یمن میں غربت کے باعث 32 لاکھ بچے اسکول جانے سے محروم، یونیسیف کی رپورٹ میں انکشاف

’سیو دی چلڈرین‘ کے مطابق یمن میں 2400 سے زائد اسکول یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا فوج کے ذریعہ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بچے ہوئے اسکولوں میں اساتذہ کو سالوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔

یونیسیف، تصویر آئی اے این ایس
i
user

قومی آواز بیورو

یمن کی راجدھانی صنعاء کی سڑکوں پر صبح 7 بجے جب دنیا جاگ رہی ہوتی ہے تو 14 سال کا قاسم ایک سفید بورا لے کر اپنی جدوجہد کی شروعات کرتا ہے۔ قاسم کوئی اسکول بیگ نہیں بلکہ پلاسٹک کی خالی بوتلیں جمع کرنے والا بورا ڈھوتا ہوا نظر آتا ہے۔ الجزیرہ کی ایک رپورٹ کے مطابق قاسم جیسے لاکھوں بچوں کے لیے اسکول جانا اب ایک ایسا خواب بن گیا ہے جسے ان کا خاندان پورا نہیں کر سکتا۔

قاسم دن بھر بوتلیں جمع کرتا ہے تاکہ اسے 1500 یمنی ریال (تقریباً 3 ڈالر) مل سکیں۔ یہ رقم اس کے 6 ممبران پر مشتمل خاندان کے دوپہر کے کھانے کا سہارا بنتی ہے۔ دوپہر کے بعد یہی ذمہ داری اس کا 12 سال کا بھائی عاصم سنبھالتا ہے، تاکہ رات کے کھانے کا انتظام ہو سکے۔ قاسم کا کہنا ہے کہ ’’کلاس روم میں بیٹھنے سے میرا پیٹ نہیں بھرے گا۔‘‘


واضح رہے کہ یہ بحران 2014 میں شروع ہوا، جب ایران کے حمایت یافتہ حوثی باغیوں اور سعودی حمایت یافتہ سرکاری فورسز کے درمیان خانہ جنگی شروع ہو گئی۔ ایک دہائی سے زیادہ عرصہ تک جاری اس جنگ نے یمن کی معیشت کو مکمل طور سے تباہ کر دیا ہے۔ آج ملک کے 2400 سے زائد اسکول ملبے میں تبدیل ہو چکے ہیں اور اساتذہ کو برسوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ غریبی کا عالم یہ ہے کہ 80 فیصد آبادی انسانی امداد پر منحصر ہے، جس کے سبب بچوں کے لیے اسکول کی جگہ پیٹ کی بھوک اولین ترجیح بن گئی ہے۔

یونیسیف کے مطابق یمن میں اسکول جانے کی عمر کے تقریباً 32 لاکھ بچے فی الحال اسکول سے باہر ہیں، جبکہ 15 لاکھ ایسے بے گھر بچے ہیں جن کا اسکول ہمیشہ کے لیے چھوٹ جانے کے دہانے پر ہے۔ اپریل 2022 کی جنگ بندی کے باوجود معاشی بدحالی نے بچوں کو قلم چھوڑ کر مزدوری اپنانے پر مجبور کر دیا ہے۔


جنگ نے والدین کی سوچ بھی بدل دی ہے۔ قاسم کے والد عبدو جو خود یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ایک مزدور ہیں، ان کا کہنا ہے کہ بھوکے بچوں کو دیکھنا اسکول چھوڑ چکے بچوں کو دیکھنے سے زیادہ دردناک ہے۔ وہ دیکھتے ہیں کہ یونیورسٹی سے گریجویٹ کی دگڑی حاصل کرنے والے افراد بھی تعمیراتی مقامات پر مزدوری تلاش رہے ہیں۔ ایسے میں انہیں لگتا ہے کہ تعلیم پر وقت اور پیسہ برباد کرنے سے بہتر ہے کہ بچے ابھی سے کام سیکھیں۔

’سیو دی چلڈرین‘ کے مطابق یمن میں 2400 سے زائد اسکول یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں یا فوج کے ذریعہ استعمال کیے جا رہے ہیں۔ بچے ہوئے اسکولوں میں اساتذہ کو سالوں سے تنخواہ نہیں ملی ہے۔ یمن کی یہ تصویر صرف ایک ملک کی بربادی نہیں بلکہ ایک پوری نسل کے مستقبل کی تاریکی کی کہانی ہے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔