’بحرین میں امیزن کا ڈیٹا انفراسٹرکچر تباہ کر دیا‘، آئی آر جی سی کا دعویٰ
اپنے بیان میں آئی آر جی سی نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف مزید وسیع تر میزائل اور ڈرون حملوں کی وارننگ دی ہے۔ امریکی فوج سے خطہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے، تاکہ آگے ہونے والے نقصان سے بچا جا سکے۔

ایران کی اسلامک ریولوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے امریکہ کی جانب سے جنوبی ایران میں زیر تعمیر دارخوین جوہری مرکز پر کیے گئے حملے کے جواب میں بحرین میں امریکی کمپنی امیزن کے مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو میزائل حملے میں تباہ کر دیا ہے۔ آئی آر جی سی کے شعبہ تعلقات عامہ کی جانب سے جاری کردہ بیان کے حوالے سے ’فارس نیوز ایجنسی‘ نے بتایا کہ اس مہم میں کئی کروز میزائلوں کا استعمال کیا گیا، جنہوں نے بحرین میں واقع امیزن کے مرکزی ڈیٹا انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا اور اسے تباہ کر دیا۔
ایرانی افسران کے مطابق جنوبی ایران میں واقع زیر تعمیر دارخوین جوہری مرکز کو پیر کو امریکی فوجی حملے میں نقصان پہنچا ہے۔ ایران کا کہنا ہے کہ یہ مرکز بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کے نگرانی کے نظام کے تحت تھا۔ آئی آر جی سی نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ اس کی ایرواسپیس فورس نے اردن میں ایک امریکی فوجی اڈے پر میزائل حملے کے دوران ایک میزائل ڈیفنس رڈار سسٹم کو تباہ کر دیا اور ایک محفوظ ایئر کرافٹ شیلٹر میں موجود ایف-15 جنگی طیارے کو بھی نقصان پہنچایا۔
اپنے بیان میں آئی آر جی سی نے خطے میں موجود امریکی فوجی اڈوں کے خلاف مزید وسیع تر میزائل اور ڈرون حملوں کی وارننگ دی ہے۔ تنظیم نے امریکی فوج سے خطہ چھوڑنے کی اپیل کی ہے، تاکہ آگے ہونے والے نقصان سے بچا جا سکے۔ ایک دیگر بیان میں آئی آر جی سی نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے کویت کے احمد الجابر ایئر بیس پر امریکی ایئر ڈیفنس سے منسلک کئی اہم سسٹم کو نشانہ بنایا۔ اس میں ارلی وارننگ راڈار، میزائل ڈیفنس رڈار سسٹم، اے این/ایف پی ایس-117 راڈار، پیٹریاٹ ایئر ڈیفنس سسٹم اور امریکی فضائی دفاعی آپریشنز کو مدد فراہم کرنے والے سیٹلائٹ کمیونیکیشن سسٹم کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ آئی آر جی سی نے کہا کہ ان رڈار نظاموں کو ناکارہ بنانے کے بعد اب دشمن کو ڈرون اور میزائلوں کے مزید فیصلہ کن اور زیادہ تباہ کن حملوں کے لیے تیار رہنا چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
