ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان مفت تجارتی معاہدہ آج سے نافذ، ہندوستان آئے گا 20 ارب ڈالر کا سرمایہ

مفت تجارتی معاہدہ نافذ ہونے کے بعد توقع ہے کہ کپڑے، ملبوسات، چمڑے اور جوتوں جیسے محنت پر مبنی شعبوں کو 10 فیصد تک کے محصولات ختم ہونے سے فائدہ پہنچے گا۔

<div class="paragraphs"><p>نیوزی لینڈ کے وزیر اعظم لکسن اور ہندوستانی وزیر اعظم مودی، تصویر ’ایکس‘&nbsp;<a href="https://x.com/chrisluxonmp">@chrisluxonmp</a></p></div>
i

آج ہندوستان کی تجارتی تاریخ میں ایک نیا باب جڑ گیا۔ ہندوستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان طویل عرصہ سے زیر انتظار آزاد تجارتی معاہدہ (ایف ٹی اے) 20 اکتوبر سے نافذ العمل ہو گیا ہے۔ اس معاہدے کے تحت ہندوستانی برآمد کنندگان کو نیوزی لینڈ کی منڈی میں 100 فیصد کسٹم ڈیوٹی سے مستثنیٰ رسائی حاصل ہوگی۔ اس سے مائیکرو، اسمال اور میڈیم صنعتوں (ایم ایس ایم ایز)، خواتین کاروباریوں، کسانوں اور دست کاروں کے لیے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

اس معاہدے سے اگلے 15 برسوں کے دوران ہندوستان میں 20 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری آنے کی امید ہے، جس سے مینوفیکچرنگ، بنیادی ڈھانچے، زراعت اور اختراع کے شعبوں میں مواقع پیدا ہوں گے۔ دونوں فریقوں نے 2030 تک اشیا اور خدمات میں دوطرفہ تجارت کو دو گنا کر کے 7 ارب نیوزی لینڈ ڈالر (تقریباً 35 ہزار کروڑ روپے) تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس ہدف کو حاصل کرنے کے لیے تقریباً 18 فیصد کی مرکب سالانہ شرح نمو (سی اے جی آر) درکار ہوگی۔


توقع ہے کہ کپڑے، ملبوسات، چمڑے اور جوتوں جیسے محنت پر مبنی شعبوں کو 10 فیصد تک کے محصولات ختم ہونے سے فائدہ پہنچے گا۔ انجینئرنگ کے سامان، ادویہ سازی، مشینری، کیمیکلز اور زرعی مصنوعات کو بھی منڈی تک بہتر رسائی ملنے کی امید ہے۔ نیوزی لینڈ کے وزیر تجارت و سرمایہ کاری ٹوڈ میک کلی نے کہا کہ یہ معاہدہ اہم شعبوں کے برآمد کنندگان کے لیے نئے مواقع پیدا کرے گا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد نیوزی لینڈ کی ہندوستان کو ہونے والی موجودہ برآمدات کے 95 فیصد حصے کو محصولات کے خاتمے یا ان میں نمایاں کمی سے فائدہ پہنچے گا، جس سے ہمارے کئی اہم برآمدی شعبوں میں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔

نیوزی لینڈ کی بعض مصنوعات پر محصولات میں کمی کی گئی ہے۔ ان میں شہد، سیب، کیوی فروٹ، شراب، ادویہ سازی کی مصنوعات، پولیمر اور ایلومینیم جیسی اشیا شامل ہیں۔ ساتھ ہی تعلیم کے لیے نیوزی لینڈ جانے والے نوجوان ہندوستانیوں کو اب یقینی ورک ویزا فراہم کیا جائے گا، جس سے وہ ایک مقررہ مدت تک ملک میں تربیت حاصل کرنے کے ساتھ کام بھی کر سکیں گے۔ ہندوستان-نیوزی لینڈ معاہدہ کے تحت کارگو کی کسٹم کلیئرنس 48 گھنٹوں کے اندر، جب کہ ایکسپریس اور جلد خراب ہونے والی اشیا کی کھیپوں کی کسٹم کلیئرنس 24 گھنٹوں کے اندر مکمل کی جائے گی۔ اہل حیثیت رکھنے والے افراد اور اداروں کے لیے ڈیجیٹل سرٹیفکیشن اور قواعدِ منشأ کی خود تصدیق کا مقصد کارروائی میں ہونے والی تاخیر اور ضابطوں کی تعمیل پر آنے والی لاگت کو کم کرنا ہے۔


اس معاہدہ سے متعلق مرکزی وزیر پیوش گوئل نے کہا کہ ہندوستانی کسانوں کو پھلوں، سبزیوں، مصالحوں اور دیگر زرعی مصنوعات کے لیے وسیع تر منڈیوں تک رسائی حاصل ہوگی۔ اس کے ساتھ پیداوار میں بہتری، آمدنی بڑھانے اور روزگار کے ذرائع کو مضبوط بنانے کے لیے بھی تعاون کیا جائے گا۔ آزاد تجارتی معاہدے میں ملکی کسانوں کے تحفظ کے لیے ٹیرف ریٹ کوٹہ، کم از کم درآمدی قیمت اور دیگر حفاظتی اقدامات کے ذریعے نیوزی لینڈ کے سیب، کیوی فروٹ اور مانوکا شہد کو متوازن انداز میں ہندوستانی منڈی تک رسائی فراہم کی گئی ہے۔ اس معاہدے میں سیب، کیوی فروٹ اور شہد کی پیداوار میں بہتری، ٹیکنالوجی کے استعمال اور سپلائی چین کو مضبوط بنانے پر مرکوز زرعی تعاون کے اقدامات بھی شامل ہیں۔

معاہدے کے تحت ہندوستان اور نیوزی لینڈ زرعی پیداوار میں اضافے کے لیے شراکت داری شروع کریں گے۔ اس اقدام کے ذریعے نیوزی لینڈ کی جدید اور مخصوص زرعی طریقوں، یعنی پریسیژن ایگریکلچر، اور متعلقہ ٹیکنالوجیز میں مہارت سے فائدہ اٹھا کر ہندوستان کے زرعی نظام کو مختلف شعبوں میں بہتر بنایا جائے گا۔ ہندوستان نے ڈیری مصنوعات، پیاز، چینی، چنا، مٹر، مکئی، بادام، مختلف اقسام کی چکنائی اور تیل، جواہرات و زیورات، ایلومینیم، تانبا، ہتھیار اور گولہ بارود کو اس معاہدے سے باہر رکھا ہے۔


وزارت تجارت کے سکریٹری راجیش اگروال نے کہا کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا مقصد محض منڈی تک رسائی حاصل کرنا اور ایک دوسرے کو زیادہ برآمدات کرنا نہیں ہے، بلکہ توجہ ایک مضبوط اور پائیدار اقتصادی شراکت داری قائم کرنے پر ہے۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ نیوزی لینڈ کی 60 سے 70 فیصد تجارت ایشیا بحرالکاہل خطے میں مرکوز ہے، جہاں کئی بڑی معیشتوں کے اس ملک کے ساتھ ہندوستان کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تجارتی تعلقات ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔