کائنات کے سب سے پراسرار ذرہ ’نیوٹرینو‘ کی دریافت کرنے والے سائنسداں ہالزن کو ملا فزکس کا نوبل انعام

نیوٹرینو فلکیات ایک نیا شعبہ کھول رہی ہے، جس میں مرئی روشنی یا دیگر لہروں کے علاوہ ایک مختلف نقطۂ نظر سے کائنات کا مطالعہ ممکن ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فرانسس ہالزن، گرافکس ’ایکس‘ @NobelPrize</p></div>
i

’رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز‘ نے 2026 کا فزکس کا نوبل انعام فرانسس ہالزن کو دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہیں یہ اعزاز آئس کیوب نیوٹرینو آبزرویٹری میں تعاون اور فلکیاتی ماخذ کے ہائی انرجی نیوٹرینو کی دریافت کے لیے دیا گیا ہے۔ دراصل اپنی تحقیق کے دوران ہالزن نے یہ سمجھ لیا تھا کہ قطب جنوبی کی برف کو نیوٹرینو نامی ذرات کو ٹریک کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ ان کے نقطۂ نظر اور سائنسی قیادت نے آئس کیوب آبزرویٹری کو ممکن بنایا، جو ایک مکعب کلومیٹر برف میں نصب روشنی کے سینسرز کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔ اس کے ذریعے سائنس دان دور کائنات میں ہونے والے انتہائی توانائی بخش عمل سے آنے والے نیوٹرینو کو پکڑ پاتے ہیں۔

سائنسدان طویل عرصہ سے جانتے ہیں کہ کائنات میں قدرتی ذرات کے ذرائع موجود ہیں۔ یہ زمین کی تجربہ گاہوں میں حاصل کی جا سکنے والی توانائی سے لاکھوں گنا زیادہ توانائی والے ذرات خارج کرتے ہیں۔ ان ذرائع کے بارے میں بہت کچھ پراسرار ہے۔ وہ کیا ہیں، کہاں ہیں اور ان کے اندر بنیادی عمل کیا ہو رہے ہیں، یہ سوال اب بھی جواب طلب ہیں۔ ہائی انرجی والے نیوٹرینو انہی ماحول میں دیگر ذرات کے ساتھ بنتے ہیں۔ لیکن دیگر ذرات کے برعکس نیوٹرینو سمت بدلے بغیر اور توانائی کھوئے بغیر ہم تک پہنچتے ہیں۔ اس لیے وہ ایسی معلومات فراہم کر سکتے ہیں جو کسی اور طریقے سے دستیاب نہیں ہوتیں۔ نیوٹرینو کائنات کے سب سے پراسرار ذرات مانے جاتے ہیں کیونکہ وہ مادے کے ساتھ بہت کم تعامل کرتے ہیں اور آسانی سے گزر جاتے ہیں۔


فرانسس ہالزن نے 1988 میں قطب جنوبی پر نیوٹرینو پکڑنے کا اپنا نقطۂ نظر پہلی بار پیش کیا تھا۔ جب کوئی نیوٹرینو ایٹمی مرکز سے ٹکراتا ہے تو روشنی کی ایک چمک پیدا ہوتی ہے، جسے صاف گلیشیئر برف میں نصب سنسر ٹریک کر سکتے ہیں۔ قطب جنوبی کی برف کے کئی فوائد ہیں۔ یہاں مختلف قسم کی خلل اندازی نہیں ہوتی اور یہ علاقہ ارضیاتی طور پر مستحکم ہے، جہاں زلزلے نہیں آتے۔ ہالزن کے خیال کو جلد ہی دیگر محققین کی حمایت حاصل ہوئی اور چند ہی برسوں میں برف میں سنسرز کے ابتدائی تجربات شروع ہو گئے۔ وقت کے ساتھ یہ منصوبہ ترقی کرتا گیا اور آج آئس کیوب دنیا کی سب سے بڑی نیوٹرینو آبزرویٹری بن چکی ہے۔

آئس کیوب کے ذریعہ سائنس دانوں نے ہائی انرجی والے فلکیاتی نیوٹرینو کی تصدیق کی ہے۔ یہ دریافتیں کائنات کے سب سے زیادہ توانائی بخش واقعات، جیسے سپرنووا دھماکوں، بلیک ہول کے آس پاس ہونے والے عمل یا گاما رے دھماکہ کو سمجھنے میں مدد کرتی ہیں۔ نیوٹرینو فلکیات ایک نیا شعبہ کھول رہی ہے، جس میں مرئی روشنی یا دیگر لہروں کے علاوہ ایک مختلف نقطۂ نظر سے کائنات کا مطالعہ ممکن ہے۔


ہالزن کی قیادت نے نہ صرف تکنیکی چیلنجز پر قابو پایا بلکہ بین الاقوامی تعاون کو بھی مضبوط کیا۔ قطب جنوبی جیسے مشکل حالات میں اتنی بڑی آبزرویٹری بنانا اپنے آپ میں سائنسی جرات کی مثال ہے۔ یہ انعام ذرّاتی طبیعیات اور فلکی طبیعیات کے سنگم کو اعزاز دیتا ہے۔ اس سے نوجوان محققین کو تحریک ملے گی کہ بڑے اور جرات مندانہ خیالات کس طرح سائنس کی سمت بدل سکتے ہیں۔ آئس کیوب سے حاصل ہونے والے اعداد و شمار مستقبل میں بھی کائنات کے رازوں کو حل کرنے میں مدد کریں گے۔ فرانسس ہالزن کی خدمات یاد دلاتی ہیں کہ صبر، دوراندیشی اور تعاون سے ناممکن نظر آنے والے اہداف بھی حاصل کیے جا سکتے ہیں۔