’ایسی حرکت برداشت نہیں‘، لندن میں چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت کے پروگرام میں ہنگامہ پر ہندوستان کا سخت ردعمل

ہائی کمیشن نے کہا کہ ’’عوامی پلیٹ فارمز پر بات چیت ہمیشہ احترام کے دائرے میں ہی ہونی چاہیے۔ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے، لیکن اسے مہذب اور باوقار انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت، تصویر سوشل میڈیا</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

google_preferred_badge

لندن کی ایک یونیورسٹی میں چیف جسٹس آف انڈیا (سی جے آئی) سوریہ کانت کے پروگرام میں جم کر ہنگامہ ہوا۔ یہاں ایک لیکچر کے دوران کچھ لوگوں نے ہندوستان میں ’اختلاف رائے کی آواز دبانے‘ اور ان کے پرانے بیانات پر سخت سوالات پوچھنے شروع کر دیے۔ اس بات کو لے کر وہاں بحث چھڑ گئی، جس کے بعد پروگرام میں خلل ڈالنے کی کوشش کی گئی۔ لندن میں موجود ہندوستانی ہائی کمیشن نے سامعین کے اس رویے کو پوری طرح سے غیر مہذب اور نامناسب قرار دیا۔ ہائی کمیشن نے سخت لہجے میں کہا کہ کسی بھی عوامی پلیٹ فارم پر ایسی حرکت قطعی برداشت نہیں کی جائے گی۔

دراصل سی جے آئی سوریہ کانت ان دنوں انگلینڈ کے 6 روزہ دورے پر ہیں۔ نیوز ایجنسی ’پی ٹی آئی‘ کے مطابق جمعرات (4 جون) کو وہ یونیورسٹی آف لندن برکبیک کالج میں آرٹیفیشیل انٹیلی جنس (اے آئی) اور انٹرنیشنل لا کے موضوع پر لیکچر دے رہے تھے۔ ان کی تقریر ختم ہونے کے بعد جب سوال و جواب کا دور شروع ہوا تب ماحول اچانک کشیدہ ہو گیا۔ پروگرام کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں واضح طور پر نظر آ رہا ہے کہ ایک شخص نے ہندوستان کے جمہوری ماحول اور ’اختلاف رائے‘ کے متعلق سوال اٹھانے کی کوشش کی۔ اسی دوران سی جے آئی کے حالیہ ’کاکروچ‘ تبصرہ کا بھی ذکر کیا گیا۔ حالانکہ پروگرام کے منتظم نے سوال کو اصل موضوع سے ہٹ کر قرار دیتے ہوئے درمیان میں ہی روک دیا۔ اس کے بعد کچھ دیر کے لیے ماحول گرم ہو گیا۔


اس واقعہ کے بعد لندن میں واقع ہندوستانی ہائی کمیشن نے سوشل میڈیا پر بیان جاری کرتے ہوئے سخت اعتراض کا اظہار کیا۔ ہائی کمیشن نے اپنے بیان میں کہا کہ پروگرام میں موجود لوگوں کا اس طرح کا غیر ذمہ دارانہ رویہ ناقابل قبول ہے۔ عوامی پلیٹ فارمز پر بات چیت ہمیشہ احترام کے دائرے میں ہی ہونی چاہیے۔ بیان میں مزید کہا گیا کہ جمہوری معاشروں میں اختلاف رائے ایک فطری امر ہے، لیکن اسے مہذب اور باوقار انداز میں پیش کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ اس تنازعہ سے قبل چیف جسٹس آف انڈیا سوریہ کانت نے ٹیکنالوجی اور عدالتی نظام کے باہمی تعلق پر اپنے خیالات کا اظہار کیا تھا۔ انہوں نے کہا تھا کہ ٹیکنالوجی بذات خود نہ اچھی ہوتی ہے اور نہ بری، بلکہ اس کے نتائج کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ معاشرہ اسے کس طرح استعمال کرتا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قانون کا کام نئی ٹیکنالوجی کی راہ میں رکاوٹ ڈالنا نہیں، بلکہ یہ یقینی بنانا ہے کہ تکنیکی طاقت ہمیشہ آئینی اقدار اور انسانی وقار کے سامنے جوابدہ رہے۔ قابل ذکر ہے کہ اس واقعے کے بعد بھی سی جے آئی سوریہ کانت برطانیہ میں اپنے طے شدہ پروگراموں میں شریک ہو رہے ہیں، جہاں جمعہ کے روز انہوں نے ہندوستان اور برطانیہ کی اقتصادی شراکت داری سے متعلق ایک بین الاقوامی کانفرنس سے بھی خطاب کیا تھا۔

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔