آبنائے ہرمز کے بعد اب نہر سوئز کو بند کرنے کی تیاری، امریکہ-ایران جنگ کے 12 دن بعد حوثی ہوئے سرگرم
جنگ کے بارہویں دن ایران کے حوثی باغی سرگرم ہو گئے ہیں۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی نہر سوئز پر راکٹ سے حملہ کریں گے، جس کے باعث اس نہر میں آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔
مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ فی الحال ختم ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ امریکہ-اسرائیل اور ایران کے درمیان اس جنگ سے دنیا کے بیشتر ممالک متاثر ہیں اور مہنگائی بڑھنی شروع ہو چکی ہے۔ آبنائے ہرمز بند ہونے سے حالات لگاتار مشکل ہوتے جا رہے ہیں۔ اب خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ جلد ہی نہر سوئز کو بھی بلاک کیا جا سکتا ہے۔ یہ کوشش حوثی باغیوں کے ذریعہ کی جا رہی ہے جو کہ امریکہ-ایران جنگ کے بارہویں دن سرگرم ہو گئے ہیں۔ حوثی باغی جلد ہی اس نہر کو بند کرنے کے لیے بحیرۂ احمر میں حملہ کر سکتے ہیں۔ نہر سوئز بحیرۂ احمر کے راستے سے ہی گزرتی ہے، جہاں حوثی باغیوں کا اثر و رسوخ ہے۔ نہر سوئز کو یوروپ اور مشرق وسطیٰ کی لائف لائن تصور کیا جاتا ہے۔
آئی ٹی وی نیوز انٹرنیشنل کے مطابق جنگ کے بارہویں دن ایران کے حوثی باغی سرگرم ہو چکے ہیں۔ حوثیوں نے کہا ہے کہ وہ جلد ہی نہر سوئز پر راکٹ سے حملہ کریں گے، جس کے باعث اس میں آمد و رفت متاثر ہو سکتی ہے۔ باغیوں کی کوشش یمن اور جبوتی کے درمیان واقع باب المندب کے ذریعہ ہونے والی جہاز رانی کو متاثر کرنے کی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد مشرق وسطیٰ کے ممالک دوسرے راستوں سے یوروپ کو تیل بھیجنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ پہلے نہر سوئز سے روزانہ تقریباً 70 سے 80 مال بردار جہاز گزرتے تھے، اب اس تعداد کو بڑھانے کی تیاری ہو رہی ہے۔ اگر یہ متبادل راستہ تیار ہو جاتا ہے تو ایران کے لیے ایک دھچکا ثابت ہوگا۔ کیونکہ ایران اب اس جنگ کو جلد روکنے کا متمنی نہیں ہے، بلکہ وہ ایران اور اسرائیل کو سبق سکھانے کے درپے ہے۔ اس صورت میں دنیا کی معیشت بحران کا شکار ہوگی، جس کی فکر ایران کو بالکل بھی نہیں ہے۔ اسلامک ریولوشنری گارڈ کارپس (آئی آر جی سی) کا کہنا ہے کہ اگر مشرقِ وسطیٰ میں جنگ طویل عرصے تک جاری رہتی ہے تو وہ ایک لیٹر تیل بھی باہر نہیں جانے دیں گے۔
دنیا کی تقریباً 12 فیصد تجارت نہر سوئز کے ذریعہ ہوتی ہے۔ اس نہر کے راستے کپڑے، الیکٹرانک سامان اور تیل کی ترسیل کی جاتی ہے۔ نہر سوئز کی وجہ سے یوروپ سے ایشیا تک مال بردار جہازوں کا فاصلہ تقریباً 7,000 کلومیٹر کم ہو جاتا ہے۔ اسے یوروپ کے لیے ایک اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اس نہر کا کنٹرول فی الحال مصر کی حکومت کے پاس ہے۔ مصر میں عبد الفتح السیسی کی قیادت میں امریکہ کی حمایت یافتہ حکومت ہے۔
بہرحال، اگر نہر سوئز کا یہ اہم مقام بند ہو جاتا ہے تو اس کا براہ راست اثر ہندوستان، چین، جاپان، جنوبی کوریا، سنگاپور، فرانس اور اٹلی جیسے ممالک پر پڑے گا۔ پہلے ہی آبنائے ہرمز کے بند ہونے سے دنیا میں مشرق وسطیٰ کے ذریعہ تیل کی برآمدات میں 20 فیصد کمی آ چکی ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔