مصنوعی ذہانت کا استعمال نہ کرنے والے ٹیک ملازمین پر بے روزگار ہونے کا خطرہ 3 گنا زیادہ، اسٹڈی میں انکشاف
گیلپ کی نئی تحقیق کے مطابق جو ٹیک ملازمین اپنے روز مرہ کے کام میں اے آئی (مصنوعی ذہانت) کا استعمال نہیں کر رہے ہیں، ان کی ملازمت جانے کا خطرہ اے آئی استعمال کرنے والوں سے 3 گنا زیادہ ہے۔

کیا آپ بھی اس غلط فہمی میں مبتلا ہیں کہ مصنوعی ذہانت (اے آئی) سیکھے بغیر بھی آپ کا کام آرام سے چلتا رہے گا؟ اگر ہاں، تو عالمی سروے ایجنسی ’گیلپ‘ کی یہ تازہ تحقیق آنکھیں کھول دینے والی ہے۔ ٹیکنالوجی کی صنعت میں اس وقت اے آئی محض کام کو آسان بنانے کا ذریعہ نہیں رہا، بلکہ یہ آپ کی ملازمت بچانے کے لیے سب سے بڑا ’تحفظاتی حصار‘ بن چکا ہے۔ گیلپ کی نئی تحقیق کے مطابق جو ٹیک ملازمین اپنے روزمرہ کے کام میں اے آئی کا استعمال نہیں کر رہے، ان کے ملازمت سے نکالے جانے کا خطرہ اے آئی استعمال کرنے والے ساتھیوں کے مقابلے میں 3 گنا زیادہ ہے۔
واضح رہے کہ گیلپ نے یہ اندازہ امریکہ کے 23 ہزار سے زائد ملازمت پیشہ افراد پر کیے گئے سروے کی بنیاد پر لگایا ہے۔ اس میں وہ 660 افراد بھی شامل تھے جن کی حال ہی میں ملازمت ختم ہوئی تھی۔ اس کے شماریاتی ماڈل سے کئی اہم نتائج سامنے آئے۔ مثلاً وہ ٹیک ملازمین جو ماہ میں کم از کم ایک بار یا اس سے زیادہ اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں، ان کے ملازمت سے فارغ کیے جانے کا امکان صرف 6 فیصد پایا گیا۔ اس کے برعکس وہ ملازمین جو اے آئی استعمال نہیں کرتے یا اس سے دوری اختیار کیے رکھتے ہیں، ان کے ملازمت جانے کا خطرہ بڑھ کر 18 فیصد تک پہنچ جاتا ہے۔ رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ ٹیکنالوجی کی صنعت کے علاوہ دیگر شعبوں میں بھی اے آئی استعمال نہ کرنے والے ملازمین چھنٹنی کے خطرے سے دوچار ہیں، اگرچہ وہاں یہ فرق ٹیک سیکٹر جتنا نمایاں نہیں ہے۔
یہ تحقیق اشارہ کرتی ہے کہ اے آئی یعنی مصنوعی ذہانت اب کمپنیوں کے اندر ایک ایسی تقسیم پیدا کرنے والی لکیر بن چکی ہے جو براہ راست لوگوں کے کیریئر کو متاثر کر رہی ہے۔ کمپنیاں اب نہ صرف نئے امیدواروں کی بھرتی کے وقت ’اے آئی خواندگی‘ کو جانچ رہی ہیں، بلکہ معاشی سست روی یا ملازمین کی چھنٹنی کے دوران یہ بھی دیکھتی ہیں کہ کس ملازم کو برقرار رکھنا ہے اور کسے رخصت کرنا ہے۔ اس رپورٹ کا سب سے دلچسپ اور حیران کن پہلو کمپنیوں اور ملازمین کے درمیان سوچ کا فرق ہے۔ ملازمت سے محروم ہونے والے صرف ایک فیصد ملازمین نے یہ تسلیم کیا کہ ان کی ملازمت جانے کی براہ راست وجہ اے آئی تھی۔ زیادہ تر افراد نے اس کے لیے کمپنیوں کی تنظیمِ نو، اخراجات میں کمی یا خراب معاشی حالات کو ذمہ دار قرار دیا۔
اس کے برعکس ’چیلنجر، گرے اینڈ کرسمس اِنک‘ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ ماہ کمپنیوں کی جانب سے اعلان کی گئی چھنٹنیوں میں اے آئی سب سے بڑی وجہ کے طور پر سامنے آیا، جو مجموعی اعلانات کا تقریباً 40 فیصد تھا۔ اس درمیان گیلپ کے چیف سائنسداں جم ہارٹر کا میڈیا کو دیا گیا بیان خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملازمین اپنی ملازمت ختم ہونے کا براہ راست الزام اے آئی پر نہیں لگا رہے، جس کی وجہ سے اے آئی کا وہ بالواسطہ اثر نظروں سے اوجھل رہ جاتا ہے جسے کمپنیاں ملازمین کی چھنٹنی کا فیصلہ کرتے وقت پیش نظر رکھتی ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
