اہم خبریں: راجستھان کے اسپتال میں بچوں کی اموات پر سونیا گاندھی کا رد عمل آیا سامنے

راجستھان کے اسپتال میں بچوں کی اموات پر سونیا نے کیا اظہار تشویش
نئی دہلی: کانگریس صدر سونیا گاندھی نے راجستھان کے کوٹہ میں نومولود بچے کی اموات پر گہری تشویش ظاہر کی ہے۔ راجستھان کانگریس صدر اویناش پانڈے نے جمعرات کو سونیا گاندھی سے ان کی رہائش گاہ پر ملاقات کی اور کوٹہ کے جالون اسپتال میں گزشتہ ایک ماہ کے دوران ایک سو سے زائد بچوں کی موت کے بارے میں تفصیلات بتائیں۔ انہوں نے بتایا کہ پہلے سے مقرر پروگرام کے مطابق کانگریس صدر سے ملنے وہ یہاں آئے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ کانگریس صدر کو بچوں کی پراسرار طریقے سے ہونے والی اموات کے بارے میں تفصیلات بتائیں، جس پر انھوں نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ریاستی حکومت نے بھی اس بارے میں ایک رپورٹ تیار کی ہے۔ اس اسپتال میں دسمبر میں 100 بچوں کی موت ہوئی تھی اور گزشتہ 2 دن میں 9 بچوں کی موت ہوئی ہے۔
دہلی: پیراگڑھی فیکٹری آتشزدگی معاملہ میں ایک فائر بریگیڈ اہلکار کی موت
دہلی کے پیراگڑھی واقع فیکٹری میں آگ سے ایک فائر بریگیڈ اہلکار کی موت ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں فائر بریگیڈ محکمہ نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ملازم نے اسپتال میں دم توڑ دیا ہے۔ محکمہ نے کہا کہ وہ آگ میں پھنس گئے تھے، بعد میں انھیں نکالا گیا تھا اور علاج کے لیے اسپتال میں داخل کرایا گیا تھا۔
جعفر آباد تشدد: ملزمین کی عدالتی حراست میں 16 جنوری تک کا اضافہ
دہلی کے جعفر آباد میں گزشتہ مہینے شہریت ترمیمی قانون کو لے کر ہوئے مظاہرے کے بعد پیدا تشدد کو لے کر کئی لوگوں کو عدالتی حراست میں لیا گیا تھا۔ ان ملزمین کی عدالتی حراست میں 16 جنوری تک کے لیے اضافہ کر دیا گیا ہے۔ دہلی کی ایک عدالت نے یہ فیصلہ سنایا ہے۔ قابل غور ہے کہ اس تشدد معاملہ میں 2 ملزمین کو پہلے ضمانت مل چکی ہے۔
فیض کی نظم کو ہندو مخالف بتانا مضحکہ خیز... جاوید اختر
نغمہ نگار جاوید اختر نے فیض احمد فیض کی نظم ’ہم دیکھیں گے، لازم ہے کہ ہم بھی دیکھیں گے‘ کو ہندو مخالف کہے جانے پر حیرانی ظاہر کی ہے۔ انھوں نے کہا کہ ’’فیض کی نظم کو ہندو مخالف بتانا مضحکہ خیز ہے۔‘‘ انھوں نے مزید کہا کہ فیض نے اپنی نصف زندگی پاکستان کے باہر گزاری، انھیں وہاں پاکستان مخالف کہا گیا۔ فیض نے نظم ’ہم دیکھیں گے‘ ضیاء الحق کے خلاف لکھی تھی۔
مہاراشٹر: ناگپور میں زبردست بارش، کئی جگہ پر آبی جماؤ کا نظارہ
مہاراشٹر کے ناگپور واقع کئی علاقوں میں زبردست بارش کی خبریں منظر عام پر آ رہی ہیں۔ میڈیا ذرائع کے مطابق بارش کچھ مقامات پر اس قدر موسلادھار تھی کہ پانی کا جماؤ ہو گیا ہے جس سے ٹریفک آمد و رفت میں کافی پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
دہلی: طویل علالت کے بعد سینئر این سی پی لیڈر ڈی کے ترپاٹھی کا انتقال
این سی پی کے سینئر لیڈر اور سابق رکن پارلیمنٹ ڈی پی ترپاٹھی کا طویل علالت کے بعد دہلی میں انتقال ہو گیا۔ ان کے انتقال کی خبر سے سیاسی حلقے میں کافی غم و اندوہ کا لہر ہے۔ این سی پی لیڈر سپریا سولے نے ان کی موت پر گہرے افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ایک ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’ڈی پی ترپاٹھی کے انتقال کے بارے میں سن کر افسوس ہوا۔ وہ این سی پی کے جنرل سکریٹری تھے۔ ہم سبھی کے راہنما تھے۔ ہم ان کی رہنمائی اور مشورہ کو یاد رکھیں گے جو انھوں نے اس دن دیا تھا جس دن این سی پی کا قیام ہوا تھا۔ ان کی روح کو سکون ملے۔‘‘
اتر پردیش: شہریت قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والی ایکتا شیکھر کو ملی ضمانت
وارانسی میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف مظاہرہ کرنے والی ایکتا شیکھر کو ضمانت مل گئی ہے۔ ضمانت ملنے کے بعد انھوں نے سب سے پہلے اپنی چھوٹی بیٹی چمپک سے ملاقات کی جو بہت چھوٹی ہے اور اپنی ماں کے بغیر اس کا جینا محال ہو رہا تھا۔ دراصل مظاہرہ کے دوران ایکتا شیکھر کے ساتھ ساتھ ان کے شوہر کو بھی پولس نے گرفتار کر لیا تھا اور اس وقت بیٹی چمپک کسی پڑوسی کے گھر پر تھی۔ بہر حال، ضمانت ملنے کے بعد ایکتا شیکھر نے کہا کہ ’’میں اپنی بچی کو لے کر بہت خوفزدہ تھی، کیونکہ وہ میرے دودھ پر ہی منحصر ہے۔‘‘ انھوں نے کہا کہ بچی سے دور رہنا میرے لیے بے حد مشکل بھرا رہا۔
دہلی: پیراگڑھی کی ایک فیکٹری میں لگی زبردست آگ، فائر بریگیڈ کی 35 گاڑیاں موقع پر
دہلی واقع پیراگڑھی علاقہ میں ایک فیکٹری میں زبردست آگ لگنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اس آگ پر قابو پانے کے لیے موقع پر 35 فائر بریگیڈ کی گاڑیاں پہنچ گئی ہیں۔ خبریں اس طرح کی بھی ہیں کہ آگ بجھانے کی کوشش میں فیکٹری میں اچانک ایک دھماکہ ہوا اور پھر عمارت کا ایک حصہ بھی گر گیا۔ اس کی زد میں فائر بریگیڈ کے کئی ملازمین بھی آ گئے ہیں۔
الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر نے دیا استعفی
کئی طرح کی بے ضابطگیوں کے الزامات کا سامنا کر رہے الہ آباد یونیورسٹی کے وائس چانسلر رتن لال ینگلو نے اپنے عہدہ سے استعفی دے دیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ ان پر لگے الزامات کی وجہ سے وہ 2016 سے نگرانی میں تھے۔ علاوہ ازیں ابھی بہت زیادہ دن نہیں ہوئے ہیں جب قومی خواتین کمیشن نے انھیں کچھ شکایتوں کی وجہ سے طلب کیا تھا۔ خبروں کے مطابق یونیورسٹی میں ہونے والے جنسی استحصال کی شکایتوں کو وہ اچھی طرح نہیں نمٹانے تھے اور طالبات کی شکایتوں کے ازالہ کی طرف بھی توجہ نہیں دیتے تھے۔
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
