امریکہ: امیزن کا مال بردار طیارہ میامی ایئرپورٹ پر حادثہ کا شکار، کم از کم 5 لوگوں کی موت
میامی کے حکام نے بتایا کہ ابھی یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ مرنے والے لوگ طیارے میں سوار تھے یا ان گاڑیوں میں جن سے طیارہ ٹکرایا تھا۔

میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر امیزن کا ایک مال بردار طیارہ حادثہ کا شکار ہو گیا، جس سے وہاں ہلچل مچ گئی۔ طیارہ رَنوے پر اچانک پھسل گیا، جس کے بعد وہ گاڑیوں سے ٹکرایا اور پھر اس میں آگ لگ گئی۔ اس حادثہ میں کم از کم 5 لوگوں کی موت ہو گئی ہے۔ سان جوآن، پورٹو ریکو سے آنے کے بعد یہ طیارہ اتوار کے روز مقامی وقت دوپہر تقریباً 2 بجے رنوے سے آگے نکل گیا۔ میامی-ڈیڈ کاؤنٹی کے حکام نے ایک پریس کانفرنس میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حادثہ میں 5 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ انھوں نے 3 دیگر کے شدید زخمی ہونے اور 2 افراد کو سنگین چوٹوں کے ساتھ اسپتال میں داخل کیے جانے کی بھی اطلاع دی۔
میامی کے حکام نے بتایا کہ ابھی یہ طے کرنا قبل از وقت ہوگا کہ مرنے والے لوگ طیارے میں سوار تھے یا ان گاڑیوں میں جن سے طیارہ ٹکرایا تھا۔ میامی-ڈیڈ ریسکیو فائر چیف رے جداللہ نے بتایا کہ اس حادثہ کے بعد آسمان پر گھنا سیاہ دھواں اٹھنے لگا۔ پائلٹ اور شریک پائلٹ کاک پٹ میں پھنس گئے اور کچھ لوگ کاروں میں پھنس گئے۔ ایک دیگر شخص گاڑی کے نیچے پھنسا ہوا تھا۔
اس حادثہ کے سبب دوپہر کے وقت اس مصروف ایئرپورٹ پر پروازیں بھی روک دی گئیں۔ جداللہ نے بتایا کہ حادثہ کے کئی گھنٹے بعد بھی فائر بریگیڈ کی ٹیمیں طیارے سے ہونے والے فیول لیکیج کو روکنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ جائے حادثہ کی تصاویر سے پتہ چلا کہ ’پرائم ایئر‘ کا طیارہ 2 سیمی ٹرکوں کے قریب سڑک کے کنارے رکا ہوا تھا۔ طیارہ اپنے پیٹ کے بل رکا ہوا نظر آ رہا تھا اور آگ لگنے کے باوجود کافی حد تک صحیح سلامت تھا۔
اس پرواز کو نارتھ کیرولینا واقع کارگو کیریئر ’21 ایئر‘ آپریٹ کر رہا تھا۔ فلائٹ ٹریکنگ سائٹ ’فلائٹ رڈار 24‘ کے مطابق 32 سال پرانا بوئنگ 767 اصل میں مسافروں کو لے جانے کے لیے بنایا گیا تھا اور 2015 میں کارگو طیارے میں تبدیل کیے جانے سے پہلے 2 دہائیوں سے زیادہ عرصے تک کئی ایئرلائنز کے لیے پرواز کرتا رہا تھا۔
پروازوں میں رکاوٹوں پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ ’فلائٹ اویئر‘ کے مطابق اتوار کی دیر دوپہر ایئرپورٹ پر تقریباً 250 پروازیں تاخیر سے چلیں۔ نیشنل ٹرانسپورٹیشن سیفٹی بورڈ نے کہا ہے کہ وہ تحقیقات کے لیے چیئر وومن جینیفر ہومینڈی کی قیادت میں ایک ٹیم میامی بھیج رہا ہے۔ امیزن نے ایک بیان میں کہا کہ وہ کسی بھی تحقیقات میں تعاون کرے گا۔ کمپنی نے کہا کہ ’’ہمیں یہ جان کر بہت افسوس ہوا ہے کہ میامی انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر آج ہونے والے حادثہ میں 5 لوگوں کی جان چلی گئی۔ ہماری گہری ہمدردیاں ان خاندانوں، عزیزوں اور ان تمام لوگوں کے ساتھ ہیں جو اس المناک نقصان سے متاثر ہوئے ہیں۔‘‘
حادثہ والی جگہ کے قریب الیکٹرانکس کی دکان چلانے والے جیکسن لی نے بتایا کہ طیارہ پھسلنے کے بعد وہ اپنے 4 ساتھیوں کے ساتھ باہر نکلے اور انہوں نے ایئرپورٹ کی باڑ کے قریب دھواں اٹھتے دیکھا۔ لی نے کہا کہ ہم ہر 5 منٹ میں طیارے کو پرواز بھرتے اور اترتے سنتے ہیں۔ مجھے لگا تھا کہ مجھے اس کی عادت ہو گئی ہے۔ میں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ یہ ہمارے اتنے قریب آ سکتا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
