ایران-امریکہ مذاکرات کے درمیان روس نے 40 اسرائیلیوں کو حراست میں لیا، کھانا-پانی کے ساتھ ساتھ رفع حاجت سے بھی روکا!
پوچھ تاچھ کے دوران کچھ مسافروں کو بتایا گیا کہ ایران اور روس دوست ممالک ہیں، جو بھی ایران کی مخالفت کرتا ہے اسے روس بھی اپنے خلاف تصور کرتا ہے۔

روس کی راجدھانی ماسکو کے ڈوموڈیڈووو ایئرپورٹ پر اسرائیل سے آئے کچھ لوگوں کو حراست میں لے کر پوچھ تاچھ کی گئی ہے۔ میڈیا آؤٹ لیٹ ’میڈیازونا‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق تقریباً 40 اسرائیلی شہریوں کو ایئرپورٹ پر روکا گیا۔ یہ سبھی تل ابیب سے آئی فلائٹ سے ماسکو پہنچے تھے۔ ان میں سے کچھ لوگوں کے پاس اسرائیلی اور روسی دونوں ممالک کی شہریت بھی تھی۔
بتایا جا رہا ہے کہ جن لوگوں کو ایئرپورٹ پر روکا گیا، ان سے ایران جنگ کے بارے میں پوچھ تاچھ کی گئی۔ حالانکہ اس سلسلے میں آفیشیل طور پر زیادہ جانکاری سامنے نہیں آئی ہے۔ رپورٹ میں یہ ضرور بتایا گیا ہے کہ حراست کے دوران بندیوں کو کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑا۔ انھیں کھانا اور پانی کے ساتھ ساتھ رفع حاجت جانے کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔ پوچھ تاچھ کے دوران روسی افسران نے ان سے موبائل فون اَن لاک کرنے کو کہا، لیکن مسافروں نے ایسا کرنے سے منع کر دیا۔ اس کے بعد افسران نے سبھی سے ان کے فون بند کروا دیے۔
پوچھ تاچھ کے دوران کچھ مسافروں کو بتایا گیا کہ ایران اور روس دوست ممالک ہیں، جو بھی ایران کی مخالفت کرتا ہے اسے روس بھی اپنے خلاف تصور کرتا ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان سے کہا گیا کہ ماسکو آنا ان کے لیے ٹھیک نہیں تھا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق جب انھیں چھوڑا گیا تو ان سے کچھ کاغذات پر دستخط کروائے گئے۔ ان کاغذات میں قانون توڑنے کے خطرات کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا۔ رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اس وقت افسران کا سلوک بہت جابرانہ تھا۔ ایک اسرائیلی شخص نے کہا کہ حراست میں لیے گئے لوگوں کی تعداد بتائی گئی تعداد سے کچھ کم تھی، لیکن بہت زیادہ فرق نہیں ہے۔ اس حادثہ کی تصدیق بعد میں اسرائیلی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے بھی کی۔