عمران کی سابق اہلیہ کا الزام: کئی ہندوستانی بچوں کے باپ ہیں عمران خان

عمران خان اور ریحام خان کی فائل تصویر 

پاکستانی سیاست میں طوفان لانے والی ریحام خان کی کتاب بالآخر منظر عام پر آگئی جس میں انہوں نےاپنی اور عمران خان کی زندگی کے حوالے سے کئی سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کے لندن سے پاکستان واپس آنے سے ٹھیک ایک دن قبل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان کی سابق اہلیہ ریحام خان نے اپنی کتاب کا متن سوشل میڈیا پر جاری کر دیا ہے جس کے بعد پاکستانی سیاست میں ایک طوفان آ گیا ہے ۔ کتاب شائع ہونے سے قبل ہی اپنے متنازع متن کے باعث خبروں کی زد میں آگئی تھی، سوشل میڈیا پر جاری کیے جانےوالے کتاب کے متن میں عمران خان سمیت پی ٹی آئی کے متعدد رہنماؤں پر الزام تراشی کی گئی تھی۔ اپنی کتاب میں ریحام خان نے عمران خان پر اقرباپروری اور جنسی ہراسگی کا الزام بھی عائد کیا تھا۔انہوں نے یہ بھی الزام لگایا ہے کہ عمران خان نے ان کو بتایا تھا کہ ہندوستان میں کم از کم ان کی پانچ ناجائز اورلادیں ہیں جس میں ایک کی عمر 34 سال ہے ۔ ریحام نے یہاں تک لکھا ہے کہ عمران خان قران پاک نہیں پڑھ سکتے۔ نشہ اور خواتین ان ک کمزوری ہیں۔

پاکستانی سیاست میں طوفان مچانے والی ریحام خان کی کتاب بالآخر منظر عام پر آہی گئی۔ ریحام خان کی کتاب کا نام ان ہی کے نام پر یعنی ’’ریحام خان‘‘ہے۔ عمران خان کی سابق اہلیہ نے ٹوئٹ کرتے ہوئے اطلاع دی کہ ان کی کتاب برطانیہ اورکچھ ممالک میں کتابی شکل میں جب کہ دنیا بھر میں آن لائن دستیاب ہے۔

ریحام خان نے ایک اور ٹوئٹ کرکے بتایا کہ ان کی کتاب آن لائن ویب سائٹ امیزون ڈاٹ کام پر بھی دستیاب ہے جہاں سے اسے خریدا جاسکتا ہے۔ ریحام خان کی کتاب کے 365صفحات اور 30چیپٹر(ابواب)ہیں جب کہ کتاب کی قیمت 9.99 ڈالرز ہے جو تقریباً 700 ہندوستانی روپے بنتے ہیں۔ ریحام خان نے لکھا ہے کہ کتاب کو پبلش کرنے میں میرے بیٹے ساحرنے میرا بہت ساتھ دیا۔

ریحام خان نے اپنی کتاب میں بتایا ہے کہ ان کے والدین ساٹھ کی دہائی میں پاکستان سے لیبیا آئے اوروہیں ان کی پیدائش ہوئی، وہ دوبہنیں اور ایک بھائی ہیں جب کہ والد لیبیا میں ڈاکٹرتھے۔ریحام خان نے کتاب میں اپنے پہلے شوہر اعجاز رحمان کے حوالے سے چشم کشاانکشافات کیے ہیں۔ کتاب میں انہوں نے کہا کہ میرے بچے اردو، پشتو اور پنجابی روانی سے بولتے تھے، ریحام خان نے اپنی بیٹی ردھا کی پیدائش کا ذکر کیا، ردھا برطانیہ کے اسپتال پہنچنے کے پانچ منٹ بعد ہی دنیا میں آگئی، ردھا پیدائش کے بعد مسلسل پندرہ منٹ روتی رہی جیسے دنیا میں آمد پر احتجاج کر رہی ہو، میرا بیٹا ساحر ردھا کا خیال رکھتا، گودمیں لے کراسے فیڈر پلاتا رہتا، ساحر رات کو اٹھ کر چلتا رہتا ریحام خان نے کتاب میں اپنے سابق شوہر کے ظلم کی داستان بیان کرتے ہوئے لکھا کہ اعجاز نیند سے جگانے پر اس کی پٹائی کرتے، بچوں کو مغربی کھانوں پر لگانے پر اعجاز اکثر طویل لیکچر دیتے، اعجاز بچے کے پیزا کھانے کی خواہش پر بھی بڑھک اٹھتے۔ریحام خان نے مزید لکھا ہے میری دوسری بیٹی انایا کی پیدائش 8 مئی 2003 کو صبح آٹھ بجے ہوئی، اگست 2003 میں اعجاز نے مجھے پاکستان میں چک شہزاد رہنے کے لئے بھیج دیا۔

کتاب کے متن کے مطابق ریحام خان کا کہنا ہے کہ ’’تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے ملاقات کے لئے انہوں نے اپنے گارڈ کو ہمہ وقت ساتھ رہنے کی ہدایت کی، پہلے پارٹی سیکرٹریٹ کے ایک ٹھنڈے اور بے ترتیب بیڈ روم میں نعیم الحق نے میرا انٹرویو کیا پھر نعیم الحق میری کار میں بیٹھ گئے اور ہم بنی گالہ آگئے، نعیم الحق آگے آگے چل رہے تھے، میرے گارڈ نے کان میں سرگوشی کی، یہ آدمی ٹھیک نہیں ہے ۔ مجھےایک کمرے میں لے جایا گیا جہاں سر سے پاؤں تک بلیک لباس میں عمر رسیدہ آدمی پشت کر کے کھڑا تھا، کالے لباس والا آدمی کوئی اور نہیں لیجنڈ (عمران خان) خود تھا، انہوں نے مجھے پلک جھپکائے بغیر گھورنا شروع کیا، نعیم الحق نے بطور اینکر میرا تعارف کروایا، میں نے ٹخنوں تک لمبی قمیض اوپر بلیک جمپر اور بلیو ٹراؤزر پہن رکھا تھا، میں نے لباس کا انتخاب سنجیدہ نظر آنے کو مد نظر رکھتے ہوئے کیا، تو آپ کہاں سے ہیں، میز کے دوسری طرف سے مسلسل گھورتے ہوئے سوال پوچھا گیا، برطانیہ سے، میں نے مختصر جواب دیا‘‘۔عمران خان سے شادی کے بعد کے واقعات کے حوالے سے کتاب میں لکھا گیا ہے کہ عید کے دن بنی گالہ میں عمران خان کے ساتھ بنائی گئی تصویر کے نیچے لکھا ہے کہ میرے بیٹے نے عمران خان کے گلے میں بازوڈالناچاہالیکن عمران پیچھے ہٹ گیا۔

واضح رہے کہ عمران خان کی سابق اہلیہ جمائما گولڈ اسمتھ نے بھی کتاب کے متن پر اعتراض اٹھاتے ہوئے ریحام خان کے خلاف عدالت جانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ اگر ریحام خان کی کتاب برطانیہ میں شائع ہوئی تو وہ ان پر ہتک عزت کا دعویٰ کریں گی۔پاکستان کے عام انتخاابت سے چند روز قبل اس کتاب کا منظر عام پر آنا اس بات کی جانب عکاسی کرتا ہے کہ اس میں بھی پوری سیاست شامل ہے اور عمران خان کی شبیہ خراب کرنے کی ایک کوشش کا حصہ ہو سکتی ہے لیکن عمران کی زندگی ہمیشہ سرخیوں میں رہی ہے۔

(کل اس کتاب کے کچھ اور دلچسپ حصہ پیش کئے جائیں گے)

سب سے زیادہ مقبول