اہم خبر: سماجوادی پارٹی کی تمام صوبائی یونٹیں تحلیل، اکھلیش یادو کا بڑا فیصلہ

سماجوادی پارٹی کی تمام صوبائی یونٹیں تحلیل، اکھلیش یادو کا بڑا فیصلہ
لکھنؤ: سماجوادی پارٹی کے قومی سربراہ اکھلیش یادو نے جمعہ کے روز ریاستی صدر نریش اتم کو چھوڑ کر صوبہ کی تمام اکائیوں کو تحلیل کر دیا۔ اکھلیش یادو نے عہدیداران کے ساتھ ایک میٹنگ کی اور اس کے بعد اتر پردیش کی تمام نوجوان اور ضلع اکائیوں کو تحلیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ اب نئے سے رے نئے لوگوں کو پارٹی کی ذمہ داری سونپی جائے گی۔
موڈیز نے ہندوستان کی جی ڈی پی شرح کے اندازے کو گھٹایا
کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی موڈیز نے سال 2019 کے لیے ہندوستان کی معاشی شرح ترقی (جی ڈی پی) کے اندازے کو گھٹا کر 6.2 فیصد کر دیا ہے۔ اس سے قبل ایجنسی نے ہندوستانی معیشت کے 6.8 فیصد کی شرح سے آگے بڑھنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔
جموں و کشمیر: پاکستان نے نوشیرا میں کی جنگ بندی کی خلاف ورزی، ایک ہندوستانی جوان شہید
جموں و کشمیر میں دفعہ 370 ہٹنے کے بعد پاکستان کی طرف سے سرحد پر کارروائی تیز ہو گئی ہے۔ ایک بار پھر پاکستان کی جانب سے جنگ بندی کی خلاف ورزی کی خبریں موصول ہو رہی ہیں اور میڈیا ذرائع کے مطابق نوشیرا سیکٹر پر پاکستانی فائرنگ میں ایک ہندوستانی جوان شہید ہو گیا ہے۔ خبروں کے مطابق شہید جوان کا تعلق گورکھا رائفلز سے تھا اور اس کا نام راجیب تھاپا ہے۔
اتر پردیش: مڈ ڈے میل میں نمک روٹی دیے جانے پر پرینکا گاندھی نے کیا بی جے پی حکومت پر حملہ
اتر پردیش کے مرزا پور کے ایک اسکول میں مڈ ڈے میل میں نمک روٹی دیے جانے کا معاملہ اب طول پکڑ گیا ہے۔ اس سلسلے میں کانگریس جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی نے ناراضگی ظاہر کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا ہے کہ ’’مرزا پور کے ایک اسکول میں بچوں کو مڈ ڈے میل میں نمک روٹی دی جا رہی ہے۔ یہ اتر پردیش بی جے پی حکومت کے نظام کا حقیقی حال ہے۔‘‘ انھوں نے مزید لکھا ہے کہ ’’یہاں سرکاری سہولیات کی دن بہ دن حالت بدتر ہوتی جا رہی ہے۔ بچوں کے ساتھ کیا گیا یہ سلوک بے حد قابل مذمت ہے۔‘‘
سپریم کورٹ میں پی چدمبرم کی عرضی پر سماعت اب 26 اگست کو
آئی این ایکس میڈیا کیس میں پی چدمبرم اس وقت سی بی آئی کی گرفت میں ہیں اور اس سلسلے میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے چدمبرم نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی۔ اس معاملے میں عدالت عظمیٰ نے 26 اگست کو اس معاملے پر سماعت کرنے کا اعلان کیا۔ عدالت کے اس فیصلہ کے بعد چدمبرم کے وکیل کپل سبل نے کہا کہ جب بحث ختم ہو گئی تھی تو سالیسیٹر جنرل نے ہائی کورٹ میں جسٹس گوڑ کو ایک نوٹ دیا تھا۔ ہمیں اس پر جواب دینے کا موقع نہیں ملا۔ کپل سبل کے اس بیان کی سالیسیٹر جنرل تشار مہتا نے کی تردید کی۔ انھوں نے کہا کہ ’’غلط بیان مت دیجیے، بحث ختم ہونے کے بعد ہم نے نہیں دیا تھا۔‘‘ اس پر کپل سبل نے کہا کہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی نہیں ہونی چاہیے۔ انھوں نے مزید کہا کہ وقت پر سپریم کورٹ میں عرضی داخل کرنے کے بعد بھی پی چدمبرم معاملے کی سماعت نہیں ہوئی۔
مغربی بنگال میں مندر کی دیوار گرنے سے مچی بھگدڑ، 4 ہلاک 2 درجن سے زائد زخمی
مغربی بنگال کے شمال 24 پرگنہ ضلع میں ایک مندر کی دیوار گرنے سے 4 لوگوں کی موت ہو گئی۔ اس واقعہ کے بعد وہاں بھگدڑ مچ گئی جس سے کم و بیش 27 لوگ زخمی ہو گئے۔ لوگ جنم اشٹمی کے موقع پر مندر میں اکٹھا ہو رہے تھے تبھی حادثہ سرزد ہو گیا۔ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی نے اس واقعہ پر افسوس ظاہر کیا اور مہلوکین کے اہل خانہ کو 5 لاکھ روپے معاوضہ دینے کا اعلان کیا۔ ممتا بنرجی نے شدید طور پر زخمی ہونے والے افراد کو 1 لاکھ اور معمولی زخمی ہونے افراد کو 50 ہزار روپے معاوضہ دینے کا بھی فوری طور پر اعلان کیا ہے۔
سنسیکس میں 370 پوائنٹس کی گراوٹ، نفٹی میں 100 پوائنٹس کا زوال
گھریلو شیئر بازار میں جمعہ کو بھی سرمایہ کاروں کے لیے مایوسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔ سنسیکس میں لگاتار گراوٹ جاری ہے اور آج شروعاتی کاروبار کے دوران بی ایس ای کا مین انڈیکس سنسیکس 370 پوائنٹ گر گیا جب کہ این ایس ای کے مین انڈیکس نفٹی میں بھی 100 سے زیادہ پوائنٹ کا زوال دیکھنے کو ملا۔ مودی حکومت میں بحران کے دور سے گزر رہے صنعتی سیکٹری کو کسی راحتی پیکیج کے ملنے کا امکان بھی نظر نہیں آ رہا ہے جس کی وجہ سے بازار میں بکوالی کا دباؤ بڑھا۔ اس سے ہندوستانی کرنسی روپیہ بھی فی ڈالر گر کر 72 روپے کے پار چلا گیا۔
ڈالر کے مقابلے روپیہ میں گراوٹ جاری، روپیہ پہنچا 72 کے پار
ہندوستانی روپے کی قیمت میں گزشتہ کچھ دنوں میں کافی گراوٹ دیکھنے کو ملی ہے۔ آج ایک ڈالر کے مقابلے روپیہ کی قیمت 72.03 روپے پر پہنچ گئی ہے۔ ہندوستانی معیشت کے لیے یہ خطرے کا اشارہ ہے اور مودی حکومت کے لیے کسی بری خبر سے کم نہیں ہے۔ ایک طرف ہندوستان میں بے روزگار بڑھ رہی ہے اور دوسری طرف معیشت بھی لگاتار زوال پذیر ہے۔
ہندوستانی معیشت 70 سال کی بدترین حالت میں، ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا: نیتی آیوگ
نیتی آیوگ کے وائس چیئرمین راجیو کمار نے کہا ’’گزشتہ 70 سالوں میں کسی نے ایسی حالت نہیں دیکھی جہاں پورا معاشی سیکٹر اتھل پتھل کے دور سے گزر رہا ہے اور نجی سیکٹر میں کوئی بھی دوسرے پر بھروسہ نہیں کر رہا ہے۔ کوئی بھی کسی کو قرض دینے کو تیار نہیں ہے، سب نقد داب کر بیٹھے ہیں۔‘‘ انھوں نے دہلی میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ اس مشکل حالات کو ختم کرنے کے لیے سخت قدم اٹھائے جانے کی ضرورت ہے۔ راجیو کمار نے کہا کہ نجی سیکٹر کے اندیشوں کو دور کرنے کے لیے حکومت کو ہر ممکن کوشش کرنی چاہیے۔
راجیو کمار نے اپنی تقریر کے دوران یہ بھی کہا کہ ’’نوٹ بندی، جی ایس ٹی اور آئی بی سی (دیوالیہ قانون) کے بعد ہر چیز بدل گئی ہے۔ پہلے 35 فیصد نقدی دستیاب ہوتی تھی، وہ اب کافی کم ہو گئی ہے۔ ان سبھی اسباب سے حالات کافی پیچیدہ ہو گئے ہیں۔‘‘
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
