5 سال بعد چینی سیاحوں کو ویزا جاری کرے گا ہندوستان، گلوان تصادم کے بعد سے عائد تھی پابندی

حال ہی میں ہندوستان اور چین نے براہ راست پروازیں پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طویل عرصے سے رکے ہوئے کیلاش مانسروور یاترا کو بھی دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ہندوستان-چین، تصویر آئی اے این ایس</p></div>
i
user

قومی آواز بیورو

ہندوستانی حکومت چینی شہریوں کے لیے سیاحتی ویزا پھر سے شروع کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ تقریباً 5 سال قبل گلوان وادی میں ہوئے پرتشدد تصادم کے بعد ان خدمات کو بند کر دیا گیا تھا۔ اب دونوں ممالک کے درمیان رشتوں کے درمیان جمی برف دھیرے دھیرے پگھل رہی ہے۔ یہ قدم دونوں ممالک کے درمیان تعلقات میں آہستہ آہستہ آ رہی نرمی کے درمیان اٹھایا گیا ہے۔

واضح رہے کہ حال ہی میں ہندوستان اور چین نے براہ راست پروازیں پھر سے شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی طویل عرصے سے رکے ہوئے کیلاش مانسروور سفر کو بھی دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔ نئے ویزا قوانین بنیادی طور پر چین، ہانگ کانگ اور مکاؤ سے آنے والے مسافروں پر نافذ ہوں گے۔


حکومت کا یہ فیصلہ سیاحت، تجارت اور لوگوں کے درمیان آپسی میل جول کو پھر سے بڑھانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ گزشتہ کچھ سالوں سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کی وجہ سے یہ سرگرمیاں رکی ہوئی تھیں۔ حالانکہ ویزا دینے کے لیے عام طریقۂ کار کی پیروی کی جائے گی، لیکن سیکورٹی خدشات کو دیکھتے ہوئے کچھ پابندیاں بھی نافذ رہیں گی۔

ماہرین کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور ثقافتی تعلقات مضبوط ہوں گے۔ کاروباری طبقہ نے بھی اس قدم کا استقبال کیا ہے۔ فی الحال دونوں ممالک اب آہستہ آہستہ اپنے پرانے اختلافات کو پیچھے چھوڑ کر تعاون کی سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔


قابل ذکر ہے کہ گلوان وادی کے واقعات کے بعد دونوں ممالک کے رشتے 1962 کی جنگ کے بعد سب سے خراب صورتحال میں پہنچ گئے تھے۔ حالانکہ بعد میں کئی دور کی سفارتی اور فوجی بات چیت کے ذریعہ پینگونگ جھیل، گلوان اور ہاٹ اسپرنگس جیسے کئی کشیدہ علاقوں سے فوجیں پیچھے ہٹ گئیں۔ اکتوبر 2024 میں دیپسانگ اور ڈیمچوک علاقوں سے بھی فوجیں ہٹانے کا معاہدہ ہوا۔ اس کے کچھ ہی روز بعد وزیر اعظم نریندر مودی اور چینی صدر شی جنپنگ کی روس کے کازان میں میٹنگ ہوئی، جس میں دوطرفہ رشتوں کو پٹری پر لانے کے لیے کئی اہم فیصلے لیے گئے۔

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔