قدرتی آفت سے متاثر تبت میں آیا 5.0 شدت کا زلزلہ، انتظامیہ الرٹ
26 اگست کو گلیشیئر پھٹنے کے بعد تبت میں زلزلہ کے جھٹکے محسوس ہوئے تھے، پھر سیلاب کی تباہی برداشت کرنی پڑی تھی۔ اب تازہ زلزلہ نے لوگوں میں خوف و دہشت پیدا کر دی ہے۔

تبت میں جمعرات کی دوپہر زلزلہ کے جھٹکے محسوس کیے گئے، جس نے لوگوں کو خوف و دہشت میں مبتلا کر دیا ہے۔ زلزلے کی شدت ریکٹر اسکیل پر 5.0 ریکارڈ کی گئی ہے، جسے درمیانہ درجہ کا تصور کیا جاتا ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق دوپہر تقریباً 1.46 بجے آئے اس زلزلہ کا مرکز 31.479 ڈگری شمالی عرض البلد اور 80.370 ڈگری مشرقی طول البلد پر تھا۔ اس کی گہرائی زمین کے اندر تقریباً 14 کلومیٹر بتائی گئی ہے۔ اس زلزلہ کا مقام تبت کے علاقہ میں ہی درج کیا گیا ہے۔ فی الحال اس قدرتی آفت سے کسی بھی طرح کے جانی و مالی نقصان کی اطلاع سامنے نہیں آئی ہے۔ انتظامیہ اور متعلقہ ایجنسیاں صورتحال پر نظر رکھے ہوئی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ تبت کچھ روز پہلے ہی ایک قدرتی آفت سے تباہی کا سامنا کر چکا ہے۔ 26 اگست کو گلیشیئر ٹوٹنے کے بعد تبت میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے گئے تھے، اور پھر اس کے بعد تبت کو سیلاب کی تباہی برداشت کرنی پڑی۔ چین کی سرحد سے متصل علاقے میں بڑے پیمانے پر لوگ متاثر ہوئے اور نیپال میں تو یہ تباہی کچھ زیادہ ہی ہلاکت خیز ثابت ہوئی۔
نیپال-تبت سرحد کے قریب آنے والے خوفناک سیلاب کے بعد تبت میں تقریباً 100 نیپالی شہریوں کے لاپتہ ہونے کی خبر ہے۔ نیپال کی وزارت خارجہ کے ترجمان لوک بہادر چھیتری نے اس کی اطلاع دی۔ نیپال میں اس سیلاب سے اب تک تقریباً 1,250 لوگوں کی موت ہو چکی ہے، جبکہ تقریباً 5 ہزار لوگ اب بھی لاپتہ ہیں۔ سیلاب کے ایک ہفتہ بعد بھی کئی علاقوں میں راحت و بچاؤ کا کام جاری ہے۔ وزارت خارجہ کے مطابق رسوا ضلع کی بھوٹے کوشی ندی میں بہہ گئے کم از کم 19 لوگوں کی لاشیں ہندوستان میں ملی ہیں۔ یہ لاشیں بھوٹے کوشی ندی سے بہہ کر تریشولی اور نارائنی ندی کے راستے ہندوستان پہنچی ہیں۔ لاشیں نیپال کی سرحد سے متصل ہندوستان کے روپن دیہی اور نول پراسی مغرب علاقوں میں ملی ہیں۔ انہیں نیپال کے حوالہ کرنے کا عمل جاری ہے۔
یہ بھی جانکاری دی گئی ہے کہ تقریباً 3,000 نیپالی شہری کاروبار اور تیرتھ یاترا کے لیے تبت گئے تھے، جو سیلاب کی وجہ سے وہاں پھنس گئے۔ ان میں سے 2,500 سے زیادہ لوگ بحفاظت نیپال واپس لوٹ چکے ہیں۔ انہوں نے ہلسہ اور تاتوپانی سرحدی چوکیوں کے ذریعے واپسی کی، جبکہ کچھ لوگ ہوائی راستے سے بھی واپس آئے۔ فی الحال تقریباً 1,500 نیپالی شہری تبت کے کیرونگ سرحدی علاقے میں پھنسے ہوئے ہیں۔ دونوں ممالک کے حکام انہیں بحفاظت نیپال لانے کے لیے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ خوفناک سیلاب 26 اگست کو نیپال-تبت سرحد کے قریب برف اور چٹانوں کے بڑے حصے کے کھسکنے کے بعد آیا تھا۔ اس نے نیپال کے شمالی اور وسطی حصوں کے کئی شہروں اور گاؤں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچائی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
