کیا خامنہ ای کی آخری رسومات میں ہندوستانی وزیر اعظم کی ہوگی شرکت؟ ایرانی صدر نے بھیجا دعوت نامہ
علی خامنہ ای کی آخری رسومات موت کے تقریباً 4 ماہ بعد ادا کی جانے والی ہے۔ اس کی ابتدا 4 جولائی کو تہران کے گرینڈ موسالا کمپلیکس میں جسد خاکی کو آخری دیدار کے لیے رکھے جانے کے ساتھ ہوگی۔

ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے ہندوستانی وزیر اعظم نریندر مودی کو سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے باضابطہ طور پر مدعو کیا ہے۔ آیت اللہ علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ابتدائی حملے میں ہلاک ہو گئے تھے۔ اس کے بعد حالات کشیدہ ہونے کے سبب خامنہ ای کی آخری رسومات ادا نہیں ہو پائی تھی۔ اب جبکہ آخری رسومات اور تدفین کے لیے تاریخوں کا اعلان ہو چکا ہے، تو اس میں ہندوستانی وزیر اعظم کو شرکت کی دعوت دی گئی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ پی ایم مودی نے خامنہ ای کی وفات پر کوئی تعزیتی پیغام جاری نہیں کیا تھا۔ تاہم، انتقال کے چند روز بعد ہندوستان کے خارجہ سکریٹری وکرم مسری نے حکومت ہند کی جانب سے تعزیتی کتاب پر دستخط کرنے کے لیے نئی دہلی واقع ایرانی سفارت خانہ کا دورہ کیا تھا۔ اب خامنہ ای کی آخری رسومات میں شرکت کی دعوت سے چہ می گوئیاں شروع ہو گئی ہیں۔ یہ دیکھنے والی بات ہوگی کہ پی ایم مودی اس دعوت نامہ کو قبول کریں گے یا نہیں۔ فی الحال یہ واضح نہیں ہے کہ وزیر اعظم آخری رسومات میں شرکت کریں گے یا نہیں۔
اس سے قبل مئی 2024 میں ایران کے اس وقت کے صدر ابراہیم رئیسی کی ہیلی کاپٹر حادثہ میں موت کے بعد ہندوستان نے ایک روزہ قومی سوگ کا اعلان کیا تھا۔ رئیسی کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے ہندوستان نے ایک وفد بھیجا تھا، جس کی قیادت اس وقت کے نائب صدر جگدیپ دھنکھڑ نے کی تھی۔ اس لیے عین ممکن ہے پی ایم مودی بذات خود آخری رسومات میں شامل نہ ہوں اور تعزیت و ہمدردی کے لیے کوئی دوسرا راستہ اختیار کریں۔
واضح رہے کہ آیت اللہ علی خامنہ ای کی طویل المدت آخری رسومات ان کی وفات کے 4 ماہ بعد ادا کی جا رہی ہیں۔ آخری رسومات کا آغاز 4 جولائی کو تہران کے گرینڈ مصلیٰ کمپلیکس میں ان کے جسد خاکی کو عوامی دیدار کے لیے رکھنے سے ہوگا۔ اس کے بعد تہران اور قم میں عوامی جلوس نکالے جائیں گے۔ عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا میں ان کے لیے خصوصی دعائیں بھی کی جائیں گی۔ دی گئی جانکاری کے مطابق آیت اللہ علی خامنہ ای 9 جولائی کو مشہد میں امام رضاؑ کے روضہ کے احاطے میں سپرد خاک کیے جائیں گے۔ مشہد خامنہ ای کا آبائی شہر بھی ہے۔ ایرانی حکام نے توقع ظاہر کی ہے کہ آخری رسومات میں لاکھوں افراد شرکت کریں گے۔
بہرحال، ہندوستان اور ایران کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط تعلقات رہے ہیں۔ نئی دہلی نے ایران میں متعدد منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے، جن میں چابہار بندرگاہ ایک اہم منصوبہ ہے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے اپنے ایرانی ہم منصبوں کے ساتھ کئی مراحل میں بات چیت بھی کی تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
