خبریں

’بہت بہادر نئی کینیڈین‘: سعودی پناہ گزین رہف کینیڈا پہنچ گئیں

سعودی عرب سے فرار ہونے والی اٹھارہ سالہ پناہ گزین خاتون رہف القنون کل کینیڈا پہنچ گئیں۔ ٹورانٹو ایئر پورٹ پر رہف کو ’بہت بہادر نئی کینیڈین‘ قرار دیتے ہوئے ان کا استقبال کینیڈا کی وزیر خارجہ نے کیا۔

’بہت بہادر نئی کینیڈین‘: سعودی پناہ گزین رہف کینیڈا پہنچ گئیں
’بہت بہادر نئی کینیڈین‘: سعودی پناہ گزین رہف کینیڈا پہنچ گئیں

ڈی. ڈبلیو

مغربی یورپی وقت کے مطابق ٹورانٹو سے ہفتہ 12 جنوری کی شام ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق رہف محمد القنون نامی یہ نوجوان سعودی خاتون تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک سے ٹورانٹو پہنچیں تو وہاں ہفتے کی دوپہر کا وقت تھا۔

ایئر پورٹ پر رہف کا استقبال کرنے کے لیے کینیڈا کی خاتون وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ ذاتی طور پر موجود تھیں۔ انہوں نے رہف کا ہاتھ پکڑ کر صحافیوں کو بتایا، ’’یہ رہف القنون ہیں، ایک بہت بہادر نئی کینیڈین۔‘‘ رہف جب ہوائی اڈے سے باہر نکلیں، تو ان کے چہرے پر خوشی نمایاں تھی۔

رہف محمد القنون نے ایک ایسی جرسی پہنی ہوئی تھی، جس پر ’کینیڈا‘ لکھا ہوا تھا اور ان کے سر پر ایک ایسی ٹوپی تھی، جس پر ’اقوام متحدہ کا ادارہ برائے مہاجرین‘ لکھا ہوا تھا۔ اس موقع پر رہف اور کینیڈین وزیر خارجہ کرسٹیا فری لینڈ نے مشترکہ طور پر صحافیوں سے مختصر سی گفتگو تو کی، لیکن کسی بھی قسم کے سوالوں کے جواب دینے سے انکار کر دیا۔

رہف کا ’نیا گھر‘ کینیڈا

کرسٹیا فری لینڈ نے کہا، ’’میرے لیے آج بڑی خوشی کی بات تھی کہ میں رہف کا ان کے نئے گھر میں استقبال کر سکوں۔ ظاہر ہے کہ وہ بہت تھکی ہوئی ہیں اور بہت طویل سفر کر کے آئی ہیں۔ اس لیے انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ وہ جائیں اور پہلے کچھ آرام کر لیں۔‘‘

ساتھ ہی وزیر خارجہ فری لینڈ نے یہ بھی کہا، ’’لیکن یہ رہف کی اپنی خواہش تھی کہ وہ باہر آ کر کینیڈا کے عوام کو ’ہیلو‘ کہیں۔ وہ کینیڈین عوام کو دکھانا چاہتی تھیں کہ اب وہ یہاں آ گئی ہیں۔ وہ بالکل ٹھیک ٹھاک ہیں اور اپنے ’نئے گھر‘ میں وہ بہت ہی خوش بھی ہیں۔‘‘

ہوائی جہاز سے ٹویٹس

ٹورانٹو ایئر پورٹ پر اترنے سے قبل فضائی سفر کے دوران ہی رہف نے ٹوئٹر پر اپنی دو تصویریں بھی پوسٹ کی تھیں۔ ان میں سے ایک تصویر میں وہ ہوائی جہاز میں اپنی سیٹ پر بیٹھی ہوئی تھیں اور بظاہر اس ٹین ایجر خاتون نے وائن کا ایک گلاس اور اپنا پاسپورٹ اپنے ہاتھ میں پکڑ رکھے تھے۔

دوسری تصویر میں انہوں نے اپنے ہاتھ میں اپنا پاسپورٹ پکڑ رکھا تھا اور ساتھ ہی انہوں نے ٹوئٹر پر لکھا تھا: ’’میں نے یہ کر دکھا یا ہے۔‘‘ اپنی یہ تصویری ٹویٹ رہف نے ہوائی جہاز، دل اور وائن گلاس کی ایموجیز کے ساتھ شیئر کی تھی۔

سعودی عرب سے فرار

18 سالہ رہف محمد القنون سعودی عرب میں اپنے اہل خانہ کی طرف سے مبینہ بدسلوکی اور جبری شادی کے منصوبے سے فرار ہو کر بیرون ملک پناہ لے لینے کی خواہش مند تھیں۔ اسی لیے وہ اپنے وطن سے فرار ہوئی تھیں۔

وہ شروع میں آسٹریلیا جانا چاہتی تھیں مگر انہیں تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک میں حکام نے روک لیا تھا۔ اس کی وجہ ان کے پاس کوئی سفری دستاویزات نہ ہونا تھی، کیونکہ بنکاک میں سعودی اہلکاروں نے مبینہ طور پر ان کا پاسپورٹ زبردستی ان سے لے لیا تھا۔

تھائی امیگریشن حکام

رہف محمد القنون گزشتہ کئی دنوں سے بنکاک ایئر پورٹ کے ایک ہوٹل میں مقیم تھیں۔ شروع میں تھائی حکام نے انہیں ملک بدر کر کے واپس سعودی عرب بھیجنے کا بھی سوچا تھا لیکن اس امکان کی انسانی حقوق کی کئی تنظیموں کی طرف سے شدید مخالفت کی جانے لگی تھی۔

سوشل میڈیا پر رہف کی بنکاک سے سعودی عرب ممکنہ ملک بدری کے خلاف شدید احتجاج کے بعد تھائی حکام نے اپنا فیصلہ ملتوی کر دیا تھا اور انسانی حقوق کی کئی تنظیمیں رہف کی مدد کے لیے سرگرم ہو گئی تھیں۔

وزیر اعظم ٹرودو کا اچانک اعلان

قبل ازیں کینیڈا کے وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو نے ٹوئٹر پر اپنے ایک پیغام میں اچانک یہ اعلان کر دیا تھا کہ کینیڈا رہف کو اپنے ہاں پناہ دینے پر تیار ہے۔ وزیر اعظم ٹروڈو نے اپنی ایک ٹویٹ میں لکھا تھا، ’’کینیڈا آج تک دنیا بھر میں انسانی حقوق، خاص کر خواتین کے حقوق کےلیے ہمیشہ ہی بہت بلند آواز کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اب اقوام متحدہ نے ہم سے یہ درخواست کی ہے کہ رہف محمد القنون کو کینیڈا میں پناہ دے دی جائے، تو ہم نے یہ درخواست منظور کر لی ہے۔‘‘

سعودی عرب سے تعلقات میں مزید کھچاؤ

اوٹاوہ حکومت کا رہف کو کینیڈا میں پناہ دینے کا فیصلہ یقینی طور پر کینیڈا اور سعودی عرب کے مابین پہلے سے کشیدہ تعلقات میں مزید کھچاؤ کا سبب بنے گا۔ اس کشیدگی کا ایک پس منظر ان دونوں ممالک کے مابین گزشتہ برس اگست میں پیش آنے والے وہ واقعات بھی ہیں، جب کینیڈا کی اسی خاتون وزیر خارجہ نے سعودی عرب میں انسانی حقوق کے حوالے سے ایک بہت تنقیدی بیان دیا تھا۔

اس بیان کے بعد ریاض حکومت نے سعودی عرب میں تعینات کینیڈا کے سفیر کو ملک بدر کر دیا تھا اور ساتھ ہی دونوں ممالک کے مابین بہت سے تجارتی اور سرمایہ کاری معاہدے بھی منسوخ کر دیے گئے تھے۔

قریب چھ ماہ قبل کینیڈا اور سعودی عرب کے مابین اس کھچاؤ کی وجہ کینیڈین حکومت کا یہ مطالبہ بنا تھا کہ خلیج کی یہ بہت قدامت پسند عرب بادشاہت اپنے ہاں انسانی حقوق کے احترام کی صورت حال کو بہتر بنائے اور انسانی حقوق کے سرکردہ لیکن زیر حراست کارکنوں کو فوری طور پر رہا کرے۔

’ایک اچھی مثال‘

رہف محمد القنون کا اپنی نئی منزل کینیڈا کا سفر بنکاک کے اسی ہوائی اڈے سے شروع ہوا، جہاں قریب ایک ہفتہ قبل انہوں نے اپنے لیے سیاسی پناہ کی درخواست دینا چاہی تھی اور جس کی وجہ سے دنیا کو ایک ایسا انسان دوست اور مہاجر دوست قانونی عمل دیکھنے کو ملا تھا، جو بہت سے مروجہ دفتری معمولات کے برعکس تھا۔ اس کارروائی کو ماہرین بین الاقوامی سطح پر مہاجرین کے حقوق کے تحفظ کے حوالے سے ’ایک اچھی مثال‘ کا نام دے رہے ہیں۔