غربت کی زد میں آ سکتے ہیں 45 ملین افراد، مشرق وسطیٰ کی جنگ کے اثر پر اقوام متحدہ کی رپورٹ

اقوام متحدہ کے سب سے بڑے عالمی ترقیاتی نیٹورک ’یو این ڈی پی‘ نے وارننگ جاری کی ہے کہ ایران-امریکہ کے درمیان جنگ ختم ہونے کے باوجود معاشی، مالیاتی اور سماجی طور پر اس کا اثر بنا رہ سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر اے آئی</p></div>
i

ایران-امریکہ جنگ کے درمیان اپریل میں ورلڈ بینک کی ایک رپورٹ آئی تھی۔ اس رپورٹ میں یہ خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ ایران-امریکہ جنگ کے باعث مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی جیو پولیٹیکل کشیدگی کا عالمی توانائی مارکیٹ کے ساتھ ساتھ ہی کموڈٹی بازاروں میں بھی شدید اثر دیکھنے کو مل سکتا ہے۔ لیکن اب ایران-امریکہ جنگ ختم ہونے کے باوجود یہ بحران ختم ہوتا نظر نہیں آ رہا ہے۔

اقوام متحدہ کے سب سے بڑے عالمی ترقیاتی نیٹورک ’یو این ڈی پی‘ نے وارننگ جاری کی ہے کہ ایران-امریکہ کے درمیان جنگ ختم ہونے کے باوجود معاشی، مالیاتی اور سماجی طور پر اس کا اثر بنا رہ سکتا ہے۔ ساتھ ہی بڑی تعداد میں لوگ غربت کا شکار ہو سکتے ہیں۔ اپریل کے مہینے میں کئی ترقی پذیر ممالک نے سبسڈی، قیمت کی حد طے کرنے، ٹیکس میں کٹوتی اور مطالبات کو کنٹرول کرنے والے اقدامات کے ذریعہ خاندانوں اور کاروباروں کو توانائی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں سے بچانے کی کوشش کی ہے۔ لیکن ان ممالک کو اس کی بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔


یو این ڈی پی کے مطابق آنے والے سالوں میں غربت میں کافی اضافے کا خدشہ ہے۔ عالمی ترقی کی خراب صورتحال میں اعلیٰ متوسط آمدنی والے معیارات کے مطابق مزید 1.7 کروڑ لوگ غربت کی زد میں آ سکتے ہیں۔ سنگین صورتحال میں یہ تعداد 4.5 کروڑ تک پہنچ سکتی ہے۔ 2026 میں کاربن پر مبنی ایندھن یعنی فوسل فیولز کی سبسڈی ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ ہونے کا امکان ہے اور اگر تیل کی قیمتیں 110 ڈالر فی بیرل تک پہنچ جاتی ہیں تو یہ 1.43 ٹریلین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔ اس کا اثر مختلف خطوں میں الگ الگ ہے۔ افریقہ میں کھاد کی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث غذائی عدم تحفظ کے مزید بگڑنے کا خطرہ ہے، جبکہ مشرقی ایشیا میں مالی بوجھ بڑھے گا، خواہ توانائی کی سبسڈی نے مہنگائی کو قابو میں کر رکھا ہو۔

واضح رہے کہ یہ صورتحال ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہے جب دنیا کے تقریباً نصف غریب ممالک پہلے ہی قرض کے بحران میں مبتلا ہیں یا ان پر اس کا شدید خطرہ منڈلا رہا ہے۔ جیسے جیسے قرض کی ادائیگی کی لاگت بڑھ رہی ہے اور مالیاتی ذخائر ختم ہو رہے ہیں، کئی حکومتوں کو صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے سے وسائل ہٹا کر دوسری جگہوں پر لگانے کے لیے مجبور ہونا پڑ رہا ہے۔ اس بحران سے نمٹنے اور ترقی کی کامیابیوں کو محفوظ رکھنے کے لیے کمزور ممالک کو مسلسل کثیر جہتی تعاون کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ ورلڈ بینک نے اپنی رپورٹ میں 2026 کے آخر تک کھاد کی قیمتوں میں 31 فیصد اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی کسانوں کی آمدنی کم ہونے اور مستقبل میں فصلوں کی پیداوار خطرے میں پڑنے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا ہے۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بھلے ہی ختم کیوں نہ ہو گئی ہو، لیکن اس کے پہلے سے نظر آنے والے اثرات آگے بھی جاری رہیں گے۔ غذائی سپلائی پر پڑنے والا اثر رواں سال 45 ملین (4.5 کروڑ) لوگوں کو شدید غذائی عدم تحفظ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔