’ہم ہندوستان کے ساتھ، جو ہوا وہ دردناک تھا‘، پہلگام دہشت گردانہ حملے کی برسی پر 27 یورپی یونین ممالک کا اظہار یکجہتی

یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ ’’بے قصور شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے اور ایسے حملوں کے لیے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، بشکریہ&nbsp;@EU_in_India</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

پہلگام دہشت گردانہ حملے کی برسی پر یورپی یونین کے 27 ممالک نے ہندوستان کی حمایت میں بیان جاری کیا۔ انہوں نے اس گھناؤنے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ ہندوستان میں واقع آئرش سفارت خانہ نے اپنے ’ایکس‘ ہینڈل پر یورپی یونین کا بیان جاری کیا۔ یورپی یونین نے حملے کو قابل مذمت قرار دیتے ہوئے دہشت گردی کے خلاف ہندوستان کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا ہے۔

یورپی یونین نے اپنے بیان میں کہا کہ بے قصور شہریوں کو نشانہ بنانا کسی بھی حالت میں ناقابل قبول ہے اور ایسے حملوں کے لیے ذمہ دار لوگوں کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔ تنظیم نے اس مشکل وقت میں متاثرین اور ان کے اہل خانہ کے تئیں گہری تعزیت کا بھی اظہار کیا۔ ساتھ ہی کہا کہ ہم دہشت گردانہ حملوں کے خلاف ہیں اور تنظیم ہندوستان کے ساتھ کھڑا ہے اور تشدد کے اس عمل کی شدید مذمت کرتا ہے۔


واضح رہے ک صرف یورپی یونین ہی نہیں بلکہ دنیا کے کئی ممالک نے پہلگام حملے کی برسی پر جان گنوانے والے 26 بے گناہوں کو خراج عقیدات پیش کیا۔ سب نے ایک آواز ہو کر کہا کہ جو ہوا وہ قابل نفرت تھا اور اسے کسی بھی حال میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔ اسرائیل، ارجنٹائن اور آسٹریلیا سمیت کئی سفارت خانوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم کے ذریعہ خراج عقیدت پیش کیا۔

قابل ذکر ہے کہ 22 اپریل 2025 کو پہلگام کی بیسرن وادی میں اپنے اہل خانہ کے ساتھ چھٹیاں منانے آئے 26 بے قصور لوگوں کو دہشت گردوں نے موت کے گھاٹ اتار دیا تھا۔ مہلوکین میں 25 سیاح تھے اور ایک ’پونی والا‘ (گھوڑے والا) بھی تھا۔ اس حملے کے بعد ہندوستان نے 8-7 مئی کی رات منصوبہ بند طریقے سے پاکستان میں واقع دہشت گردوں کے 9 ٹھکانوں کو تباہ کر دیا تھا۔ اس کارروائی میں 100 سے زائد دہشت گرد مارے گئے تھے۔ اس پوری کارروائی کو ’آپریشن سندور‘ کا نام دیا گیا تھا۔ ہندوستان نے واضح کیا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف اس کی پالیسی زیرو ٹالرنس کی ہے اور وہ کسی بھی صورت میں اسے قبول نہیں کرے گا۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔