئے ہیں۔
ایران کے سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو شمال مشرقی ایران کے شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا گیا، جہاں لاکھوں کی بھیڑ انھیں آخری وداعی دینے جمع ہوئی تھی۔ ایک ہفتہ تک بڑے پیمانے پر جنازے کے جلوس، ریلیاں اور تعزیتی تقریبات منعقد کیے جانے کے بعد تدفین کا عمل انجام پایا، جس نے لاکھوں سوگواروں کی آنکھیں نم کر دیں۔
رواں سال 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے دوران امریکہ اور اسرائیل کے فضائی حملوں میں ہلاک ہونے سے قبل آیت اللہ علی خامنہ ای تقریباً 37 برس تک ایران پر حکمرانی کرتے رہے۔ کئی روزہ عوامی سوگ کے بعد آج صبح انہیں ان کے آبائی شہر مشہد میں سپردِ خاک کیا گیا۔ اس دوران لاکھوں لوگوں کی بھیڑ نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف نعرے بھی لگائے گئے۔ تدفین کی تقریب میں ’ٹرمپ کو مار ڈالو‘ لکھے ہوئے پلے کارڈ بھی دکھائی دیے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور ایران گزشتہ ماہ جنگ بندی پر متفق ہوئے تھے، جس کے بعد ایران نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات ادا کرنے کا اعلان کیا۔ خامنہ ای کے جسد خاکی کو جمعرات کے روز ایک ٹرک کے ذریعے مشہد کی بھیڑ بھاڑ والی سڑکوں سے آہستہ آہستہ امام رضاؑ کے روضے کے سنہری گنبد اور میناروں کی جانب لے جایا گیا، جبکہ سفید عمامے پہنے علما دونوں جانب ساتھ ساتھ چل رہے تھے۔ سیاہ لباس میں ملبوس سوگوار ایرانی پرچم، مرحوم خامنہ ای کی تصاویر اور انقلابی نعروں والے سرخ پلے کارڈ اٹھائے ان کے پیچھے چل رہے تھے۔
اس سے قبل اسلامی جمہوریہ ایران کے مذہبی رہنماؤں نے اپنے مذہبی ملک کی طاقت اور نظریاتی جوش و جذبے کا مظاہرہ کرنے کے لیے عوام سے بڑی تعداد میں شرکت کی اپیل کی تھی۔ اس کا اثر واضح طور پر دیکھنے کو ملا جب تقریباً ایک ہفتہ تک جاری رہنے والے تعزیتی پروگراموں میں لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس دوران مختلف ممالک کے سربراہان بھی خامنہ ای کو خراجِ عقیدت پیش کرنے ایران پہنچے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
