نیپال سیلاب میں اب تک 1380 لاشیں برآمد، 5500 لاپتہ کی تلاش جاری، 9 ستمبر سے کھلیں گے متاثرہ نواکوٹ کے 65 اسکول

نواکوٹ کے بدور میں انتظامیہ بدھ سے 65 اسکولوں کو کھولنے کی تیاری کر رہا ہے۔ سیلاب سے قبل بدور میں 79 اسکول چل رہے تھے۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

نیپال میں سیلاب کی تباہی کے 2 ہفتہ مکمل ہونے والے ہیں، لیکن نواکوٹ، رَسوا اور قرب و جوار کے اضلاع میں جن بچوں نے سیلاب کا خوفناک منظر دیکھا، وہ ایک خوف میں مبتلا ہیں۔ کئی بچے اپنے سرپرستوں سے محروم ہو چکے ہیں، جن کی ذہنی حالت کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔ کوئی بچہ نصف شب میں چونک کر اٹھ جاتا ہے، تو کوئی گم صم حالت میں ہے۔ اب تک تقریباً 1380 لاشیں برآمد ہو چکی ہیں اور 5500 سے زائد لاپتہ لوگوں کی تلاش بھی جاری ہے۔ کئی بچوں کو تو پتہ بھی نہیں ہے کہ ان کے اہل خانہ زندہ بھی ہیں یا نہیں۔

اس درمیان سیلاب متاثرہ علاقوں کو پھر سے بسانے کی کوششیں شروع ہو چکی ہیں۔ بچوں کو صدمے سے باہر نکالنے کا راستہ بھی تلاش کیا جا رہا ہے۔ میڈیکل ٹیمیں ذہنی صحت سدھارنے کے لیے کاؤنسلنگ بھی کرا رہی ہیں۔ نواکوٹ کے بدور میں انتظامیہ نے 9 ستمبر سے 65 اسکولوں کو کھولنے کی تیاری شروع کر دی ہے۔ سیلاب سے قبل بدور میں مجموعی طور پر 79 اسکول چل رہے تھے، جو قدرتی تباہی کے بعد بند پڑے ہیں۔ اب 65 اسکول کھولنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ بچوں کی زندگی معمول پر لائی جائے۔ بدور کی ڈپٹی میئر پربھا بوگٹی نے کہا کہ اسکول انتظامیہ اس بات کا انتظام کریں گی کہ بچے آسانی سے اپنی کلاسز میں شامل ہو سکیں۔


قابل ذکر ہے کہ گزشتہ روز (7 ستمبر) نیپال میں سیلاب کے 13 دن مکمل ہو گئے تھے، اور پورے ملک میں ’قومی غم‘ منایا گیا۔ اس دوران قومی پرچم کو نصف جھکا دیا گیا اور موم بتی جلا کر مہلوکین کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ آج (8 ستمبر) نیپال میں سرکاری تعطیل بھی ہے۔ یہ چھٹی ’جین-زی شہید دیوس‘ کے موقع پر رکھی گئی ہے۔ دراصل گزشتہ سال اسی تاریخ کو کاٹھمنڈو میں جین-زی کی قیادت میں مظاہرے شروع ہوئے تھے۔ تحریک کے دوران سیکورٹی فورسز کی فائرنگ میں 72 لوگوں کی موت ہو گئی تھی۔ اس کے بعد اس وقت کی حکومت بحران میں آ گئی تھی۔ ایک سال بعد نیپال کے سامنے ایک ساتھ 2 مختلف واقعات کی یاد ہے، ایک طرف سیلاب میں جان گنوانے والوں کا سوگ، تو دوسری طرف گزشتہ سال کی تحریک میں مارے گئے لوگوں کو خراجِ عقیدت۔

بہرحال، نیپال میں ریسکیو مہم تباہی کے 2 ہفتوں بعد بھی جاری ہے۔ 2023 میں ہندوستان میں سُرنگ سے 41 مزدوروں کو بحفاظت باہر نکالنے میں اہم کردار نبھانے والے آسٹریلیائی سُرنگ ماہر آرنولڈ ڈکس چلمے ہائیڈرو پاور پروجیکٹ کی سُرنگ میں پھنسے لوگوں کی تلاش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ نیپال کی مہم سلکیارا سے زیادہ چیلنج بھری ہے، کیونکہ یہاں ایک ساتھ کئی مقامات پر راحت و بچاؤ کاری کا عمل جاری ہے۔ اندیشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس سُرنگ میں 121 لوگ پھنسے ہوئے ہیں۔ وہ زندہ ہیں یا ان کی موت ہو چکی ہے، اس بارے میں کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔