’امریکہ و اسرائیل گھٹنے ٹیکیں، ہرجانہ ادا کریں، تبھی رکے گی جنگ‘، ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ کا پہلا بڑا حکم آیا سامنے

ایک سینئر ایرانی افسر کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ بندی سے متعلق ان سبھی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، جو دوسرے ممالک کے ذریعہ ایران تک بھیجے گئے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای / آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ کے درمیان اپنی طرف سے پہلا بڑا حکم صادر کیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ جنگ تبھی رکے گی جب امریکہ و اسرائیل گھٹنے ٹیک دیں گے۔ مجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ ابھی امن کا کوئی امکان نہیں ہے۔

ایک سینئر ایرانی افسر کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے جنگ بندی سے متعلق ان سبھی تجاویز کو مسترد کر دیا ہے، جو دوسرے ممالک کے ذریعہ ایران تک بھیجے گئے تھے۔ خبر رساں ایجنسی ’رائٹرس‘ کے مطابق افسر نے بتایا کہ 2 ممالک نے ایران کی وزارت خارجہ تک یہ پیغام پہنچائے تھے، لیکن ان کے بارے میں زیادہ جانکاری نہیں دی گئی۔


موصولہ اطلاع کے مطابق متجبیٰ خامنہ ای کا کہنا ہے کہ اب امن کا وقت نہیں ہے۔ جب تک امریکہ و اسرائیل کو گھٹنوں پر نہیں لایا جاتا، وہ شکست نہیں مانتے اور ایران کو ہرجانہ نہیں دیتے، تب تک کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا۔ بتایا جا رہا ہے کہ سپریم لیڈر نے اپنی پہلی خارجہ پالیسی میٹنگ میں بہت سخت رخ اختیار کیا اور امریکہ و اسرائیل سے بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا۔ حالانکہ یہ واضح نہیں ہے کہ وہ اس میٹنگ میں خود موجود تھے یا آن لائن شریک ہوئے تھے۔

قابل ذکر ہے کہ ایران میں ’سپریم لیڈر‘ سب سے طاقتور عہدہ ہوتا ہے اور سبھی بڑے فیصلے وہی لیتے ہیں۔ مجتبیٰ کامنہ ایک کو ایک ہفتہ قبل مذہبی کونسل نے ان کے والد علی خامنہ ای کی جگہ منتخب کیا تھا۔ ان کے منتخب کیے جانے کے بعد سے ان کی کوئی نئی تصویر سامنے نہیں آئی ہے۔ کچھ ایرانی افسران کا کہنا ہے کہ حالیہ حملوں میں انھیں ہلکی چوٹ آئی تھی، جبکہ امریکہ کا دعویٰ ہے کہ انھیں سنگین چوٹیں لگی ہیں۔


بہرحال، اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ تیسرے ہفتہ میں داخل ہو چکی ہے۔ اس جنگ میں اب تک تقریباً 2000 لوگوں کی موت ہو چکی ہے اور خطہ کے حالات اب بھی کشیدہ بنے ہوئے ہیں۔ آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے، جس سے تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے اور دنیا بھر میں مہنگائی بڑھنے کا خطرہ ہے۔ اپنے پہلے پیغام میں سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز کو بند رکھنا ایران کے دشمنوں پر دباؤ بنانے کا طریقہ ہے۔ دوسری طرف امریکی صدر ٹرمپ نے بھی جنگ ختم کرنے کے لیے شروع ہوئی سفارتی کوششوں کو خارج کر دیا ہے، جس سے ٹکراؤ مزید بڑھتا ہوا نظر آ رہا ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔