یو اے ای پر کیے گئے ایرانی حملہ میں 3 پاکستانی شہری زخمی، وزیر اعظم شہباز شریف کا اظہار فکر
پاکستانی وزیر اعظم نے کہا کہ پاکستان ہمیشہ یو اے ای کے بھائی چارہ والے لوگوں کے ساتھ حمایت میں کھڑا ہے اور اس خطہ میں کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت کو دہراتا ہے۔

متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے خور فکن بندرگاہ پر ایران نے میزائل حملہ کر دیا ہے۔ ایک میزائل انٹرسپشن کے دوران 3 پاکستانی شہریوں کے زخمی ہونے کی بھی اطلاع ہے۔ پاکستان کے وزیر اعظم شہباز شریف نے اس معاملہ میں پیر کے روز یو اے ای میں پیش آنے والے اس واقعے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے حملوں کے بعد ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی اور اسرائیلی اثاثوں اور اڈوں کو نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔
سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’’یو اے ای کے خور فکن بندرگاہ پر پیش آنے والے واقعہ پر شدید تشویش ہے، جہاں ایک روکے گئے پروجیکٹائل کے باعث پاکستانی شہریوں سمیت عام افراد زخمی ہوئے ہیں۔‘‘ پاکستانی وزیر اعظم نے زخمیوں کی جلد صحت یابی کے لیے دعا کی اور کہا کہ پاکستانی شہریوں کو ہر ممکن مدد فراہم کرنے کے لیے یو اے ای حکام کے ساتھ قریبی رابطے میں ہیں۔ پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا ہے کہ پاکستان ہمیشہ متحدہ عرب امارات کے بھائی چارہ والے لوگوں کے ساتھ کھڑا ہے اور خطہ میں کشیدگی کم کرنے کی فوری ضرورت پر زور دیتا ہے۔
خور فکن بندرگاہ پر پیش آنے والے اس واقعہ کے حوالہ سے متحدہ عرب امارات کی شارجہ میڈیا نے ایکس پر بتایا کہ 5 اپریل کو پیش آنے والے واقعہ کے بعد حکام نے آگ لگنے کی تصدیق کی۔ ہنگامی رِسپانس ٹیموں نے فوری طور پر صورت حال پر قابو پانے کے لیے آپریشن شروع کر دیا۔ آگ پر قابو پانے کے بعد کولنگ آپریشن جاری ہے۔ یو اے ای کی میڈیا کے مطابق ایران کی جانب سے کیے گئے اس حملہ میں نیپال کا ایک شہری بھی شدید زخمی ہوا، جسے علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا، جبکہ 3 پاکستانی شہریوں کو معمولی چوٹیں آئیں۔ اس کے ساتھ ہی شارجہ سٹی کے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صرف سرکاری ذرائع سے معلومات حاصل کریں اور افواہوں یا غیر مصدقہ خبروں کے پھیلاؤ سے گریز کریں۔
خبر رساں ایجنسی رائٹرز کے مطابق ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی ختم کرنے کے لیے پاکستان نے ایک منصوبہ تیار کیا ہے۔ ایجنسی نے اپنے ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے دشمنی کے خاتمہ کے لیے ایک فریم ورک تیار کیا، جو اچانک سامنے آیا۔ یہ 2 مرحلوں پر مشتمل طریقۂ کار ہے، جس کی ابتدا فوری جنگ بندی سے ہوگی اور اس کے بعد ایک جامع معاہدہ کیا جائے گا۔ تاہم اس حوالہ سے نہ تو کوئی سرکاری تصدیق ہوئی ہے اور نہ ہی کوئی باضابطہ بیان سامنے آیا ہے۔
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔