’امریکہ کو نہ مذاکرہ کی پروا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی‘، فوجی ٹھکانوں پر شدید حملوں کے بعد ایران کا رد عمل

ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے کہا کہ ’’جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح آخرکار امریکہ کے لیے پسپائی اور پچھتاوے کا سبب بنے گی۔ اب الزام تراشی کا کھیل نہیں چلے گا۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>امریکی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی، تصویر ’ایکس‘</p></div>
i

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر کشیدگی خطرناک سطح تک پہنچ گئی ہے۔ آبنائے ہرمز میں تجارتی جہاز پر ایران کے ذریعہ ڈرون حملہ کے بعد امریکہ نے ایران کے کئی فوجی ٹھکانوں پر جوابی فضائی حملہ کر دیا۔ اس کارروائی کے بعد ایران کا پہلا رد عمل سامنے آیا ہے، جو حالات کے مزید کشیدہ ہونے کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ ایرانی رکن پارلیمنٹ ابراہیم عزیزی نے امریکہ پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’’مذاکرات کے دوران حملہ کر کے امریکہ نے ثابت کر دیا ہے کہ اسے نہ بات چیت کی پروا ہے اور نہ ہی جنگ بندی کی۔‘‘

ابراہیم عزیزی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر جاری اپنے بیان میں لکھا ہے کہ ’’امریکہ نے ایک بار پھر مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا۔ ناکام امریکی صدر نے دکھا دیا ہے کہ اسے مذاکرات کے اصولوں یا جنگ بندی کے تئیں کوئی وابستگی نہیں ہے۔‘‘ وہ مزید لکھتے ہیں کہ ’’جنگ بندی کی یہ غیر ذمہ دارانہ خلاف ورزی ہمیشہ کی طرح آخرکار امریکہ کے لیے پسپائی اور پچھتاوے کا سبب بنے گی۔ اب الزام تراشی کا کھیل نہیں چلے گا۔‘‘


اس سے قبل امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ 25 جون کو آبنائے ہرمز سے عمان کے ساحل کے قریب گزرنے والے سنگاپور کے پرچم بردار مال بردار جہاز ایم/وی ایور لولی پر یک طرفہ حملہ آور ڈرون کے ذریعہ حملہ کیا گیا تھا۔ سینٹ کام کے مطابق اسی حملہ کے جواب میں 26 جون کو امریکی فوج نے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرتے ہوئے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ جوابی کارروائی میں ایران کے میزائل اور ڈرون ذخیرہ مراکز کے علاوہ ساحلی رڈار ٹھکانوں پر بھی فضائی حملے کیے گئے۔ سینٹ کام نے دعویٰ کیا کہ تجارتی جہاز پر حملہ مکمل طور پر غیر مناسب تھا اور یہ جنگ بندی معاہدے کی واضح خلاف ورزی ہے۔

آبنائے ہرمز کے موجودہ حالات کا ذکر کرتے ہوئے سینٹ کام نے کہا کہ امریکی فوج آبنائے ہرمز سے گزرنے والے تمام تجارتی جہازوں کے لیے محفوظ آمد و رفت یقینی بنانے کے مقصد سے اتحادی ممالک کے ساتھ رابطہ اور تعاون جاری رکھے گی۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ اس کی فوج پورے خطے میں مکمل طور پر مستعد اور تعینات ہے تاکہ ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا سکے۔


اس درمیان برطانوی فوج نے بھی تصدیق کی ہے کہ عمان کے ساحل کے قریب ایک کنٹینر بردار جہاز کسی پروجیکٹائل کی زد میں آیا تھا۔ یونائیٹڈ کنگڈم میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز کے مطابق اس واقعہ میں کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی ہے۔ اس واقعہ سے خطہ میں کشیدگی کافی بڑھ گئی ہے اور بین الاقوامی بحری تنظیم (آئی ایم او) نے خلیج فارس میں پھنسے جہازوں کے انخلا کا عمل فی الحال روک دیا ہے۔ آئی ایم او کا کہنا ہے کہ جب تک علاقہ میں موجود دیگر جہازوں کی سلامتی یقینی نہیں بنا لی جاتی، انخلا دوبارہ شروع نہیں کیا جائے گا۔ آئی ایم او کے سکریٹری جنرل آرسینیو ڈومینگیز کے مطابق حالیہ دنوں میں تقریباً 115 جہاز آبنائے ہرمز سے گزر چکے ہیں، جبکہ کم و بیش 500 جہاز اب بھی اس علاقہ میں موجود ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔