عبدالسید نے رقم کی تاریخ، فتح کا پرچم لہرا کر امریکی سینیٹ کے پہلے مسلم رکن بنے
جنوب مشرقی مشی گن میں پیدا ہونے اور وہیں پرورش پانے والے عبدالسید نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے ہائی اسکول کی فٹ بال، ریسلنگ اور لیکروس ٹیموں کے کپتان بھی رہے۔

ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار عبدالسید نے مشیگن میں امریکی سینیٹ کی سیٹ کے انتخاب میں ریپبلکن امیدوار مائک راجرز کو شکست دے دی ہے۔ یہ کامیابی صحت عامہ کے سابق عہدیدار کے لیے ایک بڑی حصولیابی ہے، جنہوں نے ڈاکٹر کی حیثیت سے تربیت حاصل کرنے کے بعد سیاست میں قدم رکھا تھا۔ اس کامیابی کے ساتھ عبدالسید نے امریکی سینیٹ کے لیے منتخب ہونے والے پہلے مسلمان بن کر تاریخ رقم کی ہے۔ السید نے ’یونیورسل ہیلتھ کیئر‘ (سب کے لیے صحت کی سہولت) اور حکومت کی جوابدہی کو اپنی انتخابی مہم کا اہم ایجنڈا بنایا تھا۔ انہوں نے ملک کے اہم سیاسی میدانوں میں سے ایک میں ہونے والے سخت مقابلے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
ان کی یہ کامیابی اگست 2026 میں ہونے والے ایک متنازع ڈیموکریٹک پرائمری انتخاب کے بعد سامنے آئی ہے، جس میں انہوں نے حکمراں طبقے کی حمایت یافتہ رکن پارلیمنٹ ہیلی اسٹیونز کو معمولی فرق سے شکست دی تھی۔ مشی گن میں ہونے والے اس انتخاب نے قومی سطح پر توجہ حاصل کی تھی، کیونکہ ڈیموکریٹس سینیٹ کا کنٹرول دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔
کانگریس کے سابق رکن اور ایوان نمائندگان کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سابق چیئرمین راجرز 2024 میں ڈیموکریٹ امیدوار ایلیسا سلاٹکن سے 20 ہزار سے بھی کم ووٹوں کے فرق سے شکست کھانے کے بعد دوسری بار سینیٹ کی نشست جیتنے کی کوشش کر رہے تھے۔ عبدالسید کے لیے یہ کامیابی ان کے سیاسی سفر کا ایک اہم پڑاؤ ہے، جس کی شروعات طب کے شعبے میں ان کے کریئر سے ہوئی تھی۔ ان کی انتخابی مہم کی ویب سائٹ کے مطابق انہوں نے ابتدا میں ڈاکٹر بننے کی تربیت حاصل کی تھی، لیکن بعد میں انہیں محسوس ہوا کہ سیاسی نظام کی خامیاں ہی لوگوں کے صحت سے متعلق مسائل کی بنیادی وجہ ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ عبدالسید نے اپنا کیریئر صحتِ عامہ اور سرکاری انتظامیہ کے شعبوں میں بنایا ہے۔ اس میں وین کاؤنٹی کے محکمہ صحت، انسانی خدمات اور سابق فوجیوں کی خدمات کے ڈائریکٹر کی حیثیت سے کام کرنا بھی شامل ہے۔ ان کی انتخابی مہم کا بنیادی زور اس بات پر تھا کہ صحت کی سہولتیں سبھی کے لیے قابل رسائی ہونی چاہئیں اور حکومت کو امیر لوگوں یا بڑی کمپنیوں کے بجائے عام امریکی شہریوں کے لیے کام کرنا چاہیے۔
جنوب مشرقی مشی گن میں پیدا ہونے اور وہیں پرورش پانے والے عبدالسید نے سرکاری اسکولوں میں تعلیم حاصل کی۔ وہ اپنے ہائی اسکول کی فٹ بال، ریسلنگ اور لیکروس ٹیموں کے کپتان بھی رہے۔ انہوں نے یونیورسٹی آف مشی گن سے اعلیٰ ترین اعزاز کے ساتھ گریجویشن کیا اور وہاں کی مردوں کی لیکروس ٹیم کے لیے بھی کھیلے۔ بعد میں نیشنل انسٹی ٹیوٹس آف ہیلتھ کی مالی اعانت سے چلنے والی فیلوشپ کے ذریعے کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور روڈس اسکالر کی حیثیت سے یونیورسٹی آف آکسفورڈ سے دوسری ڈاکٹریٹ بھی مکمل کی۔ ان کے والد محمد مصر سے ہجرت کرکے امریکہ آئے تھے، جبکہ ان کی سوتیلی والدہ جیکی کا تعلق ایسے خاندان سے ہے جو 1800 کی دہائی سے مشی گن کی گریشیئٹ کاؤنٹی میں آباد ہے۔ عبدالسید اپنی اہلیہ سارہ اور دو بیٹیوں امالی اور سیرین کے ساتھ این آربر میں رہتے ہیں۔
عبدالسید کی کامیابی کا ساحلی کرناٹک سے ایک ذاتی تعلق بھی ہے۔ یہ تعلق ان کی اہلیہ ڈاکٹر سارہ جوکاکو کے ذریعہ ہے، جو نفسیاتی امراض کی ماہر ہیں۔ ان کے خاندان کا تعلق بھٹکل سے ہے، جو منگلورو سے تقریباً 140 کلومیٹر دور واقع ہے۔ سارہ دراصل جوکاکو شمس الدین کی پوتی ہیں۔ شمس الدین نے اس وقت کے وزیر اعلیٰ بی ڈی جتی کی قیادت میں ریاست میسور میں وزیر مملکت برائے مالیات کی حیثیت سے کام کیا تھا۔
بہرحال، انتخاب میں کامیابی کے بعد عبدالسید نے کہا کہ ’’میں اسی کھلے دل، وسیع النظر سوچ، پختہ عزم اور سچی لگن کے ساتھ آپ کی خدمت کرنے کا خواہش مند ہوں، جس کا مظاہرہ آپ نے میرے لیے کیا ہے۔‘‘ وہ مزید کہتے ہیں کہ ’’میرے مشکل ترین وقت میں آپ نے مجھے عزت اور طاقت دی۔ آپ نے مجھے وہ امید اور حوصلہ فراہم کیا جس نے مجھے اپنی بہترین صلاحیتوں کے ساتھ کام کرنے کی طاقت دی۔ مجھے امید ہے کہ آپ کی خدمت کے لیے میں یہ تمام خوبیاں اپنے ساتھ واشنگٹن لے جا سکوں گا۔‘‘
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
