چین میں پھر آیا زلزلہ، ریکٹر اسکیل پر شدت 5.6 درج
’چین زلزلہ نیٹورک سینٹر‘ (سی ای این سی) کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 تھی۔ اس کا مرکز چنگھائی کے ہائیکسی پریفیکچر میں زمین سے قریب 10 کلو میٹر نیچے تھا۔

شمال مغربی چین کے چنگھائی صوبہ میں مقامی وقت کے مطابق صبح 5.36 پر زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس نے سوتے ہوئے کئی لوگوں کو بیدار کر دیا۔ ’چین زلزلہ نیٹورک سینٹر‘ (سی ای این سی) کے مطابق زلزلے کی شدت 5.6 تھی، جس نے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا کر دی۔ اس کا مرکز چنگھائی کے ہائیکسی پریفیکچر میں زمین سے قریب 10 کلو میٹر نیچے تھا۔ سی ای این سی کے مطابق زلزلے کا مرکز 37.81 ڈگری شمالی عرض البلد اور 95.63 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔ زلزلے کی گہرائی کم ہونے کی وجہ سے آس پاس کے علاقوں میں تیز جھٹکے محسوس کیے گئے۔ فی الحال زلزلے کے سبب کسی جانی یا مالی نقصان کی تصدیق نہیں کی گئی ہے۔ مقامی انتظامیہ کے ذریعہ حالات پر نظر رکھی جا رہی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ چین دنیا کے ان ممالک میں شمار کیا جاتا ہے، جہاں زلزلے کا خطرہ بہت زیادہ ہے۔ اس کی اہم وجہ یہ ہے کہ ملک کے مغربی اور جنوب مغربی حصوں میں انڈین پلیٹ اور یوریشین پلیٹ کے درمیان تصادم کی صورت بنتی ہے۔ یہاں کئی ایکٹو فالٹ بھی موجود ہیں، جس سے زلزلہ کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔ خصوصاً تبت، سیچوان، ینّان، شنجیانگ اور آس پاس کے علاقے زلزلے کی سرگرمیوں کے لحاظ سے حساس ہیں۔ چین کے سیچوان میں 12 مئی 2008 کو 7.9 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس کے نتیجے میں تقریباً 87000 افراد کی موت ہوئی یا لاپتہ ہو گئے تھے، اور بڑی تعداد میں عمارتیں و سڑکیں تباہ ہوئی تھیں۔ یہ چین کی حالیہ تاریخ کی سب سے بڑی قدرتی آفات میں سے ایک تھی۔ حالانکہ اس کے بعد بھی چین میں کئی بار زلزلہ کے تیز جھٹکے محسوس کیے گئے۔
تاریخ پر نظر ڈالیں تو 14 اپریل 2010 کو چنگھائی کے یوشو علاقہ میں 7.1 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں تقریباً 2600 افراد کی موت ہوئی تھی اور ہزاروں لوگ زخمی ہوئے تھے۔ دسمبر 2023 میں گانسو اور چنگھائی کے سرحدی علاقے میں 6.2 شدت کا زلزلہ آیا تھا، جس میں 140 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوئی تھی اور بڑی تعداد میں عمارتیں تباہ ہو گئی تھیں۔ اس زلزلہ میں چین کا مغربی حصہ کافی زیادہ متاثر ہوا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ کئی مواقع پر ہندوستانی پلیٹ شمال کی جانب بڑھتے ہوئے یوریشین پلیٹ سے ٹکرا جاتی ہے۔ اس ٹکراؤ سے ہمالیہ اور تبتی پٹھار (سطح مرتفع) کی تعمیر ہوئی اور آس پاس کی چٹانوں میں مسلسل تناؤ محسوس ہوتا رہا۔ یہ تناؤ ایکٹو فالٹ پر اچانک جاری ہو جاتا ہے، تو زلزلے کا سبب بنتا ہے۔ اس کے علاوہ چین میں سیچوان-ینّان علاقہ، تبت اور شنجیانگ جیسے علاقوں میں کئی ایکٹو فالٹ ہیں۔ اس لیے یہاں چھوٹے اور درمیانے درجے کے زلزلے باقاعدگی سے محسوس کیے جاتے ہیں، جب کہ بعض اوقات انتہائی طاقتور زلزلے بھی آتے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
