آپریشن بند کرنے کے دہانے تک کیوں پہنچیں ایئرلائنز؟ مودی حکومت کو خط لکھنے کے لیے مجبور ہوا ایف آئی اے
امریکہ-اسرائیل کے ذریعہ ایران پر مستقل حملوں کے بعد پیدا حالات اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تیل راستوں پر غیر یقینی کے سبب دنیا بھر میں خام تیل مہنگا ہو گیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر اے ٹی ایف پر پڑ رہا ہے

امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر مستقل حملوں نے عالمی سطح پر ایسے حالات پیدا کر دیے ہیں، جو مختلف شعبوں کو بری طرح اثر انداز کر رہے ہیں۔ ہوابازی صنعت بھی ان میں شامل ہے، جو مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔ ان مسائل کو پیش نظر رکھتے ہوئے گزشتہ دنوں ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ نے مودی حکومت سے ایوی ایشن ٹربائن فیول (اے ٹی ایف) کی قیمتوں پر نظر ثانی اور مالی معاونت فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ ان ہوابازی کمپنیوں نے یہ جانکاری بھی دی ہے کہ ہوابازی صنعت شدید دباؤ میں ہے اور ’آپریشن بند کرنے‘ کے قریب پہنچ چکی ہے۔
خبر رساں ایجنسی پی ٹی آئی کے مطابق یہ اپیل فیڈریشن آف انڈین ایئرلائنز (ایف آئی اے) کی جانب سے (جو ایئر انڈیا، انڈیگو اور اسپائس جیٹ کی نمائندگی کرتی ہے) 26 اپریل کو وزارت برائے شہری ہوابازی کو لکھے گئے ایک خط میں کی گئی۔ دراصل یہ کمپنیاں پریشان ہیں کیونکہ اے ٹی ایف، یعنی طیارہ کے ایندھن کی قیمت بہت بڑھ گئی ہے، جس سے آپریشن کا خرچ بھی بڑھ گیا ہے۔ اس وجہ سے کئی راستوں پر مسافر طیاروں کا آپریشن مستقل خسارے میں چل رہا ہے اور کمپنیاں بند ہونے یا پروازوں کی تعداد کم کرنے کی حالت میں پہنچ گئی ہیں۔ مشکل حالات کو دیکھتے ہوئے ایف آئی اے نے وزارت برائے شہری ہوابازی کو خط لکھ کر فوری مدد مانگی ہے۔
قابل ذکر ہے کہ اے ٹی ایف کی قیمتیں حالیہ دنوں میں بہت بڑھ گئی ہیں۔ یہ اضافہ خاص طور سے مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اور جنگ کی وجہ سے دیکھنے کو مل رہا ہے۔ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں بڑھنے سے طیاروں کے ایندھن بھی مہنگے ہو گئے ہیں۔ ایئرلائنس کے مجموعی خرچ میں ایندھن کا حصہ پہلے 40-30 فیصد ہوتا تھا، لیکن اب یہ 60-55 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ اس سے کمپنیوں کا منافع بہت کم ہو گیا ہے اور نقد کے بہاؤ پر بھی دباؤ پڑ رہا ہے۔ خاص طور سے بین الاقوامی پروازوں پر تو حالات مزید خراب ہیں، کیونکہ وہاں ایندھن مہنگا پڑتا ہے اور کرایہ بڑھانے کی بھی حد ہوتی ہے۔
ایف آئی اے نے اپنے خط میں متنبہ کیا ہے کہ اگر حالات ایسے ہی رہے تو کئی ائیرلائنز کو پروازیں کم کرنی پڑ سکتی ہیں۔ کچھ راستے بھی بند کرنے پڑ سکتے ہیں، یا پھر کرایہ میں اضافہ کرنا پڑ سکتا ہے۔ ایف آئی اے نے اپنے خط میں 2 طرح کی راحت حکومت سے مانگی ہے۔ پہلا مطالبہ ہے گھریلو پروازوں پر 11 فیصد ایکسائز ڈیوٹی عارضی طور پر ہٹا دی جائے، اور دوسری مانگ ہے ریاستوں میں لگنے والا ویٹ کم کیا جائے جو کچھ مقامات پر 25 فیصد تک ہے۔ جیٹ ایندھن کی قیمت طے کرنے کا پرانا ’کریک بینڈ‘ پرائسنگ میکانزم پھر سے نافذ کرنے کا مشورہ بھی دیا گیا ہے۔ اس سے خام تیل کی قیمت کم ہونے پر بھی اے ٹی ایف کی قیمت اچانک نہیں بڑھے گی۔ اے ٹی ایم کی قیمتوں میں استحکام لانے کی تجویز بھی پیش کی گئی ہے، تاکہ کمپنیاں روٹ پلاننگ اور کرایہ آسانی سے طے کر سکیں۔ ایئرلائنز کا کہنا ہے کہ ہندوستان میں ایندھن پر ٹیکس بہت زیادہ ہے، جس سے ہندوستانی کمپنیاں بیرون ملکی ایئرلائنز کے مقابلے کمزور پڑ رہی ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ و اسرائیل کے ذریعہ ایران پر مستقل حملوں کے بعد پیدا حالات اور آبنائے ہرمز جیسے اہم تیل راستوں پر غیر یقینی کے سبب دنیا بھر میں خام تیل مہنگا ہو گیا ہے۔ اس کا براہ راست اثر اے ٹی ایف پر پڑ رہا ہے۔ حکومت ہند نے اپریل میں گھریلو اے ٹی ایف کی قیمت میں اضافہ کو 25 فیصد تک محدود کر دیا تھا، لیکن پھر بھی دباؤ برقرار ہے۔ ابھی ایئرلائنز کچھ بڑھے ہوئے خرچ خود برداشت کر رہی ہیں، لیکن اگر ایندھن مہنگا رہا تو ٹکٹ کی قیمت بڑھ سکتی ہے، کچھ پروازوں کی تعداد کم ہو سکتی ہے اور کچھ راستوں پر پرواز بند بھی ہو سکتی ہے۔
غور کرنے والی بات یہ ہے کہ مسئلہ صرف خرچ بڑھنے کا نہیں ہے۔ ایف آئی آنے کہا ہے کہ ’’یہ صرف خرچ بڑھنے کا مسئلہ نہیں ہے، بلکہ ایئرلائنز کا وجود بچانے کا بھی مسئلہ ہے۔ اگر ایندھن کی قیمتیں اونچی رہیں اور ٹیکس میں راحت نہیں ملی تو ہوابازی صنعت پر مزید دباؤ پڑے گا۔ اس سے نہ صرف ایئرلائنز، بلکہ مسافروں اور پورے ہوابازی سیکٹر کو نقصان ہوگا۔‘‘ اب حکومت اس خط پر کیا فیصلہ لیتی ہے، یہ دیکھنا بہت اہم ہوگا۔ ہوابازی سیکٹر ہندوستان کی معیشت کے لیے بے حد ضروری ہے اور اس میں لاکھوں لوگوں کو روزگار ملتا ہے، اس لیے مسئلہ کا حل فوراً نکالنا ہوگا۔