’دنیا بدل رہی، سندھ آبی معاہدہ پرانا ہو چکا‘، ہندوستان نے اقوام متحدہ میں پاکستان کو کیا لاجواب
اقوام متحدہ میں ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری انوپما نے پاکستان کو اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیا اور کہا کہ پاکستان کو ہندوستانی علاقوں پر نظر رکھنے کی جگہ اپنے گھر کے حالات بہتر بنانے چاہئیں۔

ہندوستان نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل (یو این ایچ آر سی) میں پاکستان کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہندوستان نے 1960 کے سندھ آبی معاہدے کو موجودہ دور کے اعتبار سے فرسودہ اور غیر مؤثر قرار دیا ہے۔ ساتھ ہی ہندوستان نے پاکستان کو لاجواب کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ ’’جو ملک دہشت گردی کو اپنی سرکاری پالیسی کے طور پر استعمال کرتا ہے، وہ دوستی اور تعاون کے فوائد کی توقع نہیں کر سکتا۔‘‘
اقوام متحدہ میں ہندوستان کی فرسٹ سکریٹری انوپما سنگھ نے پاکستان کے الزامات کا سخت جواب دیا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ آبی معاہدہ کے بارے میں ہندوستان کا مؤقف بالکل واضح ہے۔ یہ منطق سے بالاتر ہے کہ ایک طرف پاکستان دہشت گردی برآمد کرے اور دوسری طرف خیرسگالی پر مبنی معاہدے سے فائدہ اٹھانے کی خواہش رکھے۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ 1960 میں ہونے والا یہ معاہدہ اب پرانا پڑ چکا ہے۔ دنیا بدل رہی ہے اور کوئی بھی تکنیکی انتظام وقت کے ساتھ جامد نہیں رہ سکتا۔ 6 دہائیاں پرانے اس معاہدے کو آج کی حقیقتوں سے الگ نہیں رکھا جا سکتا۔
ہندوستان نے پہلگام دہشت گردانہ حملہ کا بھی ذکر کیا، جس میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملہ کے بعد ہی ہندوستان نے سندھ آبی معاہدہ کو اس وقت تک کے لیے معطل کر دیا ہے، جب تک پاکستان سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی کا مکمل خاتمہ نہیں کر دیتا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان اپنی 80 فیصد زراعت اور 93 فیصد آبی ضروریات کے لیے دریائے سندھ کے نظام پر ہی انحصار کرتا ہے۔
سکریٹری انوپما سنگھ نے پاکستان کو اپنے داخلی مسائل پر توجہ دینے کا مشورہ دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ہندوستانی علاقوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے گھر کے حالات بہتر بنانے چاہئیں۔ انہوں نے پاکستان کو ’فرینکنسٹائن اسٹیٹ‘ قرار دیا۔ ہندوستان نے کہا کہ پاکستان خود انتہا پسند گروہوں کی پرورش کرتا ہے اور جب وہی عفریت اسے نقصان پہنچاتے ہیں تو وہ حیران رہ جاتا ہے۔ پاکستان کے وزیر دفاع خود دہشت گردوں کو تربیت دینے کی بات فخر کے ساتھ تسلیم کرتے ہیں، اس کے باوجود پاکستان خود کو دہشت گردی کا شکار ملک قرار دیتا ہے۔ یہ پاکستان کا دوہرا چہرہ ہے۔
ہندوستانی سفارت کار نے جموں و کشمیر کے بارے میں پاکستان اور اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے بیانات کو بھی مکمل طور پر مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا پروپیگنڈا دراصل اس کی اپنی داخلی ناکامیوں کو چھپانے کی ایک کوشش ہے۔ ہندوستان نے ایک بار پھر دہرایا کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ تھا، ہے اور ہمیشہ رہے گا۔ اب صرف ایک ہی مسئلہ باقی ہے اور وہ پاکستان کے غیر قانونی قبضے میں موجود ہندوستانی علاقوں کو آزاد کرانا ہے۔ ہندوستان نے واضح کیا کہ پاکستان کے پرانے حربے اب بین الاقوامی فورمز پر کارگر نہیں ہوں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
