’ہم نکال دیں گے ٹنل میں پھنسے مزدور‘، سلکیارا سرنگ والے ریٹ مائنرس کا نیپال کو پیشکش

26 اگست کو اچانک آئے سیلاب کے باعث رسوا اور نوواکوٹ اضلاع میں کم از کم 12 ہائیڈروپاور پروجیکٹ متاثر ہوئے۔ ملبے کی وجہ سے سرنگوں کے کئی حصے بند ہو گئے۔ تقریباً 900 مزدور لاپتہ بتائے جا رہے ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>آئی اے این ایس</p></div>
i

ریٹ مائنرس کی ٹیم نے نیپال میں سیلاب سے متاثرہ ہائیڈروپاور پروجیکٹس کی سرنگوں میں پھنسے مزدوروں کو بچانے کی پیشکش کی ہے۔ یہ وہی ریٹ مائنرس ہیں جنہوں نے نومبر 2023 میں اتراکھنڈ کے سلکیارا-بینڈ-برکوٹ ٹنل میں پھنسے مزدوروں کو بچایا تھا۔ مکینیکل ڈرلنگ بار بار فیل ہونے کے بعد انہوں نے تنگ پائپ میں گھس کر ہاتھوں سے ملبہ ہٹایا۔ 17 دنوں بعد سب کو بحفاظت باہر نکالا۔ اب نیپال کی قدرتی آفت میں بھی وہ اپنی طرف سے مدد کرنا چاہتے ہیں۔

26 اگست 2026 کو نیپال-تبت سرحد پر گلیشیئر کھسکنے سے بھوٹے کوشی اور تریشولی ندیوں میں خوفناک ’فلیش فلڈ‘ (اچانک سیلاب) آیا۔ رسوا اور نوواکوٹ اضلاع میں کم از کم 12 ہائیڈروپاور پروجیکٹ متاثر ہوئے۔ ان میں سے 5 زیر تعمیر تھے اور 7 چل رہے تھے۔ کیچڑ، بڑے پتھر اور ملبے نے سرنگوں کے کئی حصے بند کر دیے یا گرا دیے۔ تقریباً 900 مزدور لاپتہ بتائے جا رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 500 سرنگوں کے اندر پھنسے ہو سکتے ہیں۔ نیپالی فوج 19 ہائیڈروپاور سرنگوں میں تلاش اور بچاؤ کے کام کو ترجیح دے رہی ہے۔


ہندی نیوز پورٹل ’آج تک‘ پر شائع ایک رپورٹ کے مطابق پونے کے والنٹیر کوآرڈینیٹر آنند کنسل نے ہندوستانی سفیر کو خط لکھ کر مائنرس کی مدد لینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب کی خبریں اور ویڈیوز دیکھ کر ٹیم بہت متاثر ہوئی۔ یہ حالیہ وقت کے سب سے بڑی سانحوں میں سے ایک ہے۔ فروری 2025 میں تلنگانہ کے شری سیلم لیفٹ بینک کینال ٹنل میں بھی 12 افراد کی ٹیم نے کام کیا تھا، جہاں 8 مزدور پھنسے ہوئے تھے۔ وہاں بھی وہ خصوصی ریسکیو ایجنسیوں کے ساتھ ملبے سے بھری مشکل صورتحال میں کام کر چکے ہیں۔

فیروز قریشی نے کہا کہ ٹیم فوری طور پر روانہ ہونے کے لیے تیار ہے۔ وہ جانتے ہیں کہ اہل خانہ کس انتظار میں ہیں۔ اگر نیپال مدد مانگے تو آج ہی جا سکتے ہیں، کل نہیں۔ سب سے کم عمر رکن منو کمار نے بتایا کہ جہاں بھاری مشینیں نہیں پہنچ پاتیں، وہاں ان کے ہاتھ اور اوزار کام آ سکتے ہیں۔ سلکیارا میں بھی جب مشینیں فیل ہو گئی تھیں، تب انہوں نے آخری حصے کی کھدائی ہاتھ سے کی تھی۔ نیپال کی سرنگوں میں بھی ملبے اور پانی کی وجہ سے مشینوں کی محدود صلاحیت واضح طور پر نظر آ رہی ہے۔ اس لیے دستی کھدائی کی مہارت بہت کارآمد ثابت ہو سکتی ہے۔


قابل ذکر ہے کہ نیپال میں کئی سرنگوں کے داخلی راستے ملبے میں دب گئے ہیں۔ امدادی کارکنوں کو پہلے سرنگ کا سراغ لگانا پڑ رہا ہے، پھر اس کے اندر پہنچنا ہوتا ہے۔ کچھ مقامات پر پانی نکالنے، آکسیجن پمپ کرنے اور کنٹرولڈ بلاسٹنگ کا کام جاری ہے۔ ہندوستانی اور چینی ٹیمیں بھی مدد کر رہی ہیں۔ سلکیارا کا تجربے رکھنے والے ماہر آرنلڈ ڈکس بھی مشورے دے رہے ہیں۔ ریٹ مائنرس کی پیشکش ہندوستان-نیپال تعاون کی ایک اچھی مثال ہے۔ اگر اجازت ملتی ہے تو یہ مائنرس وہاں جا کر ان مقامات پر کام کر سکتے ہیں جہاں مشینیں ناکام ثابت ہو رہی ہیں۔

یہ مائنرس عام مزدور نہیں بلکہ خطرناک اور تنگ جگہوں پر کام کرنے میں ماہر ہیں۔ سلکیارا کے واقعہ نے انہیں قومی ہیرو بنا دیا تھا۔ اب نیپال کی اس قدرتی آفت میں وہ ایک بار پھر انسانیت کی خدمت کے لیے آگے آئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اجازت ملتے ہی کام شروع کر دیں گے۔ نیپال حکومت اور ہندوستانی سفارت خانے کے فیصلے پر منحصر ہے کہ یہ ماہرین کب عملی طور پر میدان میں اترتے ہیں۔ فی الحال سرنگوں میں پھنسے مزدوروں کے اہل خانہ انتظار کر رہے ہیں۔ ریٹ مائنرس مدد کے لیے تیار کھڑے ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔