’فوجی کارروائی سے عالمی چیلنجز حل نہیں ہوں گے، سفارت کاری کو موقع دیا جائے‘، جی-20 اجلاس میں جے شنکر کا پیغام

جی-20 اجلاس کی میزبانی امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی۔ انہوں نے اجلاس کے بعد ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’سمندری اور غذائی تحفظ معاشی سلامتی کو فروغ دیتے ہیں۔‘‘

<div class="paragraphs"><p>ایس جے شنکر، تصویر/آئی اے این ایس</p></div>
i

وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے جی-20 وزرائے خارجہ کے اجلاس میں سفارت کاری کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے عالمی چیلنجز کے حل کے لیے فوجی کارروائی کے بجائے سفارت کاری کو ترجیح دینے کی اپیل کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائی مسائل کو حل نہیں کر سکتے اور سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔ ساتھ ہی انہوں نے سمندری راستوں پر حملوں کے باعث عالمی جنوب کے ممالک پر پڑنے والے غیر مساوی اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔

امریکہ کے اٹلانٹا میں جمعہ (30 اکتوبر) کو جی-20 وزرائے خارجہ کے پہلے مکمل اجلاس میں شرکت کے بعد جے شنکر نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ’’عالمی چیلنجز کے درمیان فوجی حل کارگر ثابت نہیں ہوں گے اور سفارت کاری کو موقع دیا جانا چاہیے۔ شہری جہازوں اور ملاحوں پر ہونے والے حملوں کا خمیازہ عالمی جنوب کے ممالک کو غیر مساوی طور پر بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اس سے ایندھن، غذائی اشیاء اور کھاد کی دستیابی متاثر ہونے کے ساتھ ان کی قیمتوں پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔‘‘


ایس جے شنکر نے بین الاقوامی قانون، بالخصوص سمندر کے قانون سے متعلق اقوام متحدہ کے کنونشن (یو این سی ایل او ایس) کے تحت جہاز رانی کی آزادی برقرار رکھنے اور حملوں کو فوری طور پر روکنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بتایا کہ ’’ہندوستان اور لائبیریا نے ملاحوں کی حفاظت کے لیے مشترکہ پہل شروع کی ہے۔‘‘

تجارت کے معاملے پر بھی جے شنکر نے ترقی پذیر ممالک کے مفادات کو مضبوطی سے اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ ’’بازاروں میں اشیاء کی ضرورت سے زیادہ سپلائی کر کے، سپلائی چین کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے، بازاروں تک رسائی محدود کر کے اور بازار میں عدم توازن کو فروغ دے کر ترقی پذیر ممالک کے صنعتی ترقی کے حق میں رکاوٹ ڈالی جا رہی ہے۔ یہ سب بند ہونا چاہیے۔‘‘ ساتھ ہی انہوں نے عالمی معیشت میں خطرات کم کرنے اور تجارتی انحصار میں تنوع لانے کی کوششوں کے درمیان مضبوط اور متبادل رابطہ نظام تیار کرنے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔


دہشت گردی کے معاملے پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے خبردار کیا کہ اسٹریٹجک اور فوری مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے دہشت گردی کے خطرات کو نظر انداز نہیں کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ ’’دہشت گردی ایک انتہائی خطرناک قدم ہے اور اسے فروغ دینے والوں کو بھی بالآخر اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔‘‘

قابل ذکر ہے کہ جی-20 کے اس اجلاس کی میزبانی امریکہ کے وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کی۔ انہوں نے بھی اجلاس کے بعد ’ایکس‘ پر کہا کہ ’’سمندری اور غذائی تحفظ معاشی سلامتی کو فروغ دیتے ہیں۔‘‘ ان کے ابتدائی خطاب کے دستیاب متن کے مطابق اجلاس میں جہاز رانی کی آزادی اور غذائی تحفظ پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اس سے قبل جمعہ کو جے شنکر نے جی-20 اجلاس میں شریک دیگر ممالک کے وزرائے خارجہ کے ساتھ تصاویر شیئر کرتے ہوئے لکھا تھا کہ وہ اٹلانٹا میں اپنے ہم منصبوں کے ساتھ موجود ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔