ہندوستان میں 1.9 لاکھ کینسر کے کیسز انفیکشن والے، لینسیٹ کی اسٹڈی میں انکشاف

اسٹڈی میں استعمال اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں 2024 کے دوران تقریباً 1562581 نئے کینسر کے معاملے سامنے آنے کا اندازہ تھا۔ اُسی سال کینسر سے تقریباً 908828 اموات ہونے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا۔

کینسر، علامتی تصویر آئی اے این ایس
i

کینسر سے متعلق سامنے آئی ایک نئی تحقیق نے اس بیماری کی روک تھام سے جڑی ایک اہم بات کی طرف توجہ کھینچی ہے۔ ’دی لینسیٹ آنکولوجی‘ میں شائع گلوبل اسٹڈی کے مطابق ہندوستان میں 2024 کے دوران تقریباً 1.9 لاکھ نئے کینسر کے معاملے انفیکشن سے جڑے تھے۔ یہ ملک میں اُس سال سامنے آئے مجموعی کینسر کیسز کا تقریباً 12 فیصد ہے۔ تحقیق کے مطابق عالمی سطح پر بھی کینسر کے تقریباً 12 فیصد معاملے انفیکشن سے جڑے پائے گئے۔

اسٹڈی رپورٹ میں اخذ کیا گیا ہے کہ کچھ وائرس اور بیکٹیریا طویل مدت تک جسم میں انفیکشن پیدا کرنے کے بعد کینسر کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ایسے انفیکشن کی وقت پر روک تھام، جانچ اور علاج سے کینسر کے کچھ معاملوں کو کم کیا جا سکتا ہے۔ اسٹڈی میں استعمال کیے گئے اعداد و شمار کے مطابق ہندوستان میں 2024 میں تقریباً 1562581 نئے کینسر معاملے سامنے آنے کا اندازہ تھا۔ اسی سال کینسر سے تقریباً 908828 اموات ہونے کا بھی اندیشہ ظاہر کیا گیا۔ ان میں سے تقریباً 1.9 لاکھ معاملے ایسے تھے جنھیں انفیکشن سے جوڑا گیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہر انفیکشن سیدھے کینسر میں بدل جاتا ہے۔ اسٹڈی میں ان انفیکشنز پر توجہ دی گئی ہے جن کی کچھ خاص شکل کے کینسر سے سائنسی طور سے تعلق قائم ہو چکا ہے۔


تحقیق کے مطابق ہندوستان میں انفیکشن سے جڑے کینسر کے معاملوں میں ہیومن پیپیلوما وائرس (ایچ پی وی) کا حصہ سب سے زیادہ تھا۔ ایچ پی وی سے جڑے معاملوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ بتائی گئی ہے۔ اس کا سب سے اہم تعلق سروائیکل کے کینسر سے ہے۔ ایچ پی وی انفیکشن کو روکنے کے لیے ویکسین دستیاب ہے۔ اس کے علاوہ سروائیکل کینسر کی وقت پر اسکریننگ بھی بیماری کو ابتدائی سطح پر پکڑنے میں مدد کر سکتی ہے۔ آئی اے آر سی کے مطابق لگاتار ہائی رِسک ایچ پی وی انفیکشن سروائیکل کینسر کی اہم وجہ ہے اور ایچ پی وی سے دفاع کے لیے ویکسین دستیاب ہے۔

ہندوستان میں ’ہیلی کوبیکٹر پائیلوری‘ انفیکشن سے جڑے تقریباً 47 ہزار کینسر کیسز کا اندازہ لگایا گیا۔ یہ بیکٹیریا خاص طور سے پیٹ میں انفیکشن پیدا کرتا ہے اور اس کا تعلق پیٹ کے کینسر سے ہے۔ دنیا بھر کے اعداد و شمار میں بھی ایچ. پائیلوری سب سے اہم انفیکشنز میں شامل رہا۔ اسٹڈی کے مطابق 2024 میں اس سے تقریباً 7.6 لاکھ کینسر کے معاملے جڑے تھے، جو دنیا میں مجموعی کینسر معاملوں کا تقریباً 4 فیصد تھا۔ اسٹڈی میں ایپسٹین-بار وائرس (ای بی وی) سے ہندوستان میں تقریباً 22 ہزار کینسر کیسز جڑے پائے گئے، جبکہ ہپٹائٹس بی وائرس سے تقریباً 10 ہزار اور ہپٹائٹس سی وائرس سے تقریباً 5300 معاملوں کا تعلق بتایا گیا۔ ہپٹائٹس بی اور سی جیسے انفیکشنز کا لیور کینسر سے تعلق ہے، جبکہ ای بی وی کئی طرح کے کینسر سے جڑا پایا گیا ہے۔ آئی اے آر سی کے مطابق انفیکشن اور کینسر کے درمیان تعلق الگ الگ انفیکشن اور کینسر کی شکل کی بنیاد پر بدلتا ہے۔ عالمی سطح پر اسٹڈی کے مطابق 2024 میں تقریباً 2.3 ملین یعنی 23 لاکھ نئے کینسر کیسز کو انفیکشن سے جڑا پایا گیا ہے۔ یہ دنیا میں اُس سال سامنے آئے سبھی نئے کینسر  کیسز کا تقریباً 12 فیصد تھا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔