خبریں

پاکستان میں بجٹ کے خلاف زبردست ناراضگی، مظاہروں اوراحتجاج کے اشارے

شور شرابے اور احتجاج میں پیش کیے جانے والے وفاقی بجٹ کو پاکستان کے کئی حلقوں نے مسترد کر دیا ہے اور فوج کے بجٹ میں اضافہ نہ کرنے کو ’نظر کا دھوکا‘ قرار دیا ہے۔

بجٹ پیش، سیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا عندیہ
بجٹ پیش، سیاسی جماعتوں کی طرف سے احتجاج کا عندیہ

ڈی. ڈبلیو

کل پاکستان کے وفاقی وزیر برائے ریونیو حماد اظہر نے حزبِ اختلاف کے شور شرابے اور احتجاج کے دوران بجٹ پیش کیا، جس میں ماہرین کے خیال میں بلند و بانگ دعوے کیے گئے، جو ان کے مطابق حققیت کی عکاسی نہیں کرتے۔

ڈی ڈبلیو کے پاس دستیاب بجٹ کی کاپی کے مطابق بجٹ کا کل حجم 8238.1 ارب روپے ہے، جو دو ہزار اٹھارہ، انیس کے بجٹ کے مقابلے میں اڑتیس اعشاریہ نو فیصد زیادہ ہے۔ اس بجٹ میں دستیاب وسائل کا تخمینہ 7899.1 ارب روپے ہے جب کہ دو ہزار اٹھارہ، انیس کے میزانیاتی تخمینے میں یہ چار ہزار نو سو سترہ اعشاریہ دو ارب روپیہ تھا۔ بجٹ کی دیگر تفصیلات کے مطابق قطعی مالیاتی وصولیات کا تخمینہ تین ہزار چار سو باسٹھ اعشاریہ ایک ارب ہے۔ وفاقی ٹیکس میں صوبائی حصہ تین ہزار دو سو چون اعشاریہ پانچ ارب ہے۔

وفاقی ترقیاتی بجٹ نو سو پچاس ارب روپے کا ہو گا۔ بجلی کے صارفین کے لیے دو سو ارب کی سبسڈی دی جائے گی۔ حماد اظہر نے اپنی تقریر میں بتایا کہ حکومت کا مجموعی قرضہ اکتیس ہزار ارب روپیہ ہے۔ سرکاری اداروں کا خسارہ تیرہ سو ارب روپیہ اور کرنٹ اکاونٹ خسارہ بیس بلین ڈالرز ہے۔

بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں بھی اضافہ کیا گیا ہے۔ تاہم یہ اضافہ گزشتہ بجٹ کی نسبت کم ہے۔ گریڈ ایک سے سولہ کے ملازمین کی تنخواہوں میں دس فیصد جب کہ گریڈ سترہ سے بیس کے ملازمین کی تنخواہوں میں پانچ فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔ گریڈ اکیس اور بائیس کے ملازمین کی نتخواہوں میں کوئی اضافہ نہیں کیا گیا۔

بجٹ میں کراچی اور کوئٹہ کے لئے بھی ترقیاتی پیکیجز رکھے گئے ہیں جب کہ ٹیکس کی شرح بڑھانے اور اخراجات میں کمی کرنے کا بھی وعدہ کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس میں بچوں، بوڑھوں، خواتین اور معذور افراد کے لئے بھی مراعات کا اعلان کیا گیا ہے۔ بجٹ میں مختلف ٹیکس مراعات ختم کرنے کی بھی بات کی گئی ہے۔ جب کہ تعلیم، صحت، ریلوے، کامرس، ٹریڈ، صنعت، سی پیک، ہائی ویز، کشمیر اور گلگت بلتستان کے لئے بھی سینکڑوں ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ حکومتی حلقے بجٹ کو عوامی قرار دے رہے ہیں۔ تاہم حزبِ اختلاف اور کئی دوسری سیاسی جماعتیں بجٹ کو عوام دشمن قرار دے رہے ہیں۔

پی پی پی کے رہنما اور سابق ایم این اے چوہدری منظور نے بجٹ پر اپنا ردِ عمل دیتے ہوئے اسے عوام دشمن قرار دیا۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا،’’یہ ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ خسارے کا بجٹ ہے، جو عالمی مالیاتی اداروں کے کہنے پر تیار کیا گیا ہے۔ اس بجٹ میں عوام کے لئے کچھ نہیں ہے۔ پی پی پی اس بجٹ کے خلاف بھرپور مہم چلائے گی اور ہم اس کے خلاف احتجاج کریں گے۔‘‘

کچھ سیاسی جماعتوں نے بجٹ کے خلاف مظاہرے کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ عوامی ورکرز پارٹی کے رہنما فاروق طارق نے ڈی ڈبلیو کو اس بجٹ پر اپنے تاثرات دیتے ہوئے بتایا، ’’یہ بجٹ مہنگائی کا سیلاب لائے گا۔ ہم اس عوام دشمن بجٹ کو نہیں مانتے جس میں اس مہنگائی کے دور میں مزدوروں کی کم از کم اجرت صرف سترہ ہزار پانچ سو مقرر کی گئی ہے۔ ہم چودہ جون کے اس بجٹ کے خلاف لاہور میں بھرپور مظاہرہ کرنے جا رہے ہیں۔‘‘

انہوں نے فوجی بجٹ میں کمی کو بھی دھوکا قرار دیا اور ان کا دعویٰ ہے کہ حکومت فوجی بجٹ میں اضافے کے لئے کئی منی بجٹس لے کر آئے گی۔

کئی ناقدین کے خیال میں حکومت نے تعلیم، صحت اور زندگی کی دوسری بنیادی ضروریات کو نظر انداز کیا ہے۔ معروف معیشت دان ڈاکڑ لال خان کے خیال میں یہ بجٹ عوامی امنگوں کا ترجمان نہیں ہے، ’’مجھے بتائیں کہ اس بجٹ میں تعلیم، صحت، روزگار، ہاوسنگ اور پینے کے صاف پانی کے لئے حکومت نے کیا رکھا ہے۔ فوجی بجٹ میں جو رضاکارانہ کمی کی بات کی جا رہی ہے۔ تو میں یہ بتاتا چلوں کی اس کمی کا مطالبہ بھی آئی ایم ایف کا ہے۔ پورے کا پورا بجٹ ہی آئی ایم ایف کے کہنے پر بنایا گیا ہے۔ اس کے خلاف مزاحمت ہو سکتی ہے۔‘‘

کئی ماہرین کا خیال ہے کہ حکومت نے ٹیکس کے حوالے سے اعداد و شمار جو مستقبل کے لئے پیش کئے ہیں وہ مبالغہ آرائی پر مبنی ہیں۔ پاکستان کی معیشت پر گہری نظر رکھنے والے معروف صحافی اور کالم نگار ضیا الدین کے خیال میں ٹیکس وصولی کے جو ٹارگٹ ہیں وہ بہت غیر حقیقت پسندانہ ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’ہر حکومت کی طرح انہوں نے بھی یہ رونا رویا ہے کہ ٹیکس کم ہیں۔ عام آدمی سیلز ٹیکس کی مد میں پیسہ دیتا ہے لیکن حکومت ان سرمایہ داروں اور بڑے لوگوں سے ٹیکس نہیں لے پاتی جو عوام سے سیلز ٹیکس لیتے ہیں۔ ‘‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل ہے کہ ہمارے سرمایہ دار ٹیکس دیں،’’ہماری صنعتیں بجلی چوری، ٹیکس چوری اور مزدوروں کے استحصال پر چلتی ہیں۔ ہمارا سرمایہ دار جدت پسند نہیں ہے اور نہ وہ اعلی معیار کی مصنوعات بنا کر مقابلہ کرنا چاہتا ہے۔ میرے خیال میں سرمایہ دار فوج کے ڈر سے بجٹ کو تسلیم تو کر لیں گے لیکن جب حکومت ٹیکس لینے جائے گی تو وہ ٹیکس نہیں دیں گے۔ جنرل مشرف نے ٹیکس جمع کرنے کے لئے فوجی بھیجے تھے اور سرمایہ داروں نے انہیں مار بھگایا تھا۔ تو میرے خیال میں ٹیکس کا جمع کرنا سب سے بڑا چیلنج ہو گا۔‘‘