آج سے 6 ممالک کے دورے پر وزیر خارجہ ایس جے شنکر، دوطرفہ تعلقات کو ملے گی مضبوطی
وزارت خارجہ نے بتایا کہ ’’ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ ان ممالک کے دورے کے دوران، وہ اپنے ہم منصبوں اور وہاں کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔‘‘

وزیر خارجہ ایس جے شنکر 5 سے 15 جولائی تک قطر، بحرین، کویت، عمان، نیویارک اور برسلز کا دورہ کریں گے۔ وزارت خارجہ نے ہفتہ (4 جولائی) کو اس دورے کا اعلان کیا۔ وزارت خارجہ کے مطابق ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے دورے پر رہیں گے۔ اس سفر کا بنیادی مقصد ان چاروں ممالک کے ساتھ دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرنا ہے۔
وزارت خارجہ نے بتایا کہ ’’وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر 5 سے 10 جولائی تک قطر، بحرین، کویت اور عمان کے سرکاری دورے پر رہیں گے۔ ان ممالک کے دورے کے دوران، وہ اپنے ہم منصبوں اور وہاں کی قیادت سے ملاقات کریں گے۔ اس دورے کا بنیادی مقصد ان چاروں ممالک کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات کو بہتر بنانے پر ہوگا اور ساتھ ہی علاقائی صورتحال اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلۂ خیال کا موقع بھی ملے گا۔‘‘
اس کے بعد وزیر خارجہ 13 جولائی کو نیویارک جائیں گے، جہاں وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل (یو این ایس سی) کے 29-2028 کی مدت کار کے لیے ہندوستان کی سرکاری مہم کا آغاز کریں گے۔ پھر وہ 15-14 جولائی کو برسلز میں تیسری ہندوستان-یورپی یونین (ای یو) تجارتی و ٹیکنالوجی کونسل (ٹی ٹی سی) کے اجلاس میں شرکت کریں گے اور یورپی یونین اور بلجیم میں اپنے ہم منصبوں سے بات چیت کریں گے۔
مرکزی وزیر پیوش گوئل نے ہفتے کے روز بتایا کہ مرکزی وزیر برائے ریلوے، اطلاعات و نشریات، الیکٹرانکس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی اشونی ویشنو بھی تیسری ہندوستان-یورپی یونین تجارتی و ٹیکنالوجی کونسل کے اجلاس میں شرکت کے لیے برسلز جائیں گے۔ یہ اجلاس حال ہی میں مکمل ہونے والے ہندوستان-یورپی یونین آزاد تجارتی معاہدے (ایف ٹی اے) کو مزید مضبوط کرے گا اور اس کے نفاذ میں مددگار ثابت ہوگا۔
17ویں ’ٹائے بج انٹرنیشنل بی2بی ایکسپو‘ کے دوران صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مرکزی وزیر نے کہا کہ ہم سب یورپی کمیشن کے ساتھ ملاقات کے لیے جا رہے ہیں۔ گوئل نے مزید کہا کہ ’’ہماری کوشش ہے کہ یہ اجلاس اس آزاد تجارتی معاہدے کا مددگار بنے جسے ہم نے حتمی شکل دی ہے۔ اس سے ہمیں معاہدے کی باریکیوں کو درست کرنے اور مستقبل میں ایف ٹی اے کو نافذ کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے میں آسانی ہوگی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ٹی ٹی سی مذاکرات سے تجارت، ٹیکنالوجی اور مضبوط سپلائی چین جیسے اہم شعبوں میں ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان تعاون مضبوط ہونے کی امید ہے، ساتھ ہی اس سے ایف ٹی اے کے مؤثر نفاذ میں بھی مدد ملے گی۔
