حوثی باغیوں کی حراست میں اقوام متحدہ کے ملازم کی موت پر انتونیو گوٹیرس کا اظہار افسوس

محمد الشامی حوثی باغیوں کی حراست میں جان گنوانے والے اقوام متحدہ کے دوسرے ملازم ہیں۔ اس سے قبل فروری 2025 میں عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایک ملازم کی بھی حراست کے دوران موت ہو گئی تھی۔

<div class="paragraphs"><p>انتونیو گوٹیرس، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

یمن میں حوثی باغیوں کی حراست کے دوران اقوام متحدہ (یو این) کے ایک ملازم محمد الشامی کی موت پر اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے گہرے دکھ اور ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس واقعے کی فوری، غیر جانبدارانہ، شفاف اور تفصیلی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ گوٹیرس کے ترجمان کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ ’’سکریٹری جنرل اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسانی حقوق کے ہائی کمشنر (او ایچ سی ایچ آر) کے ساتھ کام کرنے والے الشامی کی موت سے انتہائی صدمے میں ہیں۔ اس واقعے کو افسوسناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ فی الحال ان کی موت کے حالات واضح نہیں ہیں۔‘‘

بیان کے مطابق الشامی کو جون 2024 میں حراست میں لیا گیا تھا۔ اس کے بعد سے حوثی باغیوں کی قائم کردہ انتظامیہ نے اقوام متحدہ کی بار بار درخواستوں کے باوجود نہ تو ان کی حالت کے بارے میں کوئی معلومات فراہم کیں اور نہ ہی ان کے زندہ ہونے کا کوئی ثبوت دیا۔ ترجمان نے کہا کہ ’’اقوام متحدہ اب حوثی حکام سے ان کی موت کے حالات کے بارے میں فوری جواب طلب کر رہا ہے۔ تنظیم نے اس معاملے میں جوابدہی طے کرنے اور پوری حقیقت سامنے لانے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔‘‘


اس واقعے نے یمن میں اقوام متحدہ کے ملازمین کی سلامتی کے حوالے سے ایک بار پھر سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ الشامی حوثی باغیوں کی حراست میں جان گنوانے والے اقوام متحدہ کے دوسرے ملازم ہیں۔ اس سے قبل فروری 2025 میں عالمی غذائی پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کے ایک ملازم کی بھی حراست کے دوران موت ہو گئی تھی۔

سکریٹری جنرل نے یاد دلایا کہ حراست میں رکھے گئے تمام افراد کے ساتھ انسانی سلوک کیا جانا چاہیے اور ان کی بنیادی عزت و وقار اور انسانی حقوق کا احترام کیا جانا چاہیے۔ بیان کے مطابق سکریٹری جنرل حراست میں رکھے گئے اقوام متحدہ کے 70 ملازمین، اقوام متحدہ کے 5 سابق ملازمین اور انسانی ہمدردی کی تنظیموں اور شہری سماج کی تنظیموں کے کارکنوں کی سلامتی اور جسمانی و نفسیاتی صحت کے حوالے سے شدید تشویش میں مبتلا ہیں۔ انہوں نے ان سب کی فوری اور غیر مشروط رہائی کی اپیل کی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔